مندرجات کا رخ کریں

برق بلا خیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
انتقام
برق بلا خیز
’وینڈیٹا!‘ کی ایک ابتدائی اشاعت کا سرورق
مصنفمیری کوریلی
اصل عنوانVendetta!
مترجممنشی امجد حسین خاں
مظہر الحق علوی (بعنوان برق بلا خیز)
ملکمملکت متحدہ
زبانانگریزی
صنفرومانوی ناول
ناشرجارج بنٹلی
تاریخ اشاعت
1913ء (خاں)
1990ء (علوی)
تاریخ اشاعت انگریری
اگست 1886ء
طرز طباعتپرنٹ (مجلد)
ریختہ ای بکسانتقام (حصہ دوم)
برق بلا خیز

برق بلا خیز“ (اصل عنوان: ’وینڈیٹا!‘) میری کوریلی کا 1886ء میں شائع شدہ رومانوی ناول ہے۔ یہ میری کا دوسرا ناول تھا۔ کہانی ایک اطالوی کاؤنٹ (نواب) کے گرد گھومتی ہے جو غلطی سے مردہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ واپس آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے سب سے اچھے دوست کے ساتھ رومانوی تعلق میں ہے اور وہ دونوں سے انتقام لینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ناول قارئین میں کافی مقبول ہوا لیکن نقادوں نے اسے معمولی یا کم دلچسپی کے ساتھ سراہا۔

خاکہ

[ترمیم]

ناول ”برق بلا خیز“ راوی ’فابیو رومانی‘ کی زبانی بیان کیا گیا ہے جو ایک اطالوی نواب ہے اور اس ناول کا مرکزی کردار ہے۔ کہانی شروع ہوتی ہے نیپلز میں ہیضے کی وبا کے وقت جب رومانی کو غلطی سے مردہ قرار دے دیا جاتا ہے اور اوپر زمین پر بنی خاندانی قبر میں تابوت میں رکھ دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ جاگ جاتا ہے اور تابوت سے فرار حاصل کر لیتا ہے۔ قبر کے اندر وہ لُٹیرے ’کارمیلو نیری‘ اور اس کے گروہ کے چھپائے ہوئے قیمتی خزانے کو بھی دیکھتا ہے۔ گھر واپس آنے پر رومانی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیوی ’نینا‘ اور اس کا سب سے اچھا دوست ’جیدو فیراری‘ طویل عرصے سے رومانوی تعلق میں ہیں اور اس کی موت پر کوئی دکھ نہیں منا رہے۔

انتقام لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے رومانی ایک امیر اور معزز شخص ”سیزر اولیوا“ کا نیا روپ اختیار کرتا ہے۔ نینا اپنے شوہر کو اس کے سفید بال اور پر سیاہ چشمے کی وجہ سے پہچان نہیں پاتی۔ بعد میں جیدو تلوار بازی مقابلے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر جاتا ہے۔ رومانی (عرف اولیوا) نینا سے شادی کی تجویز پیش کرتا ہے۔ شادی کے دن وہ اپنی اصل شناخت نینا کے سامنے ظاہر کرتا ہے اور بدقسمتی سے نینا زلزلے میں گرنے والی چٹان کے تلے دب کر ہلاک ہو جاتی ہے۔

اشاعت

[ترمیم]

میری کوریلی کے ناشر جارج بنٹلی نے انھیں مشورہ دیا کہ ان کے دوسرے ناول میں وہ مافوق الفطرت موضوعات شامل نہ کیے جائیں جو ان کے پہلے ناول ’اے رومانس آف ٹو ورلڈز‘ میں موجود تھے۔

میری نے اپنا ناول ’وینڈیٹا!‘ جارج بنٹلی کو 8 مارچ 1886 کو بھیجا یعنی اپنے پہلے ناول کی اشاعت کے صرف دو ہفتے بعد۔ بنٹلی کہانی سے خوش ہوئے البتہ انھوں نے مشورہ دیا کہ کچھ حصوں کو مختصر کیا جائے۔ انھوں نے ناول کا عنوان ”وینڈیٹا“ رکھا جبکہ میری کا اصل انتخاب ”بُورِیڈ الائیو“ (زندہ درگور) تھا۔[1] میری نے 19 جولائی کو بنٹلی کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت انھیں فوراً 50 پاؤنڈ ملے اور مزید 50 پاؤنڈ اس صورت میں دیے جانے تھے جب 550 کاپیاں فروخت ہو جاتیں۔ انھوں نے یہ کتاب مشہور اداکار ولسن بیریٹ کے نام معنون کی۔ ناول اگست 1886 میں شائع ہوا۔[2]

قبولیت

[ترمیم]

