بریلوی مکتبہ فکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بریلوی مسلک سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی
DargahAlahazrat.jpg

اہم شخصیات

فضل حق خیر آبادی · رضا علی خان
سید کفایت علی کافی ·
نقی علی خان
امام احمد رضا خان
جماعت علی شاہ محدث ·
سید جماعت علی شاہ ثانی
امجد على اعظمى ·
پير مہر علی شاہ
نعیم الدین مراد آبادی ·
عبد العلیم صدیقی
مصطفی رضا خان ·
مفتی احمد یار خاں نعیمی
مفتی غلام جان قادری ·
یار محمد بندیالوی
محمد سردار احمد قادری ·
حامد رضا خان
ارشد القادری ·
احمد سعید کاظمی
صاحبزادہ فضل کریم ·
محمد شفیع اوکاڑوی
سید شجاعت علی قادری ·
قمر الزمان اعظمى
قاری غلام رسول ·
شہید محمد سلیم قادری
حسن رضا خان ·
مفتی محمد امین
مولانا شاہ احمد نورانی ·
محمد اختر رضا خان قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری ·
ابو البرکات احمد
سرفراز احمد نعیمی شہید ·
عبدالقیوم ہزاروی
فیض احمد اویسی ·
محمد ارشد القادری
مفتی منیب الرحمان ·
اشرف آصف جلالی
محمد اسحاق جان سرہندی ·
قاری سید صداقت علی
محمد الیاس قادری ·
محمد عمران عطاری
کوکب نورانی اوکاڑوی ·
راغب حسین نعیمی


اہم ادارے

جامعہ رضویہ منظر اسلام, بھارت
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان
فیضان مدینہ، پاکستان
جامعہ اسلامیہ لاہور, پاکستان
جامعہ اسلامیہ رضویہ, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ شیخوپورہ, پاکستان
جامعہ نعیمیہ لاہور, پاکستان
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان

تحریکیں

جنگ آزادی ہند 1857ء
آل انڈیا سنی کانفرنس
جمیعت علمائے پاکستان
تحریک ختم نبوت
دعوت اسلامی
تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی دعوت اسلامی
سنی تحریک
ورلڈ اسلامک مشن


جنوبی ایشیاء خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں مسلک اہلسنت و الجماعت یا اہلِ سُنت والجماعت کو امام احمد رضا خان کی مناسبت سے بریلوی مسلک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ عالمی مذاہب کی اجمالی آکسفورڈ ڈکشنری (مطبوعہ سن 2000ء) کے مطابق اس مکتبہ فکر کے ماننے والے بھارتی اور پاکستانی مسلمانوں کی تعداد 200 ملین سے زیادہ ہے۔دارالعلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی قادری صوفی بزرگ، امام احمد رضا (متوفیٰ 1921ء) نے 1904ء میں قائم کیا۔[1] دی آکسفورڈ ڈکشنری آف اسلام (مطبوعہ2003ء) کے مطابق "اہل سنت والجماعت" پیغمبر اسلام کے طریق اور صحابہ کرام والی جماعت ہے، اس کے علاوہ ان کو بریلوی کہا جاتا ہے، جو شمالی بھارت میں 1880ء سے قائم اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کی تحریروں پر مبنی ہے۔ وہ خود کو جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مسلمانوں کے وارث مانتے ہیں۔ انہوں نے (اہل سنت والجماعت نے) 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی، مغلیہ سلطنت کی مکمل تحلیل اور سلطنتِ برطانیہ کے ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام کے ردعمل میں تحریک پکڑی۔ اور یہ موضوع اسلامی قانونی علماء کرام (فقہا کرام) کے درمیان مذہبی بحث کا حصہ بن کر ابھرا کہ ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے کیا مسلم شناخت استعمال کی جائے اور کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ یہ مکتبہ فکرحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ذاتی لگن، صوفی طریقوں کی وابستگی اور اسلامی قانون کی حاکمیت پر زور دیتا ہے۔ اس جماعت نے 1947ء سے، بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کے لیے سیاست میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ جب یہ تحریک شروع ہوئی تو ایک دیہی مقبولیت کا تاثر تھا لیکن اس وقت بھارتی اور پاکستانی شہری تعلیم یافتہ طبقے میں مقبول ہے۔[2]

