بلوچستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بلوچستان
صوبہ
اوپر بائیں سے: مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب کا یک منظر، ہنہ جھیل، ہنگول قومی بوستان، وادی اورک، گوادر اور کوئٹہ،
اوپر بائیں سے: مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب کا یک منظر، ہنہ جھیل، ہنگول قومی بوستان، وادی اورک، گوادر اور کوئٹہ،
Flag of بلوچستان
پرچم
باضابطہ لوگو بلوچستان
لوگو
پاکستان کے نقشے میں بلوچستان کا مقام
پاکستان کے نقشے میں بلوچستان کا مقام
متناسقات: 30°07′N 67°01′E / 30.12°N 67.01°E / 30.12; 67.01متناسقات: 30°07′N 67°01′E / 30.12°N 67.01°E / 30.12; 67.01
ملک پاکستان
قائم شدہ 1 جولائی 1970
صوبائی دارالخلافہ کوئٹہ
بڑا شہر کوئٹہ
حکومت
 • قسم صوبہ
 • ادارہ صوبائی اسمبلی
 • گورنر محمد خان اچکزئی
 • وزرائے اعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری ( Flag of Muslim League.png پاکستان مسلم لیگ ن)
رقبہ
 • کل 347,190 کلو میٹر2 (134,050 مربع میل)
آبادی (2011)
 • کل 7,914,000
منطقۂ وقت معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
Geocode 1183606  Change value GeoNames ID (P1566) in Wikidata
آیزو 3166 رمز PK-BA[1]  Change value ISO 3166-2 code (P300) in Wikidata
اہم زبانیں
صوبائی اسمبلی کی نشستیں 65
اضلاع 30
مجالس اتحاد (یونین کونسلیں) 86
ویب سائٹ www.balochistan.gov.pk

بلوچستان (انگریزی: Balochistan) رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6فیصد حصہ بنتا ہے جبکہ اس کی آبادی 1998ءکی مردم شماری کے مطابق 65لاکھ65ہزار885نفوس پر مشتمل تھی ۔اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق90لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے ۔قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خيبر پختون خواہ، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ و پنجاب اور مغرب میں ایران واقع ہے ۔اس کا 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔

ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان کہلاتا ہے اور جس کا دارالحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے- بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے- افغانستان میں زابل کے علاقہ میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے-

تاریخ[ترمیم]

قدیم تاریخ[ترمیم]

آثار قدیمہ کی دریافتوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بلوچستان میں پتھروں کے دور میں بھی آبادی تھی۔ مہر گڑھ کے علاقہ میں سات ہزار سال قبل مسیح کے زمانہ کی آبادی کے نشانات ملے ہیں۔ سکندر اعظم کی فتح سے قبل بلوچستان کے علاقہ پر ایران کی سلطنت کی حکمرانی تھی اور قدیم دستاویزات کے مطابق یہ علاقہ ُ ماکا ، کہلاتا تھا۔ تین سو پچیس سال قبل مسیح میں سکندر اعظم جب سندھو کی مہم کے بعد عراق میں بابل پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو یہیں مکران کے ریگستان سے گذرا تھا۔اس زمانہ میں یہاں براہوی آباد تھے جن کا تعلق ہندوستان کے قدیم ترین باشندوں، دراوڑوں سے تھا-

اسلامی تاریخ[ترمیم]

654ء میں عبدالرحمان بن سمرہ نے زمراج نامے علاقے (جو اب جنوبی افغانستان میں ہے) میں مسلم فوج بھیجی ، زمراج کو فتح کرنے کے بعد مسلم فوج کا ایک دستہ افغانستان کے مشرقی حصے میں بھیجا گیا جہاں انہوں نے کابل ،غزنی وغیرہ فتح کیے اور ایک دستہ کوئٹہ کی طرف بھیجا گیا جس نے قندبیل (جودہ بولان) تک کے علاقے فتح کیے۔

