برکت علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
استاد برکت علی خان
معلومات شخصیت
پیدائش 1905ء
قصور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات جون 19، 1963(1963-06-19)ء
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ گلو کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت گلوکاری
کارہائے نمایاں
  • آہ کو چاہیے اک عمر اَثر ہونے تک
  • دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
  • ہستی اپنی حباب کی سی ہے
  • باغوں میں پڑے جھولے
  • اِک غم کے سوا اس دنیا میں
صنف کلاسیکل، دھرپد، خیال، دادرا، ٹھمری، ، غزل، گیت

استاد برکت علی خان (پیدائش: 1905ء - وفات: 19 جون، 1963ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے موسیقی کے مشہور پٹیالہ گھرانے کے نامور کلاسیکی گائیک تھے۔ وہ استاد علی بخش خان قصوری کے فرزند اور استاد بڑے غلام علی خان کے چھوٹے بھائی تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

استاد برکت علی خان 1905ء کو قصور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے[1][2]۔ استادبرکت علی خان نے موسیقی کی تعلیم اپنے والد علی بخش خان قصوری سے حاصل کی تھی۔ وہ ٹھمری، دادرا، غزل، گیت اور ماہیا گانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ ان کی آواز میں اتنا درد، لوچ، لچک اور رسیلاپن تھا کہ سننے والے وجد میں آجاتے تھے۔ 1940ء کی دہائی میں انہیں جنوبی ایشیا میں غزل گائیکی کا بے تاج بادشاہ تصور کیا جاتا تھا[2]۔ انہوں نے غزل گائیکی کو نئی جہت بخشی ،انہوں نے کلاسیکل گلوکاری میں نہ صرف شہرت حاصل کی بلکہ گلوکاری کے میدان میں جوہر دکھانے والوں نے آپ کے فن کی پیروی بھی کی[1]۔ ان کے انداز کی پیروی کی جن میں سب سے بڑا نام موجودہ عہد کے نامور غزل گائیک غلام علی کا ہے جو خود بھی استاد برکت علی خان کے شاگرد ہیں۔[2]

وفات[ترمیم]

استاد برکت علی خان 19 جون، 1962ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]