بقا و فنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تصوف کی اصطلاح، جو دراصل دو متضاد اور مختلف اصطلاحوں پر مشتمل ہے۔ لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہیں۔ لغوی اعتبار سے بقاء و فناء کے معنی اور تصوف کے معنی میں فرق ہے۔ لغت کے اعتبار سے بقاء کی تین قسمیں ہیں۔

اول:۔ وہ بقاء کہ کسی چیز کا اول بھی فناء میں ہو اور آخر بھی فناء میں ہو جیسا کہ یہ عالم ناسوت کہ ابتدا میں بھی نہ تھا انتہا میں بھی نہ ہو گا اور فقط اس وقت باقی ہے۔ اور پابند مکان و زمان ہے۔

دوم:۔ دوسرے وہ بقا کہ پہلے کبھی نہ تھی اور بعد میں موجود ہو گئی اور پھر کبھی فانی نہ ہوگی۔ جیسے بہشت، جہنم اور عالم عقبیٰ کے رہنے والے کہ ابتدا میں نہ تھے نیست سے ہست ہوئے اور ان کی ہستی پھر فناء یا نیست نہ ہوگی۔

سوم:۔ وہ بقاء جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی یعنی کوئی زمانہ ایسا نہ ہوا کہ وہ نہ تھی نہ کوئی وقت ایسا آئے گا کہ وہ نہ ہو وہ پابند مکان و زمان بھی نہیں۔ وہ ذات حق اور اس کی صفات ازلی و ابدی کی بقاء ہے وہ اپنی صفات کے ساتھ قدیم ہے اور اور اس کی بقاء سے مراد اس کا ہمیشہ رہنا ہے۔ کوئی بھی اس کی صفات میں اس کے ساتھ شریک نہیں۔

قرآن کریم میں ایک مقام پر یہ دونوں لفظ ایک ساتھ اس طرح بیان ہیں ” کل من علیها فان و یبقی وجه ربک ذوالجلال و الاکرام ” یعنی ‘ جو کچھ بھی ہے فناء ہو جانے والا ہے اور صرف تیرے پروردگار کی ذات کو بقاء ہے۔ جو بڑی ہی شان اور بزرگی والا ہے ‘۔

گویا فناء کا علم یہ ہے کہ انسان جان لے کہ دنیا و مافیہا فانی ہے۔ اور بقاء کا علم یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی ذات کو سدا بقاء ہے اور جسے وہ چاہے جیسا کہ عالم عقبیٰ وغیرہ۔

لیکن اہل طریقت کی اصطلاح میں فناء و بقاء یہ ہے کہ جب جہالت ہو جائے تو ضرور علم باقی ہوتا ہے اور جب معصیت ہو تو ضرور طاعت باقی رہتی ہے۔ اور جب بندہ اپنی بندگی کا علم حاصل کر لیتا ہے تو ذکر حق کی بقاء سے اس بندے کی غفلت فناء ہو جاتی ہے۔ فناء و بقاء ان کے نزدیک برے اوصاف کو ساقط کر کے نیک صفات پر قائم رہنا ہے۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ” فناء و بقاء ” کی اصطلاح نافذ کرنے والا سعید الخزار ہے۔ ان کے بقول فناء سے مراد بندہ کو اپنی بندگی کو دیکھنے سے فانی ہو جانا اور بقا سے مراد بندہ کا مشاہدہ الہٰی کے ساتھ باقی رہنا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا، صفحہ 341،342، جلد8، سید قاسم محمود، کلفٹن کالونی لاہور