موجودہ پاکستانی بلوچستان امیرالمومنین عمر بن خطاب کے دور میں فتح ہوا تھا اور یہ مکمل طور پر خلافت راشدہ کے زیر اقتدار تھا۔ پورے بلوچستان میں صرف قیقن نام کا ایک قصبہ تھا جو عمر بن خطاب کی دور میں فتح نہیں ہوا تھا تاہم یہ قصبہ بھی بعد میں علی ابن ابو طالب کی دور میں فتح ہوا۔ عبدالرحمان بن سمرہ نے زمراج کو اپنا صوبائی دارالخلافہ بنایا اور وہ 654ء سے لے کر 656ء تک ان علاقوں کے گورنر رہے ۔

امیرالمومنین علی بن ابی طالب کے دور میں بلوچستان کے جنوبی حصوں میں ایک بغاوت برپا ہونے لگی لیکن خانہ جنگی کے باعث 660ء تک خلیفہِ وقت علی بن ابی طالب نے ان علاقوں میں باغیوں کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ 660ء میں علی بن ابی طالب نے حارث ابن مرہ کی قیادت میں فوج بھیجی انہوں نے بلوچستان کے شمالی علاقوں سے شروع کرتے ہوئے شمال مشرقی علاقوں تک بلوچستان فتح کیا اس کے بعد بلوچستان کے جنوبی علاقے بھی فتح کیے گئے۔

663ء میں خلیفہ معاویہ بن ابو سفیان کے دور میں ایک بار پھر شمال مشرقی بلوچستان اور قلات خلافت امویہ کے ہاتھوں سے چلا گیا جب حارث بن مرہ اور ان کی فوج کی ایک بڑی تعداد ایک جنگ میں شہید ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد مسلمانوں نے بلوچستان کے ان علاقوں کو دوبارہ فتح کیا اور خلافت عباسیہ میں بھی بلوچستان مسلم خلافت کا باقاعدہ حصہ رہا۔

جدید تاریخ[ترمیم]

پاكستان كے ساحل كا ذيادہ تر بلوچستان كا ساحلی علاقہ ہے۔قیام پاکستان کے وقت یہ مشرقی بنگال، سندھ، پنجاب اور صوبہ خيبر پختونخوا کی طرح برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا بلکہ 1947 تک پاکستان کا موجودہ بلوچستان کا صوبہ پانچ حصوں میں منقسم تھا۔پانچ میں سے چار حصوں میں شاہی ریاستیں تھیں جن کے نام قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ ایک برٹش انڈیا کا علاقہ برٹش بلوچستان تھا۔قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ پر برطانوی ایجنٹ بھی نگران تھے۔قلات، لسبیلہ،خاران اور مکران کا علاقے وہی تھے جو آج بھی اسی نام کی ڈویژن کی صورت میں موجود ہیں۔ برٹش بلوچستان میں موجودہ بلوچستان کی پشتون پٹی(لورالائی، پشین، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ژوب، چمن) کے علاوہ کوئٹہ، اور بلوچ علاقہ ضلع چاغی اور بگٹی اور مری ایجنسی (کوہلو) کے علاقہ شامل تھے۔اس وقت گوادر خلیجی ریاست عمان کا حصہ تھا جو کہ خان آف قلات نے عمان کو دیا تھا۔ مکران اور لسبیلہ کے پاس سمندری پٹی تھی جبکہ باقی تین علاقہ قلات، خاران اور برٹش بلوچستان خشکی ميں گھرے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت تین جون کے منصوبہ کے تحت برٹش بلوچستان نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے اراکین نے کرناتھا۔ اور انہوں نے پاکستان کو بھارت پر ترجیح دی جبکہ باقی چاروں علاقوں لسبیلہ، خاران، قلات اور مکران کے حکمرانوں نے بھارت یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کرنا تھا۔ لسبیلہ، خاران اور مکران کے حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا جبکہ قلات نے ایسا نہیں کیا۔ قلات میں گو کہ خان آف قلات حکمران تھے مگر دو منتخب ایوان بھی تھے اور ان دونوں ایوانوں نے پاکستان سے الحاق کی اکثریت سے مخالفت کی تھی۔تاہم ان ایوانوں کی حیثیت مشاورتی تھی اصل فیصلہ خان آف قلات نے ہی کرنا تھا۔جب لسبیلہ، مکران اور خاران کے حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کر لیا تو قلات کی ریاست مکمل طور پر پاکستانی علاقہ میں گھر گئی۔ انگریزی میں ایسے علاقہ کو انکلیو کہا جاتا ہے۔ سب سے آخر میں مارچ 1948 میں قلات نے بھی پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔خان آف قلات میراحمد یار خانکے اس فیصلے کے خلاف انکے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبدالکریم نے مسلح جدوجہد شروع کردی جس میں انہیں افغانستان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس مسلح جدوجہد کا نتیجہ پاکستان کی فوجی کاروائی کی صورت میں نکلا۔ یہ فوجی کاروائی صرف قلات تک محدود تھی۔کاروائی کے نتیجے میں شہزادہ میر عبدالکریم افغانستان فرار ہوگیا۔ بعد میں برٹش بلوچستان کو بلوچستان کا نام دے دیا گیا۔ جب کہ قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ کو ایک اکائی بنا کر بلوچستان اسٹیٹس یونین کا نام دیا گیا۔ 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے وقت برٹش بلوچستان کا نام کوئٹہ ڈویژن کر دیا گیا اور بلوچستان اسٹیٹس یونین کا نام قلات ڈویژن کر دیا گیا اور یہ دونوں علاقے مغربی پاکستان صوبے کا حصہ بن گئے۔1958 میں اس وقت کے وزیراعظم ملک فیروزخان نون جن کا تعلق پنجاب سے تھا، نے عمان سے کامیاب مذاکرات کر کے گوادر کے علاقہ کی ملکیت بھی حاصل کر لی۔ 1969 میں ون یونٹ کو توڑا گیا اور چار صوبےبنے تو قلات ڈویژن، کوئٹہ ڈویژن اور گوادر کو ملا کر موجودہ صوبہ بلوچستان وجود میں آیا۔سن چھپن کے آئین کے تحت بلوچستان کو مغربی پاکستان کے ایک یونٹ میں ضم کر دیا گیا سن ستر میں جب عام انتخابات ہوئے اس میں پہلی بار بلوچستان ایک الگ صوبہ بنا بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی فاتح رہی اور سن بہتر میں پہلی بار بلوچستان میں منتخب حکومت قائم ہوئی۔سن 1973 تک بلوچستان گورنر جنرل کے براہ راست کنٹرول میں رہا۔

حکومت[ترمیم]

بلوچستان کی صوبائی علامات
صوبائی جانور اونٹ Camel-Desert animal.jpg
صوبائی پرندہ تلور MacQueens Bustard in Greater Rann of Kutch, Gujarat, India.jpg
صوبائی درخت کھجور Phoenix dactylifera1.jpg
صوبائی پودا Perovskia atriplicifolia 3.jpg

بلوچستان کے اضلاع[ترمیم]

بلوچستان کے 33 اضلاع ہیں۔

  1. آواران
  2. بارخان
  3. بولان
  4. چاغی
  5. ڈیرہ بگٹی
  6. گوادر
  7. ہرنائی
  8. جعفر آباد
  9. جھل مگسی
  10. قلات
  11. کیچ
  12. خاران
  13. کوہلو
  14. خضدار
  15. قلعہ عبداللہ
Balochistan Districts.svg
  1. قلعہ سیف اللہ
  2. لسبیلہ
  3. لورالائی
  4. مستونگ
  5. موسیٰ خیل
  6. نصیر آباد
  7. نوشکی
  8. پنجگور
  9. پشین
  10. کوئٹہ
  11. شیرانی
  12. سبی
  13. واشک
  14. ژوب
  15. زیارت

آبادیات[ترمیم]

تاریخی آبادی
مردم شماری آبادی شہری آبادی کا تناسب

1951 1,167,167 12.38%
1961 1,353,484 16.87%
1972 2,428,678 16.45%
1981 4,332,376 15.62%
1998 6,565,885 23.89%

متعلقہ مضامین[ترمیم]

ایوان عکس[ترمیم]

مزید دیکھیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. سے درآمد: MusicBrainz