بسماچی تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

'بسماچی تحریک(Basmachi Movement) زار اور سوویت عہد میں روس کے خلاف مسلمانوں کی ایک بغاوت تھی جس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے بعد 1916ء میں ہوا۔ سوویت اتحاد نے اس بغاوت کو بد ترین انداز میں کچلا۔

بسماچی تحریک[ترمیم]

(Basmachi Movement) یہ بغاوت دراصل روس کے جابرانہ طرزِ حکومت، ثقافتی جبر اور سوویت عہد میں اشتراکیوں کی جانب سے زراعت کے حوالے سے مطالبوں کے خلاف ایک مقامی تحریک تھی جس کے پیچھے مسلم روایت پسندی اور تورانیت (انگریزی: Turanism) اہم عناصر تھے کیونکہ اس تحریک میں شریک اکثریت ترک نسل سے تعلق رکھتی تھی۔

زار روس کے خلاف، 1916ء[ترمیم]

اس تحریک کا آغاز 1916ء کے موسم گرما میں اس وقت ہوا جب روسی سلطنت نے مسلمانوں کے عسکری خدمات سے استثنیٰ کا قانون ختم کر دیا جس کے خلاف وسط ایشیا میں زبردست بغاوت پھوٹی۔ زار انتظامیہ کی جانب سے زمینوں کی جبری وصولی نے ماحول پہلے ہی خراب کر رکھا تھا اور اس فیصلے نے گویا عوام میں آگ بھڑکا دی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے زار کی افواج نے بد ترین مظالم ڈھائے۔

بسماچی تحریک کا پہلا مرحلہ، 1918ء تا 1920ء[ترمیم]

محمد علیم خان، آخری امیر بخارا، یہ تصویر پروکودین گورسکی نے 1911ء میں لی

زار کے خلاف انقلاب اکتوبر میں فیض اللہ خوجایوف جیسے رہنماؤں نے اشتراکی حلقوں کا ساتھ دیا اور بخارا اور خوارزم (خیوہ) کے حصول میں سرخ افواج کی مدد کی جبکہ سابق امیر بخارا محمد علیم خان جیسے رہنماؤں نے بسماچی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ امیر کے دو جرنیلوں نے 30 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر تیار کیا۔ 1920ء کے موسم گرما تک بسماچیوں نے وادی فرغانہ میں کافی مقبولیت حاصل کی اور بعد ازاں ترکستان بھر میں پھیل گئے۔ اُس وقت بیشتر ترکستان اشتراکیوں کے مکمل قبضے میں نہیں تھا بلکہ مقامی حکومتوں، جیسے خوارزم و بخارا کی اشتراکی روسی ریاستیں، کے زیرانتظام تھا لیکن یہ حکومتیں مکمل طور پر اشتراکیوں کی پٹھو تھیں اور انہی کے اشاروں پر ناچتی تھیں۔ بالشیوک مخالف سفید افواج کے مقابلے میں بسماچیوں کو کسی طرح کی بیرونی امداد بھی حاصل نہ تھی، اس کے باوجود 1920ء کے اوائل تک بسماچی وسط ایشیا کے بڑے حصے میں پھیل گئے تھے اور سوویت حکومت کو خطرہ لاحق ہو گیا کہ اب وہ ترکستان سے محروم ہو جائے گی۔ لینن حکومت نے ترکستانی باشندوں کے اعتراضات کے خاتمے کے لیے ان سے مصالحت کا منصوبہ بنایا جس میں غذائی اجناس کی فراہمی، محصولات میں نرمی، زرعی اصلاحات کے وعدے، اسلام مخالف پالیسیوں کے خاتمے اور زراعت پر حکومتی ضابطے کے خاتمے کے وعدے شامل تھے۔ ان اقدامات نے عوام میں بسماچی تحریک کی کشش کو کم کر دیا اور سرخ افواج کے لیے بسماچیوں کو زیر کرنا ممکن بنا دیا۔ گویا یہ عوامی غیض وغضب کو کم کرنے کے لیے کھیلا گیا ایک کھیل تھا، جس میں وعدوں کے ذریعےعوامی حمایت حاصل کی گئی اور در پردہ اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے پوری قوت کا استعمال کیا گیا۔

