بندہ سنگھ بہادر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بندہ سنگھ بہادر
بندہ سنگھ بہادر

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (پنجابی میں: Lacchman Dev خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 27 اکتوبر 1670ء
راجوری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 جون 1716ء (عمر: 46 سال)
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سزائے موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
دیگر نام مادھو داس
اولاد 1 (اجے سنگھ)
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
دور فعالیت 1708ء - 1716ء

بندہ سنگھ بہادر (پیدائشی نام: لکشمن دیو، اسے بندہ بہادر،[2] لكشمن داس اور مادھو داس[3][4] بھی کہتے ہیں) (27 اکتوبر 1670ء – 9 جون 1716ء، دہلی) ایک سکھ فوجی افسر تھا۔ یہ پہلا سکھ سپہ سالار تھا جسے مغلوں کے مقابلے میں فتح ملی اور یوں چھوٹے صاحبزادوں کے قتل کا انتقام پورا ہوا۔ یہی نہیں، اس نے گرو گوبند سنگھ کے نام سے سکے اور مہر بھی جاری کی۔ نچلی ذات کے لوگوں کو اعلیٰ عہدے دیے اور ہل چلانے والے مزدور کسانوں کو زمینوں کا مالک بنا دیا۔

بندہ سنگھ بہادر نے رہبانیت اختیار کرنے کے لیے 15 برس کی عمر میں گھر چھوڑ دیا تھا، اس وقت اسے مادھو داس کا لقب ملا۔ دریائے گوداوری کے کنارے ناندیڑ شہر میں اس نے ایک آشرم تعمیر کیا جہاں ستمبر 1708 میں گرو گوبند سنگھ آئے تو بندہ سنگھ نے ان کی شاگردی اختیار کر لی۔ اسی موقع پر گرو گوبند سنگھ نے اسے نیا نام بندہ سنگھ بہادر سے نوازا اور اس کے بعد وہ اسی نام سے مشہور ہوا۔ گرو گوبند سنگھ کی عنایتوں سے شہ پاکر اس نے ایک لڑاکا فوج بنائی اور مغلیہ سلطنت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ بندہ سنگھ نے پہلا بڑا حملہ مغلوں کے علاقائی دار الحکومت سمانا پر کیا[3] جب پنجاب میں اس کے قدم مضبوط ہو گئے تو زمینداری نظام کا خاتمہ کر کے حائیداد کے حقوق کسانوں کو دے دیے۔ بعد ازاں مغلوں نے اسے گرفتار کیا اور سنہ 1716ء میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سنہ 1670ء میں بندہ سنگھ بہادر کی پیدائش کشمیر میں واقع ضلع پونچھ کے راجوری علاقے میں ہوئی۔ وہ راجپوتوں کے بھاردواج قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ پیدائش کے بعد اس کا نام لکشمن دیو رکھا گیا۔ 15 برس کی عمر میں وہ جانکی پرساد نامی ایک راہب کا شاگرد ہو گیا اور اس کا نام مادھو داس پڑا۔ بعد ازاں اس نے ایک اور بابا رام داس کی شاگردی اختیار کی اور کچھ وقت پنچوٹی (ناسک) میں رہا۔ وہاں کسی سے یوگا کی تعلیم حاصل کی اور ضلع ناندیڑ میں سکونت اختیار کی اور وہیں دریائے گوداوری کے کنارے اپنے آشرم کی بنیاد رکھی۔

گرو گوبند سنگھ کی شاگردی[ترمیم]

3 ستمبر 1708ء کو ناندیڑ میں سکھوں کے دسویں گرو گوبند سنگھ اس آشرم میں آئے اور بندہ سنگھ کو سکھ مت قبول کرنے کی دعوت دی جسے اس نے قبول کیا۔ سکھ مت میں داخل ہونے کے بعد گرو گوبند سنگھ نے اس کا نام بندہ سنگھ بہادر رکھا۔ پنجاب میں سکھوں پر تشدد اور گرو گوبند سنگھ کے سات اور نو برس کے بچوں کے قتل نے بندہ سنگھ کو بہت متاثر کیا اور گرو گوبند سنگھ کے حکم سے وہ پنجاب آیا اور سکھوں کے تعاون سے مغل حکام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ مئی 1710ء میں اس نے سرہند فتح کیا اور دریائے ستلج کے جنوب میں سکھوں کی خالصہ حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس نے خالصہ کے نام سے حکومت بھی کی اور گرو گوبند سنگھ کے نام کے سکے رائج کیے۔

مغلوں کی فوج کشی[ترمیم]

بندہ سنگھ نے اپنی ریاست کے ایک بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور اسے شمال مشرق اور پہاڑی علاقوں لاہور اور امرتسر تک وسعت دی۔ سنہ 1715ء کے ابتدا میں مغل شہنشاہ فرخ سیر کی شاہی فوج نے عبد الصمد خان کی قیادت میں گورداسپور ضلع کے دھاریوال علاقے کے قریب واقع گروداس ننگل قلعہ میں بندہ سنگھ کو کئی مہینوں تک محصور رکھا۔ سامان رسد اور اشیائے خور و نوش ختم ہو جانے کے بعد اس نے 7 دسمبر کو ہتھیار ڈال دئے۔ فروری 1716ء کو 794 سکھوں کے ساتھ وہ دہلی لایا گیا جہاں 5 مارچ سے 13 مارچ تک ایک دن میں 100 سکھوں کو پھانسی دی گئی۔ 16 جون کو شہنشاہ فرخ سیر کے حکم سے بندہ سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

بندہ بیراگی بھت چالاک مکار شخص تھا گر گوبند سنگھ کی جگہ لینا چاھتا تھا اس درندہ صفت شخص نے مسلمانوں پہ بھت ظلم کیا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Harbans Sagoo۔ Banda Singh Bahadur and Sikh Sovereignty۔ Deep & Deep Publications۔
  2. Rajmohan Gandhi، Revenge and Reconciliation، صفحات 117–118
  3. ^ ا ب Ganda Singh۔ "Banda Singh Bahadur"۔ Encyclopaedia of Sikhism۔ Punjabi University Patiala۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 جنوری 2014۔
  4. "Banda Singh Bahadur"۔ Encyclopedia Britannica۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2013۔