بلال ابن رباح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بلال حبشی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
بلال ابن رباح
(عربی میں: بلال بن رباح خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
بلال ابن رباح

معلومات شخصیت
پیدائشی نام بلال بن رباح
پیدائش 580ء
مکہ
وفات 2 مارچ 640ء
دمشق
مدفن باب صغیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
کنیت ابو عبد الکریم
ابو عبد اللہ
ابو عمرو
زوجہ ہند الخولانیہ
والدہ حمامہ
عملی زندگی
نسب حبشی
پیشہ مؤذن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی
بلال ابن رباح کی قبر باب صغیر دمشق میں

بلال ابن رباح (عربی: بلال بن رباح الحبشي) المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔

نام،نسب[ترمیم]

بلال نام ،ابوعبداللہ کنیت،والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا،یہ حبشی نژاد غلام تھے ؛لیکن مکہ ہی میں پیدا ہوئے،بنی جمح ان کے آقا تھے۔

اسلام[ترمیم]

بلال نے اس وقت اسلام کا اعلان کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے مصائب اورطرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی،تپتی ہوئی ریت ،جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے، مشرکین کے لڑکوں نے گلے مبارک میں رسیاں ڈال کر کرکھینچا، ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا،بلال اب بھی محمد کے خدا سے بازآ،لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی کلمہ احد احد نکلتا۔

آزادی[ترمیم]

بلال ایک روز حسبِ معمول مشقِ ستم بنائے جا رہے تھے،ابوبکر صدیق اس طرف سے گزرے تو یہ درد ناک منظر دیکھ کر دل بھر آیا اورایک گرانقدر رقم معاوضہ دے کر آزاد کر دیا، آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا،ابوبکر تم مجھے اس میں شریک کرلو، عرض کیا یا رسول اللہ میں آزاد کراچکا ہوں۔

مؤذن رسول[ترمیم]

اسلام کے پہلے مُؤذن تھے۔ اعلان عام کے لیے اذان کا طریقہ اپنایا کیا گیا، بلال سب سے پہلے وہ بزرگ ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔[1] سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عمر کے اصرار پر صرف ایک دفعہ اذان کہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی،ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی،مرد اپنا کاروبار،عورتیں شبستان حرم اوربچے کھیل کود چھوڑ کروالہانہ وارفتگی کے ساتھ مسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، الصلوۃ یا رسول اللہ! یعنی یارسول اللہ نماز تیار ہے،غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔

غزوات[ترمیم]

بلال تمام مشہور غزوات میں شریک تھے،غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ بن خلف کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

ہجرت[ترمیم]

وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سعد بن خثیمہ کے مہمان ہوئے ابوردیحہ عبد اللہ بن عبد الرحمن خثعمی سے مواخات ہوئی،ان دونوں میں نہایت شدید محبت پیدا ہو گئی تھی، عہدِ فاروق میں بلال نے شامی مہم میں شرکت کا ارادہ کیا تو عمرنے پوچھا، بلال تمہارا وظیفہ کون وصول کرے گا؟ عرض کیا"ابوردیحہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں میں جو برادرانہ تعلق پیدا کر دیا ہے وہ کبھی منقطع نہیں ہو سکتا۔[2]

وفات[ترمیم]

20ھ میں دنیائے فانی کو خیرباد کہا،کم وبیش ساٹھ برس کی عمر پائی، دمشق میں باب الصغیر کے قریب مدفون ہوئے[3]

ازواج[ترمیم]

بلال نے متعدد شادیاں کیں، ان کی بعض بیویاں عرب کے نہایت شریف ومعزز گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، ابوبکر کی صاحبزادی سے خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرادیا تھا، بنو زہرہ اور ابودرداء کے خاندان میں بھی رشتہ مصاہرت قائم ہواتھا، لیکن کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری باب بدءالاذان
  2. طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث : 167
  3. اسدالغابہ:1/207
  4. طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث :176