بلوچستان تنازع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بلوچستان تنازع
Balochistan in Pakistan.svg
پاکستان کا نقشہ، جس میں صوبہ بلوچستان سرخ رنگ میں ہے۔
تاریخ1948-تاحال
اہم واقعات: 1948، 1958–59، 1963–69، 1973–77، 2004–تاحال
مقامبلوچستان
حیثیت

جاری

محارب

Flag of Pakistan.svg پاکستان

Flag of the People's Republic of China.svg چین (2004 سے )[1]
حمایت:
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ
Flag of Afghanistan.svg افغانستان (2004 سے)
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات


Flag of Iran.svg ایران[2]

بلوچ علیحدگی پسند گروہ

حمایت:
Flag of Iraq (1963–1991); Flag of Syria (1963–1972).svg عراق (1970 کی دہائی)[3]
Flag of افغانستان جمہوری جمہوریہ افغانستان (1992 تک)


فرقہ وارانہ گروہ
جنداللہ[4][5]
Jaish ul-Adl
Jundallah (Pakistan)
القاعدہ
لشکرجھنگوی[3]

سپاہ صحابہ[3]
کمانڈر اور رہنما

Presidential Standard of Pakistan (1956-1967).svg لیاقت علی خان (1979-1951)
Presidential Standard of Pakistan (1956-1967).svg Ayub Khan (1979-1974)
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg ذوالفقار علی بھٹو (1971–1979)
Flag of the Pakistani Army.svg ٹکا خان (1979–2002)
Flag of the Pakistani Army.svg رحیم الدین خان (1979–1988)
Flag of the President of Pakistan.svg پرویز مشرف (2001–2008)
Flag of the Pakistani Army.svg اشفاق پرویز کیانی (2007–2013)
Flag of the Pakistani Army.svg راحیل شریف (2013-تاحال)
Flag of چین Hu Jintao (2002–2012)
Flag of چین شی جن پنگ (2012–تاحال)
Flag of the People's Liberation Army.svg Liang Guanglie (2008–2013)
Flag of the People's Liberation Army.svg Fan Changlong (2013–تاحال)
Flag of the People's Liberation Army.svg Xu Qiliang (2013–تاحال)


State flag of Iran (1964–1980).svg شاہ رضا پہلوی (1979–1980)
Flag of ایران روح اللہ خمینی (1979–1989)
Flag of ایران آیت اللہ سید علی خامنہ ای (1989-تاحال)
Flag of ایران Mohammad Khatami (1979–2005)

Flag of ایران Hassan Firouzabadi (1979–تاحال)

کریم خان (جنگی قیدی)
Nowroz Khan (جنگی قیدی)
نواب خیر بخش مری  
میر بالاچ مری  
Brahamdagh Bugti[8]
اللہ نذر بلوچ
Javed Mengal[9]


Dad Shah  
عبدالمالک ریگی  
Abdolhamid Rigi  

Muhammad Dhahir Baluch[حوالہ درکار]
طاقت

Flag of پاکستان پاکستان

Flag of چین چین

بی ایل اے: 10,000[11]


جنداللہ: 700[12]-2,000[13]
ہلاکتیں اور نقصانات

Flag of پاکستان Pakistani security forces
1973–1977:
3,000–3,300 ہلاک[14]
2006–2009:
303+ ہلاک[15]
Flag of چین Chinese armed forces
2004-تاحال:
نامعلوم


Flag of ایران ایران
154 ہلاک (security forces and civilians)[16]

بلوچ فائیر
1973–1977
5,300 ہلاک[14]
2006–2009:
380+ ہلاک[15]


~6,000 پاکستان میں شہری ہلاک (1973–1977)[14]
1,628+ پاکستان میں شہری ہلاک (2004–2009)[10][15]
~4,500 گرفتار (2004–2005)[10]
~140,000 بے گھر (2004–2005)[10]

Flag of چین 3 چینی انجینئر ہلاک
4 اغوا
5 تیل کے ٹینکر damaged[1]
پاکستان،ایران اور افغانستان میں بلوچ آبادی والے علاقے گلابی رنگ میں دکھائے گئے ہیں،جن کے لیے بلوچ علیحدگی پسند الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں

بلوچستان تنازع بلوچ قوم پرستوں اور حکومت پاکستان و ایران کے درمیان چلنے والا ایک گوریلا جنگ ہے۔ اس تنازع کا خطہ پاکستانی صوبہ بلوچستان، ایرانی صوبہ سستان بلوچستان اور افغانی بلوچستان ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند بلوچستان کے وسائل پر اختیار اور الگ ریاست چاہتے ہیں جبکہ پاکستان ،ایران اور افغانستان کے حکومتیں اسے بغاوت اور مخالفین کے سازشیں ٹھہراتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے فریقین (بلوچ علیحدگی پسندوں اور حکومت پاکستان، ایران و افغانستان) پر انسانی حقوقی کی پامالی کا الزام لگتا رہا ہے۔[17]

پاکستانی صوبہ بلوچستان میں اس سے پہلے کئی مرتبہ اس طرح کے تنازعات 1948, 1958–59, 1962–63 اور 1973–77 میں بھی سامنے آئے۔ لیکن موجودہ تنازع جو ان سب سب سے شدت والا ہے، 2003ء میں شروع ہوا۔ اس تنازع نے شدت زیادہ اس لیے اختیار کی کیونکہ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں قانون و نفاذ کا مسئلہ رہا جس کے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ افغانستان جنگ نے نہ صرف پاکستانی بلوچستان بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں خاص کر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔ تنازع کے شدت کی ایک وجہ وفاق کے سطح پر عدم استحکام بھی بنا۔ عام طور پر لوگوں میں یہ تعصور پایا گیا کہ وفاق پسماندہ اور چھوٹے صوبوں کی طرف توجہ نہیں دیتا۔