تاریخ

اہلسنت والجماعت کے اکابرین نے 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف بہت فعال کردار ادا کیا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے ساتھی مفتی صدر الدین خان آزردہ، سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علماء نے دہلی کی جامع مسجد سے بیک وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا جس کے نتیجے میں مسلمان اس جنگ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لڑے۔ [3][4][5][6][7][8][9][10] 17، 18 اور 19 مارچ 1925کو مراد آباد میں پہلی آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔[11][12] 1945ء -1946ء میں اہلسنت کے علماء و مشائخ نے تاریخی آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں منعقد کی اور تحریکِ پاکستان کی مکمل حمایت کرنے کے لئے سنی علماء کرام نے شرکت کی۔ محدث کچھوچھوی صدر آل انڈیا بنارس کانفرنس سید اشرفی جیلانی اہل سنت کے بہت بڑے رہبرورہنما تھے۔ [13] [14] کرسٹوف اپنی کتاب پاکستان اور اس کے ماخذ کی تاریخ میں لکھتا ہے کہ بریلوی علماء، تحریکِ پاکستان کے روحِ رواں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے 1948ء میں جمیعت علمائے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ [15]


اس مسلک کا اہم طرہ امتیاز درود و سلام ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شدید تر محبت اور ادب و تعظیم کو ایمان کا جزو لازم قرار دیا جاتا ہے۔ مزید برآں حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی ذاتِ مبارکہ کے ادب و تعظیم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و توصیف کو باعثِ سعادت و برکت قرار دیا جاتا ہے، بریلوی مسلک کو مسلک اعلٰی حضرت بھی کہا جاتا ہے ہیں اور اسے اہلسنت کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔

دیگر عقائد و معمولات

عقیدہ نور و بشر

بریلوی مسلک کے حامل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو افضل البشر قرار دینے کے ساتھ ساتھ آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی نورانیت کے بھی قائل ہیں۔ حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے نور ہونے کے سلسلے میں بیشتر قرآنی آیات و احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمانا ( يَا جَابِرُ، اِنَّ اﷲَ تَعَالَي قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْاَشْيَاءِ نُوْرَ نَبِيِکَ مِنْ نُورِہِ ۔ اے جابر اللہ تعالٰی نے ہر تخلیق سے پہلے میرے نور کو اپنے نور ( کے فیض) سے بنایا) [16]

عقیدہ حیاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم

انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں ، جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں (إنّ اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیاء علیہم السلام فنبي اللہ حي یرزق۔ ابن ماجہ)، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں، تصدیقِ وعدہ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زندہ ہوگئے، اُن کی حیات، حیاتِ شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے[17] انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کی موت محض ایک آن کو تصدیق وعدہ الہٰیہ کے لئے ہوتی ہے، پھر وہ ویسے ہی حیاتِ حقیقی دنیاوی و جسمانی سے زندہ ہوتے ہیں جیسے اس سے پہلے تھے، زندہ کا دوبارہ تشریف لانا کیا دشوار؟ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: اَلْاَ نْبِیاءُ اَحْیاء فِیْ قُبُوْرِھِمْ یصلُّوْنَ : انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں، نماز پڑھتے ہیں[18]۔

