بنفسیہ و بمثلیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بنفسیہ و بمثلیہ ، فلسفہ و فلسفۂ سائنس ، بطور خاص علمیات (Epistemology) میں استعمال ہونے والی دو ایسی اصطلاحات ہیں جنکا اطلاق اکثر (مگر ہمیشہ نہیں) معلومات اور علم کی شناخت کے دوران کیا جاتا ہے۔ بنفسیہ کو انگریزی میں a Priori اور بمثلیہ کو a Posteriori کہا جاتا ہے۔ بنفسیہ سے مراد ایسی معلومات (بعض اوقات مفروضے) کی لی جاتی ہے کہ جن کی بنیاد خود اپنی ذات میں موجود ہو یا یوں کہـ سکتے ہیں کہ انکی اساس کو قائم کرنے کے لیے کسی تجربے یا مشاہداتی شہادت کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ بمثلیہ ایسی اصطلاح ہے کہ جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے کہ جب کسی معلومات (بعض اوقات مفروضے) کی دلیل کے لیے کسی دیگر مشاہداتی شہادت یا کسی دیگر تجربے یا مظہر کی ضرورت ہو یا یوں کہ سکتے ہیں کے انکی توجیہ کے لیے کسی قسم کی گذشتہ تجرباتی مثال کی ضرورت ہوا کرتی ہو، اسی لیے اس کو اردو میں بمثلیہ کہا جاتا ہے۔

آسان وضاحت[ترمیم]

آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو بنفسیہ کو ایک ایسی معلومات کہا جاتا ہے کہ جس کی تصدیق خود اس کے اپنے اندر پہلے سے بہ نفس نفیس موجود ہو جبکہ بمثلیہ ایک ایسی معلومات ہوگی کہ جس کی تصدیق یا جس کے وا‍قعی معلومات ہونے کو تسلیم کرنے کے لیے اس معلومات کے بعد کسی دیگر مشاہدے یا معلومات کی مثال کی ضرورت پڑتی ہو یعنی اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوا کہ بمثلیہ کو کسی دیگر معلومات یا مثال جیسی معلومات یا مثال کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر یہ کہا جائے کہ چاۓ کے پانی میں دودھ شامل کرنے سے چائے کے پانی کا رنگ ہلکے سیاہی مائل سے بھورا یا خاکی ہو جاتا ہے تو یہ ایک بنفسیہ معلومات ہوگی کیونکہ منطق یہی کہتی ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ چائے کے پانی میں تین چمچے دودھ شامل کرنے سے اس کا رنگ اس خاص حد تک گہرا بھورا اور چھ چمچے دودھ شامل کرنے سے اس خاص حد جیسا ہلکا بھورا ہو جائے گا تو پھر یہ ایک بمثلیہ مثال ہوگی کیونکہ اس کی ایک درست معلومات کی حیثیت سے تصدیق یا دلیل کی خاطر چائے کے پانی میں تین چمچے اور چھ چمچے دودھ کے ڈال کر مشاہدہ کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ تمام کنوارے، غیر شادی شدہ ہوتے ہیں تو یہ ایک بنفسیہ ملومات ہوگی جبکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کنوارا، طویل الجسامت ہے تو یہ ایک بمثلیہ معلومات ہوگی کیونکہ اس کی توجیہ کے لیے دیگر کنواروں سے اس کی مثال درکار ہوگی۔

اگر اوپر کی دونوں مثالوں پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بنفسیہ اور بمثلیہ میں صرف منطق اور اور مشاہدے کا ہی ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ان میں تجزیہ لازمی طور پر شامل ہوتا ہے یعنی اگر یہ بات منطق سے ثابت ہے کہ چائے کے پانی میں دودھ ڈالنے سے رنگ بھورا ہو جائے گا تو اس میں بھی تجزیے اور کسی نہ کسی حد تک گذشتہ تجربے کی ضرورت ہے جبکہ زیادہ دودھ ڈالنے سے رنگ ہلکا بھورا ہوجانے والی بات بھی تجربے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی حد تک منطق سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اور اسی طرح سے اس تجزیے والی بات کا اطلاق کنواروں کی مثال سمیت تمام بنفسیہ و بمثلیہ مواقع پر ہوتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]