بنو مصطلق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بنو مُصْطَلِق بنو خزاعہ کا ایک طائفہ تھا جس کا نسب جَذیمہ ابن سعد بن عمرو بن ربیعہ تک پہنچتا ہے۔ ابن دُرَید کا کہنا ہے کہ جذیمہ کو اس لئے مصطلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آواز بہت بلند اور خوبصورت تھی۔

بنو مصطلق

یہ طائفہ مُرَیْسیع کے پانی کے کنارے قُدَید کے علاقے میں سکونت پذیر تھے۔چونکہ بنی حارث اور ھُون کے طائفے سے پیمان باندھ چکے تھے اس لیے «اَحابیش»سے مشہور تھے۔

اسلام کی آمد کے بعد قریش سے روابط اور اپنے تجارتی منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قبیلے نے اسلام لانے سے انکار کیا اور پیغمبر اکرم ﷺ نے بھی خزاعہ کی خاطر ان سے نرمی سے سلوک کیا۔لیکن وہ لوگ پانچویں یا چھٹی ہجری کو پیغمبر اکرمؐ سے جنگ کرنے پر اتر آئے اور غزوہ بنی مصطلق یا غزوہ مریسیع واقع ہوگیا۔

شخصیات[ترمیم]

اس خاندان کے بعض افراد بعض وجوہات کی بنا پر صحابی جیسے تھے۔ اور بعض تاریخی واقعات میں یا بعض روایات کے نقل کرنے کی بنا پر رجالی یا تاریخی کتابوں میں ان کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان افراد میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابوعبید، کتاب النسب، ۱۴۱۰ق، ص۲۹۱.
  2. ابن درید، کتاب الاشتقاق، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۴۷۶
  3. یاقوت حموی، معجم البلدان، دارصادر، ج۵، ص۱۱۸.
  4. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دارلمعرفہ، ج۱، ص۳۷۳.
  5. قریبی، مرویات غزوۃ بنی المصطلق، عمادۃ البحث العلمي بالجامعۃ الإسلاميۃ،ص۶۳
  6. واقدی، المغازی، اعلمی، ج۱، ص۴۰۴.
  7. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دارلمعرفہ، ج۲، ص۲۸۹.
  8. واقدی، المغازی، اعلمی، ج۱، ص۴۰۴-۴۱۰.
  9. ابن سعد، الطبقات الكبری، ۱۳۴۷ق، ج۸، ص۲۱۷.
  10. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج١، ص۳۹۹.
  11. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۴، ص۳۹۱.
  12. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۳، ص۷۰۷.
  13. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۳، ص۱۰۱.
  14. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۶، ص۲۰۰.
  15. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۶، ص۵۵.
  16. ↑ ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۴، ص۱۹۳.
  17. ↑ ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۴، ص۳۹۱.
  18. ↑ ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج۳، ص۵۸۴.