برکت اللہ مارہروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عالمِ دین
برکت اللہ مارہروی
پیدائش 8 مارچ 1660ء
وفات 5 اگست 1729ء
نسل مسلم
شعبۂ زندگی جنوبی ایشیاء
مذہب اسلام
فقہ حنفی
مکتب فکر سنی
شعبۂ عمل تصوف

سید برکت اللہ مارہروی(8 مارچ 1660ء تا 5 اگست 1729ء) سلسلہ قادریہ کے تینتیسویں امام اور شیخ تھے۔ آپ کے القابات سلطان العاشقین اور صاحب البرکات ہیں۔ آپ کی پیدائش 26 جمادی الثانی 1070ہجری کو بلگرام میں ہوئی۔ ان کا وصال 10 محرم 1142 ہجری کو ہوا۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید شاہ اویس تھا جو ایک عظیم ولی اللہ تھے۔[1][2]

خاندانی تاریخ[ترمیم]

ان کے جد امجد ابوالفرح ہندوستان منتقل ہوئے تھے۔ ان کے وصال کے بعد ان کے پوتے سید شاہ محمد صغریٰ ہندوستان تشریف لائے۔ سلطان شمس الدین التمش ان کی بہت عزت کی اور انہیں بلگرام کے راجا کے برابر فوج دے کر شہر کو فتح کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے بلگرام شہر کو فتح کیا۔ وہاں انہوں نے اسلام کے جھنڈے کو مضبوطی سے گاڑتے ہوئے بہت سے لوگوں کے دل اسلام کی طرف پھیر دیے۔ سلطان التمش ان سے بہت خوش ہوئے اور بلگرام انہیں ایک جاگیر کے طور پر دے دیا۔ بھر فاتح بلگرام، سید شاہ محمد صغریٰ نے اپنے بقیہ خاندان کو بھی بلگرام بُلا لیا۔[1]

تعلیم[ترمیم]

سید شاہ برکت اللہ ایک علم دوست گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لہٰذا انہیں حصول علم کے لیے سفر کرکے کہیں دور نہ جانا پڑا بلکہ انہوں نے اپنے والد سید شاہ اویس کی نگرانی میں تفسیر، حدیث،اورعلم الحدیث، فقہ اور اصول الفقہ جیسے علوم سیکھے۔[1]

مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

بیعت[ترمیم]

تعلیم کے بعد آپ کے والد نے آپ کو کئی سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا۔ آپ نے سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی سے بھی روحانی فیض حاصل کیا۔[3]

عبادت و ریاضت[ترمیم]

انہوں نے 26 سال تک روزہ رکھا وہ سارا دن روزہ رکھتے اور افطار کے وقت صرف ایک کھجور کھاتے۔ وہ راتوں کو جاگ کر اللہ عزوجل کی عبادت کرتے۔ آپ فجر کی نماز کے بعد سے لے کر نمازِ اشراق تک وظائف میں مشغول رہتے۔ وہ نمازِ چاشت کے وقت مدرسہ جایا کرتے اور وہاں موجود طلبہ اور عقیدت مندوں کو علم سے سیراب فرماتے۔ ان کا ایک معمول یہ تھا کہ وہ نمازِ ظہر کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کا آغاز کرتے اور عصر کی اذان سُن کر تلاوت روک دیتے۔ عصر سے مغرب کے دوران وہ سالکین طریقت کی روحانی پیاس بجھاتے۔[1]

سلسلہ برکاتیہ[ترمیم]

سلسلہ برکاتیہ مکمل مضمون

شہید علامہ اسید الحق قادری بدایونی لکھتے ہیں، ’’صاحب البرکات سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی نے باقاعدہ مارہرہ میں سکونت اختیار کی اور رشد و ہدایت کے لیے خانقاہ کی بنیاد ڈالی، یہی خانقاہ آج پورے عالم میں خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے نام سے جانی جاتی ہے- یوپی کا یہ گمنام قصبہ صاحب البرکات کی نسبت اور ان کے فیض سے آج طریقت و معرفت اور رشد و ہدایت کی علامت بن گیا ہے۔‘‘ [4] اس خانقاہ سے بیعت مشائخ اور خلفاء کے سلسلے کو برکاتیہ کہا جانے لگا۔ اور قادری برکاتی لکھا جانے لگا۔ دراصل یہ سلسلہ عالیہ قادریہ ہی ہے اس خانقاہ کے مریدوں میں سے ایک عظیم عالمِ دین اور صوفی، امام اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا مولوی احمد رضا خان اپنے علمی اور تحقیقی کام کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ وہ اپنے مُرشد خانے کا بہت احترام کرتے تھے۔[5]

شعر و ادب[ترمیم]

سید برکت اللہ مارہروی کو شعر و ادب سے بھی لگاؤ تھا۔ وہ عربی اور فارسی کے علاوہ اردو (ہندوی، ریختہ) اور سنسکرت پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ عربی میں ’’عشقی‘‘ اور ہندی میں ’’پیمی‘‘ تخلص فرماتے تھے۔[6]

مزار[ترمیم]

آپ کا مزار مارہرہ شریف میں ہے۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]