بنو قحطان
بنو قحطان بنو عدنان کے مقابلے پر عرب کے دوسرے قبائل کا بنیادی نام ہے۔ بنو قحطان کی مختلف شاخیں ہیں۔ یہ سب بھی سام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔
اور اس کے قرب و جوار کے باشندے ہیں اور عرب عاربہ بھی کہلاتے ہیں۔ بنو جرہم اور بنو یعرب انہی کی شاخیں ہیں۔ بنو یعرب میں سے عبد ِ شمس جو سبائی کے نام سے مشہور ہے یمن کے تمام قبیلوں کا جد امجد ہے۔ اسی نے یمن کا شہر بسایا تھا اور وہاں تین پہاڑیوں کے درمیان میں ایک بہت بڑا بند باندھا تھا۔ اس بند میں بہت سے چشموں کا پانی آ کر جما ہوتا تھا جس سے بلند مقامات کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔
یہ بند کچھ مدت بعد کمزور ہو کر ٹوٹ گیا تھا جس سے سارے ملک میں بہت بڑا سیلاب آ گیا تھا اس سیلاب کا ذکر قرآن کریم میں بھی آ یا ہے اور عرب کی کہانیوں اور شعروں میں بھی جا بجا موجود ہے۔ اس سیلاب سے تباہ ہو کر یمن کے اکثر خاندان دوسرے مختلف مقامات پر جا بسے تھے۔
تاریخ
[ترمیم]تہذیب و تمدن کے لحاظ سے یہ سارے عرب میں فائق تھے۔ ملکہ بلقیس بنو قحطان کے ازدی قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی۔ قبائل ازد میں سے ایک قبیلے نے مدینے آکر اپنی حکومت قائم کی۔ بنو قحطان کے دو بڑے قبیلے تھے ان میں سے ایک حمیر اور اس حمیر کی مشہور شاخیں زید الجمہور قضاعہ اور سکاسک ہیں دوسرا قبیلہ کہلان تھا اور اس کی مشہور شاخیں ہمدان ،انمار، طی،مزحج،کندہ لخم جزام،ازداوس ،خزرج اور اولاد جفنہ ہیں جنھوں نے آگے چل کر ملک شام کے اطراف میں حکومت کی اور آل غسان کے نام سے مشہور ہوئے عام کہلانی عرب نے یمن چھوڑ کر عرب کا رخ اختیار کیا اور وہی پھیل گئے