علیحدگی پسندوں کیجانب سے حکومت کے تمام بڑے اور اہم تنصیبات پر حملے کیے گئے جن میں ایک فوجی کنٹونمنٹ بھی شامل ہے جو کوئٹہ شہر میں واقع ہے۔ باغیوں نے اس کنٹونمنٹ پر بھی حملہ کیا جس میں اعلیٰ فوجی افسران جاں بحق ہوئے۔[18] پاکستان کا موقف ہے کہ بلوچستان میں کچھ بیرونی قوتیں مداخلت کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں اور پاکستان بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے جائے گا۔[19][20][21][22][23] دوسری جانب بلوچ علیحدگی پسندوں کا یہ موقف ہے کہ مرکزی یا وفاقی حکومت بلوچستان کو توجہ نہیں دیتا،بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ قدرتی وسائل فراہم کرنے والا خطہ ہے لیکن پھر بھی سب سے زیادہ پسماندگی اور غربت بلوچستان میں ہے۔[24]

بلوچ ری پبلکن آرمی کو پاکستان اور برطانیہ دونوں نے ایک دہشت گرد کالعدم تنظیم قرار دیا ہے۔[25]۔ بلوچ ری پبلکن آرمی نے کئی دہشت گردانہ حملے کیے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد میں نہتے شہری مارے گئے ہیں۔ اس طرح کے دیگر کالعدم تنظیموں میں لشکر بلوچستان اور بلوچ لیبریشن فرنٹ شامل ہیں جن کو کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے جن میں پاکستانی فوجی،پولیس اور بے گناہ شہری مارے گئے ہیں۔[26][27][28]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Kiyya Baloch۔ "Chinese Operations in Balochistan Again Targeted by Militants"۔ The Diplomat۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Abubakar Siddique۔ "Jundallah: Profile Of A Sunni Extremist Group"۔ Radio Free Europe/Radio Liberty۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. ^ ا ب پ B Raman۔ "Iraq's shadow on Balochistan"۔ Asia Times۔ مورخہ 22 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  4. Hossein Aryan۔ "Iran Offers Short-Term Solutions To Long-Term Problems Of Baluch Minority – Radio Free Europe / Radio Liberty 2010"۔ Radio Free Europe/Radio Liberty۔ مورخہ 25 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  5. "Iranian group makes kidnap claim – Middle East"۔ Al Jazeera۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  6. "IB advise talks with Baloch separatists"۔ Dawn۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "President, PM must talk to Baloch leadership: Nawab Talpur"۔ Pakistan Observer۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2012۔
  8. "PressTV – Baloch rebels 'linked with Afghanistan'"۔ Press TV۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  9. "Butchering settlers on Independence day"۔ Pakistan Observer۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. ^ ا ب پ ت ٹ Ray Fulcher۔ "Balochistan: Pakistan's internal war"۔ Europe Solidaire Sans Frontières۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. Maloy Krishna۔ "Balochistan: Cruces of History- Part II"۔ Maloy Krishna Dhar۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  12. "Asia Times Online :: South Asia news, business and economy from India and Pakistan"۔ Asia Times۔ مورخہ 29 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  13. "Asia Times Online :: South Asia news, business and economy from India and Pakistan"۔ Asia Times۔ مورخہ 29 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  14. ^ ا ب پ "Eckhardt, SIPRI 1988: 3,000 military + 6,000 civilians = 9,000, Clodfelter: 3,300 govt. losses"۔ Users.erols.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2014۔
  15. ^ ا ب پ "Balochistan Assessment – 2010"۔ Satp.org۔ مورخہ 11 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2010۔
  16. Patrick Goodenough۔ "Iran Executes Insurgent Leader, Accused of Ties With American Intelligence"۔ CNSnews.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جولا‎ئی 2015۔
  17. "Baloch separatists attack traders"۔ BBC News۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2012۔
  18. Malik Siraj Akbar۔ "The End of Pakistan's Baloch Insurgency?"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جون 2015۔
  19. Pakistan to seek extradition of top Baloch insurgents - The Express Tribune
  20. RAW instigating terrorism, says army - Pakistan - DAWN.COM
  21. Indian RAW Involved in Balochistan and Karachi Unrest
  22. 'RAW Is Training 600 Balochis In Afghanistan'
  23. Makhdoom Babar۔ "Indian RAW's 'Kao Plan' unleashed in Balochistan"۔ Terminal X۔
  24. Geoffrey Kemp۔ The East Moves West: India, China, and Asia's Growing Presence in the Middle East۔ Brookings Institution۔ صفحہ 116۔ آئی ایس بی این 978-0-8157-0388-4۔
  25. "Proscribed Terrorist Organisations"۔ Home Office (Government of the United Kingdom۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  26. "Balochistan: "We only receive back the bodies""۔ The Economist۔ Quetta۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جولا‎ئی 2015۔
  27. "Waking up to the war in Balochistan"۔ BBC News۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اپریل 2012۔ The civil war has left thousands dead – including non-Baloch settlers and has gone on for the past nine years, but it hardly made the news in Pakistan, let alone abroad.
  28. ""Their Future is at Stake": Attacks on Teachers and Schools in Pakistan's Balochistan Province" (پی‌ڈی‌ایف)۔ نگہبان حقوق انسانی۔ militant Baloch groups such as the Baloch Liberation Army (BLA) and the Baloch Liberation United Front (BLUF) seeking separation or autonomy for Balochistan have targeted Punjabis and other minorities, particularly in the districts of Mastung, Kalat, Nushki, Gwadar, Khuzdar, and Quetta.