برقع حریدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ماہ شعریم، یروشلم میں فرقے کی ایک خاتون۔

برقع حریدی (عبرانی : נשות השָאלִים، ”نشوت ہشالیم“ بمعنی شال اوڑھے ہوئی عورت) اسرائیل میں موجود حریدی یہود کا ایک فرقہ ، جن کا دعوی ہے کہ عفت و عصمت کے نقطہ نظر سے عورت کا مکمل جسم برقع سے ڈھکا ہوا ہونا چاہیے، ایک شال (جمع شالیم) اور چہرہ چھپانے کے لیے ایک نقاب یا گھونگٹ برقع حریدی کے لوازمات ہیئت ہیں۔ ایک ملبوس جس کہ شبیہ برقع کی نسبت نقاب سے قریب تر ہے بھی برقع اور فرُمکا کہلاتا ہے۔ فرُمکا کا مادہ یِدش زبان کا لفظ فرُم ہے جس کے معنی پا رسائی ، راسخ المذہب اور تقدیس کے لیے جاتے ہیں۔ اس فرقے کے لوگ جن کی آبادی کا تخمینہ 2008ء میں 100 افراد اور 2011ء میں کئی سو افراد لگایا گیا تھا، اسرائیل کے قصبے بیت شمس میں رہائش پزیر ہیں۔

یہ مسئلہ حریدی طبقوں میں متنازع فیہ اور باعث تکرار ثابت ہوا ہے۔ جیسا کہ کچھ حریدی تنظیموں نے چہرہ ڈھانپنے اور نقاب پر تنقید کی ہے جس میں مذہبی تنظیم عدہ حردیت بھی شامل ہے۔

تاریخ[ترمیم]

فرُمکا حریدی خواتین کا ایک طرز لباس تھا جس کی ترویج و ترغیب ایک سخت گیر مذہبی رجحانات رکھنے والی اسرائیلی مذہبی راہنما بروریا کیرن نے دی تھی۔ بروریا کیرن نے نسوانی معاملات پر انتہائی سخت اور مقید تشریحات کی تھیں۔ کیرن جو بذات خود کپڑوں کی کئی ایک تہوں میں لپٹی رہتی تھی یہ دعوی کرتی تھی کہ عورت کا مکمل ڈھکا ہوا ہونا ہی اصل یہودی روایت ہے اور یہ کہ اس نے ایک یہودی عورت کی چار سو سال قدیم تصویر دیکھی تھی جس میں وہ سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی تھی۔ کئی ایک سفاردک (ہسپانوی اور پرتگیزی النسل یہودی) خواتین نے بھی بتایا کہ ان کی مائیں ان کے جسموں کو مکمل طور پر ملبوس کر دیتی تھیں تاکہ ان کے جسمانی خد و خال واضح نہ ہو پائیں۔ فرقے کی ایک عورت سے یہ وضاحت طلب کی جا سکتی ہے کہ آیا وہ عصمت و عفت کے ان اصولوں کی پاسداری کر رہی ہے اور وہ خود کو مردوں سے اور مردوں کو خود سے بچا رہی ہے۔ کیونکہ اگر مرد کسی عورت کے جسمانی خدوخال دیکھے گا تو جنسی طور پر راغب ہو گا اور اس سے گناہ سرزد ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ و جسمانی طور پر ایسا نہ بھی کرے پھر بھی اس کے خیالات مائل بہ گناہ ہوں گے۔[1] کیرن کے معتقدین اپنی چھوٹی بچیوں کو بھی مکمل طور پر بالغ خواتین کی طرح پردہ کراتے ہیں یہاں تک کہ ان کی خواتین گھر پر بھی چہرہ کھلا نہیں رکھتیں۔ اس مذہبی گروہ کی تعداد کا اندازہ 2008 میں ایک سو افراد اور 2011 میں کئی سو افراد تھا[1] کی زیادہ آبادی بیت شمش میں ہے لیکن اس کے معتقدین صفد اور یروشلم میں بھی ہیں۔ خواتین کی زیادہ تعداد سیکولر پس منظر سے ہے۔[1][2]

دیگر عقائد[ترمیم]

بروریا کیرن مردوں کے سامنے بات نہیں کرتی۔ دوران قید اس نے اکثر بار حکام کی طرف سے فراہم کیے گئے کھانے کو رد کر دیا جس سے اس کی طبیعت خراب ہو گئی اور اسے بارہا اسپتال لے کر جانا پڑا۔ یہ لوگ ویکسینیشن اور علاج کو نہیں مانتے۔ کئی خواتین بچوں کو اسپتال جا کر جنم اس لیے نہیں دیتیں کہ مرد طبیب انہیں ہاتھ لگائیں گے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Akiva Novick:'Taliban women': A cover story Ynet, 02.06.11.
  2. Matthew Wagner (March 27, 2008). "Beit Shemesh 'Burka' cult unveiled". Jerusalem Post. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 اگست 2018. 
  3. Israel: Taliban Mom Set to be Released on Sunday The Yeshiva World News, June 6, 2012.