بنو دنی داسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بنو دنی داسی
(بنگالی میں: বিনোদিনী দাসী ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Binodini dasi.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 1862ء
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1941ء (عمر 78–79)
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ڈراما اداکارہ
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بنو دنی داسی (1841ء-1941ء) کولکاتا میں مقیم بنگالی زبان کی مشہور اداکارہ اور تھیٹر آرٹسٹ تھیں۔[1] انہوں نے 12 برس کی عمر میں اداکاری کی شروعات کی اور 23 برس کی عمر میں ان کا کیرئر ختم ہوگیا۔ انہوں نے اپنی خود نوشت سانح امر کتھا میں اس کا انکشاف کیا جو 1913ء میں شائع ہوئی تھی۔[2]

حالات زندگی[ترمیم]

انہوں نے بحیثیت طوائف زادی اس دنیا میں اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنا کیرئر ایک داشتہ کے طور پر بعمر 12 سال کیا۔ انہوں نے کولکاتا سے نیشنل تھیٹر میں 1874ء میں اپنا پہلا سنجیدہ ڈراما پیش کیا جس کے نگراں گیریش چندر گھوش تھے۔[3] اسی دوران میں بنگالی تھیٹر میں یورپی ثقافت میں فروغ پا رہی تھی اور عوام اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہی تھی۔ اپنے بارہ سال کے کیرئر میں انہوں نے 8 کردار نبھائے ہیں جن میں سیتا، دروپدی، رادھا، عائشہ، کائیکائی، موتی بی بی اور کپال کوندلا شامل ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی اول درجہ کی تھیٹر اداکارہ ہیں جنہوں خود نوشت سوانح عمری لکھی ہے۔ انہوں نے اچانک اپنا کیرئر ختم کر دیا اور لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ کسی نے اب تک اس کی کوئی تفصیل یا وجوہات پر روشنی نہیں ڈالی ہے۔ انہوں نے اپنی خود نوشت میں کئی دغا اور بے وفائی کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے دقیانوسیت کو نظر انداز کرتے ہوئے نسوانیت کا اپنایا اور سماج میں اپنی اہمیت اور عظمت پر قلم اٹھایا۔ ان کا شہرہ اتنا زیادہ تھا کہ 19ویں صدی کے مشہور صوفی سنت رام کرشن 1884ء میں ان کا ڈراما دیکھنے آئے تھے۔[4] انہوں نے بنگالی تھیٹر کو نئی تکنیک سے نوازا اور یورپی تکنیک کو متعارف کرایا جس سے بنگالی تھیٹر کو ایک نئی سمت ملی۔

ثقافت عامہ میں[ترمیم]

1994ء میں ان پر ایک فلم بنی جس کا نام ناتی بنودنی تھا۔ اس میں پراسینت جی چٹرجی اور دیباشری رائے نے اداکاری تھی۔[5]

ان کی سوانح عمری “امر کتھا“ پر ایک ڈراما بنام ناتی بنودنی بنایا گیا۔ جسے پہلی دفعہ نیشنل اسکول آف ڈراما نے 1995ء میں پیش کیا اور دوسری دفعہ 2006ء میں تھیٹر ہدایتکار امل علانہ نے دہلی میں پیش کیا۔[6][7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Murshid، Ghulam (2012). "Dasi, Binodini". In Islam، Sirajul؛ Jamal، Ahmed A. Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (ایڈیشن Second). Asiatic Society of Bangladesh. 
  2. "Women on stage still suffer bias: Amal Allana (Interview)". Sify News. 11 مارچ 2010. اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2010. 
  3. Bringing alive Binodini Dasi دی ٹریبیون، Sunday, 18 نومبر 2007.
  4. Christopher Pinney, Photos of the Gods p. 42
  5. Nati Binodini-IMDB
  6. Romesh Chander (8 دسمبر 2006). "Autobiography comes alive : "Nati Binodini"، based on Binodini's autobiography "Aamar Kathaa"". The Hindu. 6 جون 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2010. 
  7. "STAGE CRAFT". India Today. 8 فروری 2008. اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2010. 
  8. "Lights, sets, action.۔: Nissar and Amal Allana's "Nati Binodini" premieres this weekend in Delhi.". The Hindu. 24 نومبر 2006. اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2010.