بسماچی تحریک کا دوسرا مرحلہ، 1921ء تا 1923ء[ترمیم]

اسماعیل انور پاشا، جن کی آمد نے وسط ایشیا کی مسلم بغاوت میں نئی روح پھونکی

نومبر 1921ء میں سلطنت عثمانیہ کے سابق وزیر جنگ اسماعیل انور پاشا خطے میں تشریف لائے اور انہوں نے خطے میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سوویت اتحاد کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ ان کی آمد نے خطے میں روسیوں کے خلاف بغاوت میں نئی روح پھونک دی اور جلد ہی انہوں نے بسماچی جنگجوؤں کو 16 ہزار افواج کی پیشہ ورانہ فوج میں تبدیل کر دیا اور 1922ء کے اوائل تک بخارا کا ایک قابل ذکر حصہ بسماچیوں کے قبضے میں آ گیا۔

انور پاشا کی شہادت[ترمیم]

اس مرتبہ پھر سوویت انتظامیہ نے اپنی پرانی دو طرفہ پالیسی سے کام لیا جس میں ایک جانب سیاسی و اقتصادی مفاہمت کے جھانسے دیے گئے اور پیٹھ پیچھے مسلم دہقانوں پر مشتمل ایک رضاکار فوج تشکیل دی گئی جو سرخ چھڑیاں (Red Sticks) کہلاتی تھی اور باضابطہ افواج میں مسلمان فوجیوں کو شامل کر کے انہیں بسماچیوں کے خلاف لڑایا۔ یہ سوویت حکمت عملی ایک مرتبہ پھر کامیاب رہی اور جب مئی 1922ء میں انور پاشا نے امن پیشکش ٹھکرا دی اور 15 روز میں ترکستان سے روسی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کر دیا تو ماسکو مقابلہ کرنے کے لیے بھرپورانداز میں تیار تھا۔ جون 1922ء میں سوویت افواج نے جنگ کفرون میں بسماچی جنگجوؤں کو شکست دی جہاں انور پاشا نے پہلی بڑی شکست کھائی۔ سرخ افواج نے مشرق کی جانب مزید پیش قدمی کرتے ہوئے بسماچیوں کے زیر قبضہ کئی قصبہ جات اور دیہات واپس لے لیے۔ انور پاشا 4 اگست 1922ء کو موجودہ تاجکستان میں سوویت افواج کے خلاف حتمی کارروائی کی تیاریوں کے دوران شہید کر دیے گئے۔

میخائل فرونزے بالشیوک رہنما جنہوں نے بسماچی بغاوت کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا

انور پاشا کے بعد بسماچیوں کی قیادت سنبھالنے والے سلیم پاشا نے جدوجہد جاری رکھی لیکن بالآخر 1923ء میں انہیں افغانستان فرار ہونا پڑا۔ اہم قائدین کے مارے جانے کے بعد بسماچی تحریک نے خفیہ انداز میں کام کرنے کی ٹھانی اور پہاڑوں میں خفیہ ٹھکانوں کے ذریعے کاروائیوں کا آغاز کیا۔ لیکن ان کاروائیوں کے نتیجے میں وہ عوامی حمایت سے محروم ہو گئے کیونکہ عوام اغوا اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھتے۔ 1926ء تک بسماچی بغاوت حقیقتاًً اپنے انجام کو پہنچ گئی تاہم اکا دکا واقعات 1931ء تک پیش آئے جب سوویت افواج نے بسماچی رہنما ابراہیم بیگ کو گرفتار کر لیا۔ 1934ء میں بسماچیوں کے آخری گڑھ کو موجودہ کرغزستان میں ختم کر دیا گیا۔ سوویت ذرائع کے مطابق اس بغاوت میں 1441 روسی فوجی ہلاک ہوئے۔

فلمیں[ترمیم]

بسماچی بغاوت کے موضوع پر مختلف فلمیں بھی بنائی گئی ہیں جن میں White Sun of the Desert, The Seventh Bullet اور The Bodyguard شامل ہیں۔