نقاد عام طور پر ’وینڈیٹا!‘ کو دلچسپ مگر سنجیدہ نہ کہنے کے قابل قرار دیتے تھے۔ اخبار ’دی ورلڈ‘ نے اسے ”خالص اور بے ساختہ میلو ڈراما“ قرار دیا۔[2] ناقد جارج سالا نے ’اِلسٹریٹِڈ لَنڈن نیوز‘ میں ناول کے بارے میں لکھا:

”میں وینڈیٹا! پڑھ رہا ہوں، سر پر گیلا کپڑا اور پیروں میں برف والا اور کامفری والا پانی رکھا ہوا ہے؛ لیکن مجھے ڈر ہے کہ جیسے ہی میں سِنیورا یا سِنیورینا کوریلی کے اس ہَول ناک رومان کے آخر تک پہنچوں گا، سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ہو سکتا ہے انسانی لہو، نیپلز، ہیضہ، شادی (اور بہت زیادہ شادیاں)، حسد، اسٹیلٹو (چھوٹا چُھرا) اور وہ خاموش قبر جہاں لُٹیروں نے اپنے خزانے دفن کیے ہیں، سب ایک ساتھ نمودار ہو جائیں! میں کانپ رہا ہوں پھر بھی پڑھنا جاری رکھتا ہوں بالکل اسی طرح جیسے بچپن میں میں ’مسٹریز آف اوڈلفو‘ پڑھ کر کانپ اٹھتا تھا۔“[3]

ناول قارئین میں بے حد مقبول ہوا۔ 1910ء تک یہ ناول سینتیسویں بارہ شائع ہوا اور اس کا ناشر میتھوئن تھا جو اس وقت میری کوریلی کا بنیادی ناشر بن چکا تھا۔[4]

اردو تراجم

[ترمیم]

ناول ’وینڈیٹا!‘ کا ترجمہ منشی امجد حسین خاں نے دو جلدوں میں ”انتقام“ کے نام سے کیا اور 1913ء میں سیوک اسٹیم پریس، لاہور میں چھپ کر شائع ہوا۔ اس کا ایک اردو ترجمہ مظہر الحق علوی نے ’برقِ بلا خیز‘ کے عنوان سے کیا اور یہ پہلی بار سنہ 1990ء میں نسیم بک ڈپو لکھنؤ سے شائع ہوا۔[ار 1]

اخذ

[ترمیم]
1914ء کی خاموش فلم ’وینڈیٹا!‘ کا اشتہاری پوسٹر جس میں فابیو رومانی کو رومانی خاندان کے مقبرے مین تابوت سے باہر نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اداکارہ اور پروڈیوسر للی لینگٹری نے بظاہر کہانی کو اسٹیج پر پیش کرنے پر غور کیا جس میں وہ خود نینا کا کردار ادا کرنے والی تھیں لیکن یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔[5] 1900ء میں آسٹریلیا میں ڈبلیو جے لنکن نے اس کہانی پر مبنی تھیٹر پیش کیا، جس کا عنوان ’دی پاور آف ویلتھ‘ (پیسے کی طاقت) تھا۔

ناول کو 1914ء میں خاموش فیچر فلم کی شکل میں ڈھالا گیا، جس کا نام ناول کے مطابق ’وینڈیٹا!‘ رکھا گیا۔ یہ فلم فرانسیسی اسٹوڈیو اسٹوڈیو ایکلِپس نے تیار کی اور رینے ہروِل اور لوئیس مرکانٹن نے ہدایت کاری کی۔ امریکا میں اس کی تقسیم جارج کلائین نے کی۔[6] اس کے علاوہ سنہ 1929ء میں جرمنی میں بھی ایک خاموش فلم ’سرکَمسٹینشل ایویڈنس‘ کے عنوان سے اس کہانی پر مبنی بنائی گئی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
اردو
  1. مظفر حنفی (1990)۔ وضاحتی کتابیات (پہلا ایڈیشن)۔ نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان۔ ج 13۔ ص 172
انگریزی
  1. Masters (1978), p. 61-63.
  2. ^ ا ب Masters (1978), p. 66.
  3. The Madonna of a Day: A Study (بزبان انگریزی). Bentley. 1896. Bentleys' Favourite Novels page 17.
  4. Waller (2006), p. 773.
  5. Waller (2006), p. 787.
  6. "Marie Corelli's "Vendetta" has been filmed by the Eclipse Company of Paris and will be released in this country by George Kleine. The story has been produced in five reels". New York Dramatic Mirror (بزبان انگریزی). 17 Jun 1914. p. 31.

کتابیات

[ترمیم]
  • Brian Masters [انگریزی میں] (1978). Now Barabbas Was a Rotter: the Extraordinary Life of Marie Corelli (بزبان انگریزی). London: H. Hamilton.
  • Philip Waller (2006). Writers, Readers, and Reputations: Literary Life in Britain 1870-1918 (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN:978-0-19-820677-4.