عقیدہ شفاعت

روزِ قیامت تمام انبیاء، اولیاء وعلماء علیہم الصلوٰۃ والثناء شفا عت فرمائیں گے ، ان کی شفاعت حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وس آلہ و سلم کی بارگاہ میں ہو گی۔ بارگاہِ عزت (عَزَّوَجَلَّ) میں شفاعت فرمانے والے صرف حضور ہیں۔صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم ۔ولہٰذا جامع ترمذی کی حدیث میں ارشاد ہوا (اَنَا صَاحِبُ شَفَاعَتِہِمْ وَلَا فَخْرَ) شفاعتِ انبیاء کا صاحب میں ہوں اور یہ کچھ براہِ فخر نہیں فرماتا ۔ (ملخصًا،مسند احمد، الحدیث۲۱۳۱۳، ج۸، ص۵۳)[19] عقیدہ (۴۲): قیامت کے دن مرتبہ شفاعتِ کبریٰ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی، بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کے دربار میں شفاعت لائیں گے اور اﷲ عزوجل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) شفیع ہیں اور یہ شفاعتِ کُبریٰ مومن، کافر، مطیع، عاصی سب کے لیے ہے، کہ وہ انتظارِ حساب جو سخت جانگزا ہوگا، جس کے لیے لوگ تمنّائیں کریں گے کہ کاش جہنم میں پھینک دیئے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اِس بلا سے چھٹکارا کفّار کو بھی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کی بدولت ملے گا، جس پر اوّلین و آخرین، موافقین و مخالفین، مؤمنین و کافرین سب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کی حمد کریں گے، اِسی کا نام مقامِ محمود ہے اور شفاعت کے اور اقسام بھی ہیں، مثلاً بہتوں کو بلاحساب جنت میں داخل فرمائیں گے، جن میں چار اَرَب نوے کروڑ کی تعداد معلوم ہے، اِس سے بہت زائد اور ہیں، جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کے علم میں ہیں، بہُتیرے وہ ہوں گے جن کا حساب ہو چکا ہے اور مستحقِ جہنم ہوچکے، اُن کو جہنم سے بچائیں گے اور بعضوں کی شفاعت فرما کر جہنم سے نکالیں گے اور بعضوں کے درجات بلند فرمائیں گے اور بعضوں سے تخفیفِ عذاب فرمائیں گے۔ عقیدہ (۴۳): ہر قسم کی شفاعت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کے لیے ثابت ہے۔ شفاعت بالو جاہۃ، شفاعت بالمحبۃ، شفاعت بالاذن، اِن میں سے کسی کا انکار وہی کرے گا جو گمراہ ہے۔ عقیدہ (۴۴): منصبِ شفاعت حضور کو دیا جا چکا، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : أُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ، اور ان کا رب فرماتا ہے وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ مغفرت چاہو اپنے خاصوں کے گناہوں اور عام مؤمنین و مؤمنات کے گناہوں کی۔ شفاعت اور کس کا نام ہے...؟ 'اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا شَفَاعَۃَ حَبِیبِکَ الْکَرِیْمِ[20]

عقیدہ شاہد و ناظر

اسی طرح بریلوی مسلک کے حامل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمہ جہت شاہد و ناظر ہونے پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دنیا میں عالم غیب کو دیکھ کر اطلاع دی اور اسی طرح بعد از وصال بھی آپ علیہ الصلوۃ و السلام تمام احوال سے باعلم ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف آیات قرآنی و احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے جیسا کہ ( يَا أَيُّھَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاھِدًا - اے نبی ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو شاہد بنا کر بھیجا) [21]
رسول اکرم کے حاضر و ناظر ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ اپنی قبر انور میں جسم کے ساتھ باحیات ہیں اور اللہ کی عطا کردہ قوت سے دور و نزدیک کی آوازوں کو سنتے ہیں اور اپنی امت کے اعمال واحوال کا مشاہدہ فرماتے ہیں یا یہ کہ روحانی طور پر یا جسم مثالی کے ساتھ آن واحد میں سینکڑوں کلو میٹر کی دوری سے مدد کیلئے پہنچنے پر قادر ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرح حاضر و ناظر نہیں اللہ اپنے علم ازلی اور قدرت کے اعتبار سے ازل سے از خود حاضر ہےاور اللہ کے رسول اللہ کے عطا کردہ علم و مشاہدہ کے ساتھ حاضر و ناظر ہیں[22]۔

عقیدہ توسل

بریلوی حضرات نہ کہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات گرامی قدر سے توسل کے قائل ہیں بلکہ آپ علیہ السلام سے منسلک اشیاء مثلاّ آپ کے موئے مبارک (بال مبارک) اور آپ کی نعلین شریفین سے بھی توسل کے قائل ہیں اور اسے عین شرعی قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر صحابہ اکرام بشمول اہلبیت اطہار اور بزرگان دین سے توسل کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ آنحضرت کے وسیلہ سے بارگاہ الٰہی میں دعا کرنا مستحسن ہے اس کیلئے مختلف الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جیسے توسل استغاثہ تشفع توجہ جب کبھی اس معنی میں دعا کی جائے کہ آپ تسبب پر قادر ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں یا شفاعت فرمائیں تو یہ بھی توسل بالنبی کہلاتا ہے۔ ایسا توسل و استغاثہ فعل انبیاء و مرسلین اور عقیدہ سلف صالحیں ہے[23]۔

