بلوچ لوگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بلوچ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Baloch
بلوچ
کل آبادی
8.8 ملین (2009)[1]
علاقے جہاں یہ قبیلہ آباد ہے
 پاکستان approx 6,900,000 (2013) [2]
 ایران 1,557,000 [3]
 سلطنت عمان 434,000 (2009) [4][5][6]
 افغانستان 300,000 (2009) [7]
 متحدہ عرب امارات 100,000  [8]
 بھارت 60,000  [9]
 ترکمانستان 30,000  [10][11]
زبانیں

بلوچی (مادری زبان)

براہوی, فارسی, پشتو اور عربی بھی بولتے ہیں جب ان متعلقہ لوگوں کے علاقوں میں رہتے ہیں.

مذاہب

Predominantly اسلام[12]

متعلقہ نسلی گروہ

دیگر ایرانی لوگ


بلوچ ( دیگر تلفظ: بلوچ، بلوش، بلاوش، بالوش) ایک نسلی گروہ ہے جو اب پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان، افغانستان کے صوبے نمروز میں آباد ہیں۔ بلوچ لوگ اپنا ایک ثقافت رکھتے ہیں اور بلوچی زبان بولتے ہیں۔


تاریخ[ترمیم]

بعض محقق کہتے ہیں کہ بلوچ آریائی نسل سے ہیں جو کوہ البرز کے شمالی علاقوں میں رہتے تھے- کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ شام کے علاقہ حلب سے نقل وطن کرکے بلوچستان آ کر بسے تھے . بعض ریسرچ سکالرز کی رائے ہے کہ بلوچ کیسپئین کے ساحلی علاقہ سے ایران منتقل ہوئے تھے۔ فردوسی کے شاہنامہ میں بلوچوں کا نمایاں ذکر ملتا ہے۔ اور سائیرس کے زمانہ میں بلوچوں کا ایران کے علاقہ کرمان اور سیستان میں زبردست اثر تھا- بلوچی زبان کا تعلق انڈو یوروپین زبان سے ہے اور اس پر فارسی کی گہری چھاپ ہے اس لیے اس رائے میں وزن ہے کہ بلوچ ایران کے راستہ کیسپئین سے بلوچستان آئے تھے۔ بلوچ لفظ کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں- ممتاز تاریخ دان ہرزفیلڈ کی رائے ہے کہ یہ لفظ مدین کے علاقہ کا لفظ ہے جو برزا واک سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں بلند چیخ۔ بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ بلوچ لفظ بابل کے مشہور بادشاہ بیلوس سے مناسبت رکھتا ہے۔ چند تاریخ دانوں کا تو یہ کہنا ہے کہ لفظ بلوچ سنسکرت کےدو الفاظ سے مل کر بنا ہے ۔ بل یعنی طاقت اور اچ یعنی بلند۔ دوسرے معنوں میں اعلی طاقت ور- ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان کہلاتا ہے اور جس کا دارالحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے- بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے- افغانستان میں زابل کے علاقہ میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے-

تقسیم و تحقیق[ترمیم]

بلوچوں کو برطانوی راج نے شروع سے مارشل لوگ کہا تھا۔ یاد رہے کہ برطانوی راج ان برطانوی مقبوضہ انڈیا کے ان لوگوں کے بارے میں استعمال کرتا تھا جو جنگ پسند اور دوران جنگ بہت تیز ہوں اور ان میں بہادری، وفاداری، خود پر انحصار، جسمانی مضبوطی، جذبہ، نظم و ضبط، محنتی، جنگ کے دوران ثابت قدم رہنا اور فوجی چالیں جانتے ہوں۔ برطانویوں نے ان لوگوں سے اپنی فوجیں منتخب کیں تاکہ ان کا راج قائم رہے۔بلوچوں کی زبان بلوچی ہے جو شمال مغربی ایرانی زبان ہے اور بلوچوں کو عموما ایرانی النسل مانا جاتا ہے۔ بلوچوں کی بہت بھاری اکثریت مسلمان ہے اور وہ حنفی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک معقول تعدادذکری فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ بلوچوں کی کل تعداد کا ستر فیصد حصہ پاکستان میں رہائش پذیر ہے۔ بیس فیصد ایران میں ہیں۔ بلوچوں کی کل تعداد کا تخمینہ اڑتالیس لاکھ لگایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بلوچوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، سلیمانی اور مکرانی۔ ان دونوں کے درمیان براہوی قبائل کی ایک مضبوط حد موجود ہے۔

