بمل رائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بمل رائے
(بنگالی میں: বিমল রায় خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bimal Roy 2007 stamp of India.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 12 جولا‎ئی 1909  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ڈھاکہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 جنوری 1966 (57 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg بھارت (15 اگست 1947–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد رنکی بھتٹاچریا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 4   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلم ہدایت کار،  ڈی او پی،  فلم ساز،  منظر نویس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

ہندوستانی سینما کے مشہور ہدایت کار۔ جولائی 1909ء کو ڈھاکہ کے ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے، لیکن کم عمری میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور گھر کی ذمہ داریاں ان کے کاندھوں پر آپڑیں۔ اس زمانے میں زمینداروں کے ذریعہ مزارعوں پر جو مظالم کیے جاتے تھے یا کھیت مزدوروں کا جو استحصال کیا جاتاتھا، انہیں بمل رائے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اسی لیے بمل رائے نے جن فلموں کی ہدایت کاری کی ان میں یہ اثرات صاف نظر آتے ہیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد 1947ء میں وہ بیوہ والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ کلکتہ چلے آئے تھے اور یہاں انہیں بہت ہی بے سروسامانی میں زندگی کے دن گزارنے پڑے۔ اس جدو جہد کے دوران ہی ان کی ملاقات فلموں سے وابستہ پی سی بروا سے ہو گئی، جنہوں نے بمل رائے کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان کو اپنی فلم دیو داس میں معاون بنایا تھا۔

دیوداس[ترمیم]

اس فلم کے ہیرو مشہور گلو کار کندن لال سہگل تھے۔ اس کے بعد بمل رائے نے نصف درجن سے زائد بنگلہ فلموں میں بطور معاون ہدایت کار اور پھر ہدایت کار کے طور پر کام کیا۔ 1950ء میں وہ ممبئی چلے آئے اور ہندی فلموں میں ہدایت کاری شروع کی۔ انہوں نے اپنی کمپنی بمل رائے پروڈکشن کی بنیاد رکھی۔ بعد میں انہوں نے پھر سے فلم دیو داس بنائی جس میں دلیپ کمار کو بطور ہیرو لیا۔

فلمی کیرئیر[ترمیم]

انہوں نے دو درجن سے زائد فلموں میں ہدایت کاری کے جوہر دکھائے تھے، ان میں سے نصف درجن فلموں کو تو فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ جن میں دو بیگھا زمین، پرنیتا، براج بہو، مدھو متی، سجاتا، پرکھ اور بندنی شامل ہیں۔ بمل رائے کی فلم ”دو بیگھا زمین“ نے روایات کی تمام بندشوں کو توڑ دیا تھا، اسی لیے اس فلم کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی بلکہ اس نے اس دور میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دئے تھے۔ اس فلم کو فرانس میں ہونے والے کانز فلمی میلے میں بھی بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ بمل رائے نے صرف عصری فلموں پر ہی اپنی چھاپ نہیں چھوڑی تھی بلکہ بعد میں آنے والی فلمیں بھی اس سے متاثر نظر آتی ہیں۔ کتنے ہی نام ور فلمی ہدایت کار بمل رائے کے انداز کے خوشہ چین ہیں۔ ستیہ جیت رے، ریتوک گھٹک، مرنال سین، تپن سنہا وغیرہ نے بمل رائے کی صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔

اعتراف[ترمیم]

جن اداکاروں اور مصنفین نے بمل دا کے ساتھ کام کیا تھا وہ ان کی صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے تھے اور یہ کہنے میں انہیں کوئی جھجھک نہیں تھی کہ بمل دا کی صلاحیتوں کی کوئی سرحد نہیں تھی یہ صلاحیتیں خداداد تھیں جن کا استعمال کر کے انہوں نے ان کو چمکایا تھا۔

انتقال[ترمیم]

7 جنوری 1966ء کو 56 سال کی عمر میں ان کا ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے 30 سال بعد بمل رائے میموریل اینڈ فلم سوسائٹی کی بنیاد ان کے چاہنے والوں نے 1997ء میں ڈالی۔ جس کی نمائندگی کر کے 2007ء میں بمل رائے کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری ہوا۔ اور ان پر حکومت ہند کے ادارہ فلم ڈویزن نے ایک یاد گار فلم بھی بنائی ۔۔

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. https://www.sscnet.ucla.edu/southasia/Culture/Cinema/bimalroy.htm