تصوف

بریلوی مسلک کے مطابق تصوف کا آغاز ابتداء خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات مبارکہ سے ظہور پذیر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بکثرت شہر مکہ سے باہر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور وہاں رب تعالٰی کی ذات کے بارے میں غور فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غار حرا میں کئی کئی روز قیام فرماتے اور اس دوران اپنی دنیاوی مشغولیات اور دیگر کاروبار حیات سے بالکل قطع تعلق رہا کرتے۔ غار حرا میں ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر پہلی وحی بھی نازل ہوئی۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین کی ذات مبارکہ میں بھی تصوف کا رنگ نمایاں طور پر ظاہر ہے۔ بے شمار صحابہ اکرام مسجد نبوی سے منسلک صفہ نامی چبوترے پر ہمہ وقت پر قیام پزیر رہا کرتے۔ ایسے صحابہ اکرام کی تعداد کم و بیش سات سو(700) کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ یہ اصحاب رسول رضوان اللہ تعالٰی اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفید ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دینی علم سیکھنے کی غرض سے اپنی دنیاوی مشغولیات و کام کاج کو ترک کئے رہتے، حتی کہ بعض تو عائلی و ازدواجی زندگی تک سے بھی دور رہتے۔ یہ اصحاب اس چبوترے " صفہ" کی وجہ سے " اصحاب صفہ" کہلاتے اور یہی لفظ " تصوف" کی وجہ تسمیہ بیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح صحابہ اکرام کے بعد تابعین اور پھر تبع تابعین میں بھی تصوف کا عنصر نمایاں رہا۔ اس سلسلے میں حضرت اویس قرنی اور حضرت حسن بصری کا نام بہت نمایاں ہے جو کہ مشہور تابعی بزرگ ہیں اور آپ حضرات نے بیشتر جید اصحاب رسول سے فیض صحبت حاصل کیا۔ بعد ازاں صوفیاء کرام اور بزرگان دین کا ایک طویل سلسلہ ہے جو عرب و عجم اور ساری اسلامی دنیا کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ بریلوی حضرات صوفیاء کرام سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔

زیارتِ مزارات

بزرگان دین کے مزارات پر انوارات تمام عالم اسلام میں بکثرت موجود ہیں۔ ان میں خود حضور خاتمی مرتبت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت ابو بکر صدیق و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مزار پرانوار مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے عین اندر واقع ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر بزرگان دین کے مزارات بکثرت شام، ترکی اور دیگر جملہ عرب ممالک سمیت پاک و ہند میں واقع ہیں۔ ان بزرگوں کے مزاروں پہ عروس کا اہتمام کیا جاتا ہے دور دور سے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔ اور ان عظیم ہستیوں کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کی روحانیت، بزرگی اور ان کی خدماتِ جلیلہ کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے اللہ تعالٰیٰ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ توسل بھی کیا جاتا ہے۔

عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

ماہ ربیع الاول کو خاص اہمیت حاصل ہے مختلف جگہوں گھروں، عوامی مقامات اور مساجد میں محافل میلاد منعقد ہوتی ہیں۔ ان محافل میں علماء اکرام حضور علیہ صلوۃ و سلام کی ولادت با سعادت آپ کی حیات طیبہ اور سیرت مطھرہ کے مختلف گوشوں پر بیانات کرتے ہیں۔ ویسے تو یہ محافل سارا سال ہی جاری رہتی ہیں لیکن ربیع الاول کے ماہ میں ان محافل کا کثرت سے اہتمام ہوتا ہے۔ اسی طرح سے مختلف شعراء اور نعت خواں حضرات حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ماہ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں اور راستوں کو سجایا جاتا ہے۔ ترمذی شریف میں باب "باب ما جاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم:" امام ترمذی نے الجامع ترمذی شریف میں "باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم" ایک باب باندھا ہے۔ تب تک میلاد النبی منانا بدعت نہیں سمجھا جاتا تھا بدعت کا بہتان بہت بعد کی ایجاد ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ 604 ہجری کے بعد میلادالنبی منانے کا رواج پڑا۔ جبکہ امام ترمذی 209 ہجری میں پیدا ہوئے اور 279 میں فوت ہوئے۔

محافلِ نعت و درود و سلام

محافل نعت و درود و سلام کو حضور علیہ السلام کی ذات مبارکہ سے محبت اور قربت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ محافل سارا سال ہی جاری رہتی ہیں لیکن ربیع الاول کے ماہ میں ان محافل کا خاص اہتمام ہوتا ہے۔ مختلف شعراء اور نعت خواں حضرات حضور علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جمعہ کے دن درود و سلام کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔

گیارہویں شریف

مسلکی نقطہ نظر

بریلوی نقطہ نظر کے مطابق اس مسلک کو حقیقی طور پر تمام صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین ، صالحین اور علماء امت کا پیش رو قرار دیتے ہیں۔ بریلوی مسلک کی تشریحات کے مطابق ، میلاد و قیام ، صلوٰۃ و سلام ، ایصال ثواب ، عرس یہ سب معمولات جو صدیوں ‌سے اہلسنت و الجماعت میں رائج ہیں‌ اور علمائے امت نے انھیں ‌باعث ثواب قرار دیا ہے [حوالہ درکار]۔لیکن نئے فرقوں نے ان رسومات کو بدعت قرار دیا اور بریلوی علماء نے قلم و گفتار سے ان کا تحفظ کیا۔ ان علماء میں نمایاں ترین نام امام احمد رضا خان کا ہے جنہوں نے مختلف رسومات اور عقائد کے دفاع میں کئی کتب تحریر کیں۔

توحید و شرک کے بارے میں نقطہ نظر

بریلوی نقطہ نظر کے مطابق حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی ذاتِ مبارکہ کے ادب و تعظیم اور آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی تعریف و توصیف میں حد درجہ مبالغہ آرائی اور غلو کو باعثِ سعادت قرار دیا جاتا ہے۔ اور اسے شرک پر محمول نہیں کیا جاتا۔ اس مسلک کے مطابق قرآنِ مجید کی سورہ اخلاص[24] کی روشنی میں شرک کی تین صورتیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی صادر ہو تو شرک ہوگا وگرنہ نہیں، وہ تین درج ذیل ہیں۔

  • کسی مخلوق کو رب قرار دینا یا اللہ تعالٰی پر حاکم قرار دینا
  • کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینا یا اسی طرح اللہ کو کسی کی اولاد قرار دینا
  • کسی میں کوئی صفت ازلی (ہمیشہ سے)، ذاتی (از خود بغیر اللہ کی عطا کے) یا اللہ تعالٰی کی کسی صفت کے ہمسر قرار دینا (لہذا اگر حددرجہ مبالغہ آرائی اور غلو کے باوجود اللہ تعالٰی سے کمتر سمجھا تو شرک نہیں)

لہذا ان تین شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی نہایت ہی حد درجہ تعریف و توصیف اور ادب و تعظیم جو کہ ذات باری تعالٰی کے ہمسر یا زیادہ نہیں وہ اس مسلک کے نزدیک شرک کے زمرہ میں نہیں۔

بدعت کے بارے میں نقطہ نظر

اس مسلک کے نقطہ نظر کے مطابق بدعت کی دو اقسام ہیں ایک بدعتِ حسنہ یعنی احسن بدعت اور دوسری بدعتِ سیئۃ یعنی بری بدعت جیسا کہ ذیل کی حدیثِ نبوی میں منقول ہے۔

من سنّ فی الاسلام سنۃ حسنۃ فعل بھا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل بھا و لا ینقص من اجورھم شئی و من سنّ فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعمل بھا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بھا و لا ینقص من اوزارھم شیئی۔ صحیح مسلم[25]

ترجمہ : ـ جو آدمی اسلام میں کوئی اچھا کام جاری کرے پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو جو لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کے اجر کی مثل اس (جاری کرنے والے) کے لئے بھی لکھا جائے گا ـ اور خود ان عمل کرنے والوں کے اجر میں سے کچھ کم نہ ہوگا اور جو کوئی اسلام میں کسی برے کام کی طرح ڈالے پھر اس کے بعد لوگ اس کو اپنے عمل میں لائیں تو ان سب کو جو گناہ ہوگا وہ اس (جاری کرنے والے) کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا، جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی۔

اس صحیح مسلم کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس مکتبہ فکر کے مطابق دین میں کوئی نیا اچھا عمل جاری کرنا جو شریعت کے بنیادی اصولوں کے مخالف نہ ہو نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رمضان المبارک میں باجماعت نمازِ تراویح شروع کرنے کے اپنے عمل کو ( نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھَذِہ ۔ یہ اچھی بدعت ہے، بخاری[26]) فرماکر نبیِ کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی حدیثِ مبارکہ کی عملی تشریح کی۔ اسی طرح بہت سے ایسے افعال جو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی حیاتِ طیبہ میں نہیں تھے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اَن کے بعد امتِ مسلمہ میں رائج ہوئے جیسے قرآنِ مجید کو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور خلافت میں کتابی شکل میں جمع کرنا یا بعد ازاں حجاج بن یوسف کے دور میں قرآنِ پاک پر اعراب لگانا، فقہ، نحو، عید میلاد النبی، درود و سلام، ایمانِ مفصل و ایمانِ مجمل، چھ کلمے، مساجد میں مینار گنبد و محراب، تصوف و طریقت و معرفت، سوئم، چہلم، ختم، عرس اور گیارہویں شریف وغیرہ ایسے افعال ہیں جو امت میں بعد میں رائج ہوئے اور کسی شرعی حکم سے ٹکراؤ نہ رکھنے کے باعث، یہ افعال حدیثِ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی روشنی میں بدعتِ حسنہ کے ضِمن میں آتے ہیں۔