جغرافیائی وطن، آبادی اور سب گروپ بلوچی بولنے والی تعداد کا اندازہ ڈیڑھ سے دو کروڑ کے درمیان ہے۔ تاہم حقیقی اعداد وشمار یہ نہیں بتا سکتے کہ اصل بلوچ اور خود کو بلوچ کہلانے والوں کی اصل تعداد کتنی ہے۔ بلوچی بولنے والی تعداد سے کہیں بلوچ موجود ہیں جس کی وجہ سے نقلی بلوچ ان میں گھل مل گئے ہیں۔ براہی بلوچوں کے درمیان بہت عرصے سے رہتے چلے آئے ہیں اور انہوں نے زبان اور جینیاتی اثرات قبول کیے ہیں اور بہت سے مواقع پر دونوں میں فرق کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اگرچہ براہوی اور بلوچ قبائل بہت حد تک گھل مل گئے ہیں تاہم ابھی تک براہویوں کو الگ قبیلہ مانا جاتا ہے ۔ بلوچوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو سرائیکی، سندھی اور براہوی بولتے ہیں۔ اس سے ان کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے بلوچ جو بلوچستان سے باہر رہتے ہیں وہ ایک سے زائد زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور سندھیوں، براہویں ایرانیوں اور پشتونوں سے گھل مل گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے بلوچ صدیوں سے بلوچستان کے باہر آباد ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک اور خلیج فارس میں بھی ان کی معقول تعداد آباد ہے۔ ان کا اپنا وطن، بلوچستان تین حصوں یعنی پاکستانی بلوچستان، ایرانی بلوچستا ن اور افغانستان کے جنوبی حصوں پر مشتمل ہے۔ کئی مصنفین نے تحقیق کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ بلوچوں کی ابتدا میڈین سلطنت (728قبل مسیح سے550 قبل مسیح) کے دوران ہوئی جب بلوچوں یا کردوں کو مکران اور توران کے علاقوں کی حفاظت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ بلوچوں کی تاریخ کرمان پر سلجوکیوں کے حملے جو کہ گیارہوں صدی میں ہوا تھا، سے بلوچوں نے مشرق کی طرف ہجرت شروع کردی۔ سلجوک رہنما کوورد نے کوفچیوں جو کہ بلوچوں کے پہاڑی چھاپہ مار دستے تھے، کے خلاف مہم بھیجی۔ بلوچوں کو دبانے کے بعد سلجوکوں نے انڈیا کے راستوں پر صحرا میں واچ ٹاور اور کاروان سرائے بنائیں ۔ صفاود کی حکمرانی (1501سے 1736) تک بلوچ باغی رہے۔ انیسویں صدی میں ایران نے مغربی بلوچستان پر قبضہ کی ااور اپنی سرحد بندی 1872 میں کر دی۔ اس کے بعد ایرانیوں نے 1970 کی دہائی سے ڈیم، پن بجلی کے منصوبوں وغیرہ سے اس علاقے میں معیشی ترقی شروع کی جس کو ایرانی اسلامی انقلاب سے سخت دھچکہ پہنچا۔ زبانیں بلوچوں کی قومی زبان بلوچی ہے۔ بلوچستان میں دوسری بڑی زبان براہوی ہے جو کہ دراوڑی زبان ہے۔ کچھ مغربی مفکرین اس مغالطے میں ہیں کہ براہوی بلوچوں سے مختلف ہیں۔ درحقیقت بلوچ ایک بڑی قوم ہے جس میں کئی زبانیں ہیں۔ براہوی بولنے والے خود کو براہوی یعنی براہوی بلوچ کہتے ہیِں۔ بلوچ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ سندھ، جنوبی پنجاب، بہاولپور، جنوبی افغانستان، شمالی ایران، خلیجی ممالک اور ترکمانستان کے ماری علاقے میں بھی آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ بلوچ (تالپور/ لغاری) سندھ پر برطانوی راج سے قبل حکمران تھے۔ سندھ اور پنجاب کے بلوچ سندھی اور سرائیکی بولتے ہیں۔ بلوچوں کے مزید دسیوں قبائل ہیں۔ کچھ قبائل براہوی بولتے ہیں۔ کچھ بلوچی بولتے ہیں اور کچھ دونوں زبانیں بولتے ہیں۔ مری اور بگٹی قبائل جو بلوچوں کے بڑے قبائل ہیں، بلوچی بولتے ہیں۔ لانگوو قبیلہ جو کہ وسطی بلوچستان میں رہتا ہے، بلوچی کو مادری اور براہوی کو ثانوی زبان کی طرح بولتے ہیں۔ بزنجو قبیلہ جو کہ خضدار ، نال اور مکوڑہ کے کچھ علاقوں میں آباد ہے، اور محمدثانی قبیلہ بھی دونوں زبانیں استعمال کرتا ہے۔ بنگولزئی قبیلہ براہوی بولتا ہے، گارانی بلوچی بولتے ہیں اور ان کو بلوچی بولنے والی بنگولزئی کہا جاتا ہے۔ گورشانی راجن پور میں بلوچوں کا سب سے بڑا قبیلہ ہیں اور بلوچی بولتے ہیں۔ لغاری ڈیرہ غازی خان میں بلوچی اور رحیم یار خان میں سرائیکی بولتےہیں۔سندھ والے لغاری سندھی بولتے ہیں اور سندھ میں دیگر بلوچ قبائل سندھی اور بلوچی بولتے ہیں

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Tyagi، Vidya Prakash (2009). Martial Races of Undivided India. Gyan Publishing House. pp. 7-9. ISBN 8178357755. http://books.google.com/books?id=vRwS6FmS2g0C&pg=PA7۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 November 2014.
  2. ^ Central Intelligence Agency (2013). "The World Factbook: Ethnic Groups". https://www.cia.gov/library/publications/the-world-factbook/fields/2075.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 November 2014.
  3. ^ Iran, Library of Congress, Country Profile . Retrieved December 5, 2009.
  4. ^ Joshua Project (2006-10-28). "Baloch, Southern of Oman Ethnic People Profile". Joshuaproject.net. http://www.joshuaproject.net/people-profile.php?peo3=15034&rog3=MU۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-08-01.
  5. ^ Languages of Oman, Ethnologue.com . Retrieved December 5, 2009.
  6. ^ Oman, CIA World Factbook . Retrieved December 5, 2009.
  7. ^ Afghanistan, CIA World Factbook . Retrieved December 5, 2009.
  8. ^ Languages of United Arab Emirates, Ethnologue.com (retrieved 5 December 2009)
  9. ^ Baloch, Eastern of India Ethnic People Profile. Joshuaproject.net (2008-08-01). Retrieved on 2013-07-12.
  10. ^ KOKAISLOVÁ, Pavla, KOKAISL Petr. Ethnic Identity of The Baloch People. Central Asia and The Caucasus. Journal of Social and Political Studies. Volume 13, Issue 3, 2012, p. 45-55., ISSN 1404-6091
  11. ^ Baloch people in Turkmenistan (1926–1989), http://beludzove.central-asia.su
  12. ^ {{cite web|url=http://gulf2000.columbia.edu/images/maps/GulfReligionGeneral_lg.png%7Ctitle=Demography of Religion in the Gulf|work=Mehrdad Izady|year=2013}}