سلفی و دیوبندی مسالک کا اختلافی نقطہ نظر

دیوبندی اور سلفی مکتبہ فکر کے مطابق، بریلوی مکتبہ فکر کے کئی عقائد اور معمولات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے مطابقت نہیں رکھتے اور وہ ان رسومات اور عقائد کو بدعت اور شرک قرار دیتے ہیں۔ خصوصاّ یہ مکاتب فکر عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تہوار کو منانے کے حق میں نہیں اور اسی طرح محافلِ درود و سلام اور گیارہویں شریف کے بارے میں بھی اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح سے عقیدہِ توسل، زیاراتِ مزارات اور عقیدہِ شاہد و ناظر کو شرک گردانتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. ^ http://www.oxfordreference.com/search?q=Barelvi
  2. ^ http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/oi/authority.20110803095357101?rskey=piJror&result=3
  3. ^ http://mushahidrazvi.blogspot.com/2012/10/blog-post_6058.html
  4. ^ http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=15053&type=text
  5. ^ http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=15053
  6. ^ http://www.lantrani.co.in/2011/05/blog-post_15.html
  7. ^ http://www.alahazrat.net/islam/hazrat-allama-fazl-e-haq-kherabadi.php
  8. ^ http://books.nafseislam.com/languages.php?lang_id=1&lang=Urdu&pn=13
  9. ^ http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=2136&book=quaid-e-jang-e-azadi-allama-fazl-e-haq-khair-abadi-(alaih-rahma)
  10. ^ http://tahaffuz.com/2473/#.UlQLBdKBksE
  11. ^ http://ameer-e-millat.com/EstAllIndiaSun.htm
  12. ^ http://www.nawaiwaqt.com.pk/opinions/09-May-2014/301580
  13. ^ http://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/Lahore/2014-05-09/page-13/detail-3
  14. ^ http://webcatplus.nii.ac.jp/webcatplus/details/book/25924539.html
  15. ^ Jaffrelot، Christophe، ed۔ (2002). "10. The Diversity of Islam". A History of Pakistan and Its Origins. Anthem Press.. p. 225. https://books.google.com/books?id=Q9sI_Y2CKAcC&pg=PA225&dq=jup+pakistan+founded&hl=en&sa=X&ei=jvgrVa_yA4rmoATEi4DYCQ&ved=0CB0Q6AEwAA#v=onepage&q=jup%20pakistan%20founded&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 April 2015.
  16. ^ مصنف عبد الرزاق از امام عبد الرزاق
  17. ^ بہار شریعت حصہ اول صفحہ 58 امجد علی اعظمی مکتبہ المدینہ کراچی
  18. ^ فتاویٰ رضویہ احمد رضا خان جلد 15 صفحہ 613 رضا فاؤنڈیشن لاہور
  19. ^ ملفوظات اعلی حضرت اھمد رضا خان صفحہ 251 مکتبہ المدینہ کراچی
  20. ^ بہار شریعت حصہ اول صفحہ71،72 امجد علی اعظمی مکتبہ المدینہ کراچی
  21. ^ سُورۃ الْاَحْزَاب ۔ 45
  22. ^ عقائد اہلسنت از رضا ء الحق اشرفی مصباحی صفحہ 317 پہلا ایڈیشن طبع 2011
  23. ^ سیرت رسول عربی از نور بخش توکلی صفحہ 508 طابع ضیار القرآن پبلیکیشنز لاہور
  24. ^ (قرآن مجید ۔ سورہ اخلاص پارہ 30)
  25. ^ (صحیح مسلم از امام مسلم ۔ کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علي الصدقہ)
  26. ^ (صحیح بخاری از امام بخاری ۔ کتاب صلاۃ تراویح، بابُ فَضلِ مَن قامَ رَمَضَانَ)