بنگالی باگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف

بنگالی باگھ

کانہا ٹائگر ریزرو میں نر باگھ، مدھیہ پردیش، بھارت

تقریباً 2½ سال عمر والی مادہ باگھ، کنہا میں
تقریباً 2½ سال عمر والی مادہ باگھ، کنہا میں
صورت حال

أنواع مهددة بالانقراض (خطر انقراض متوسط) (IUCN 3.1)[1]
اسمیاتی درجہ ذیلی نوع[2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں صنف بندی درجہ (P105) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بندی
جنس: Panthera
نوع: tigris
ذیلی نوع: tigris
سائنسی نام
Panthera tigris tigris[2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں صنف بندی نام (P225) ویکی ڈیٹا پر
لنی اس ، 1758  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں صنف بندی نام (P225) ویکی ڈیٹا پر
Range of Bengal tiger in red
Range of Bengal tiger in red

مرادفات [5]
* P. t. fluviatilis
  • P. t. montanus
  • P. t. regalis
  • P. t. striatus
[[file:|16x16px|link=|alt=]]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کومنز نگارخانہ (P935) ویکی ڈیٹا پر

بنگالی باگھ باگھوں کا ایک ذیلی نوع ہے، جس میں شامل باگھوں کو عام طور پر بنگلہ دیش اور بھارت میں پایا جاتا ہے۔[1] [5][6] اس کے علاوہ نیپال بھوٹان میانمار میں بھی اس کا وجود ہے۔ حکومتِ ہند کے ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے مطابق بھارت میں یہ نوع کثرت سے پایا جاتا ہے۔ ایک سو سال پہلے اس نوع کی تعداد ایک لاکھ تھی۔ 2011ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی تعداد صرف 2500 (دو ہزار پانچ سو) کے قریب ہے۔ یہ نوع 2008ء تک بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت کی لال فہرست کے خطرہ زدہ انواع میں درج رہا ہے۔ غیر قانونی شکار، مسکن کی تباہی اور انتشار پذیری کے باعث اس کا وجود خطرے میں ہے۔ 2010ء کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں باگھ کی مجموعی تعداد 1706 اور 1909 کے درمیاں ہے۔[7] اس میں بتدریج اضافہ ہوا اور 2014ء میں اس کی تعداد تقریباً 2226 ہے۔ بنگلہ دیش میں اس کی تعداد تقریباً 440، نیپال میں 163 سے 253 تک اور بھوٹان میں 103 ہے۔[8][9][10][11]

برصغیر میں باگھ کی آمد بارہ ہزار برس پہلے ہوئی تھی۔[12] بنگال باگھوں کو دنیا میں زندہ سب سے بڑا جنگلی بلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔[5][6]

بنگال باگھ بھارت اور بنگلہ دیش کا قومی جانور ہے۔[13] یہ بنگال رائل ٹائیگر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔[14]

خطرہ[ترمیم]

پچھلے ایک صدی میں باگھ کی تعداد بتدریج گھٹنے لگی۔ مسکن کی تباہی اور نہایت بے شمار غیر قانونی شکار کے واقعات نے اس کے احیائے نوع کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہوا۔[1]

جنوبی ہند کے مغربی گھاٹ جنگلی علاقوں میں ایک بڑی چنوتی یہ ہے کہ 14,400 مربع میل (37,000 مربع کلومیٹر) رقبے کے تحفظ شدہ علاقے کی سرحدوں میں انسانی آبادی ہوتی ہے۔ سیو دے ٹائیگر فنڈ کاؤنسل کے اعدادوشمار کے مطابق اراضی سے محروم 7,500 لوگ غیر قانونی طور پر 386 مربع میل (1000 مربع کیلومیٹر) رقبے پر بستے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Chundawat, R. S., Khan, J. A., Mallon, D. P.۔ "Panthera tigris tigris"۔ لال فہرست برائے خطرہ زدہ جاندار نسخہ 2017-3۔ بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت۔
  2. ^ ا ب پ عنوان : Integrated Taxonomic Information System — شائع شدہ از: 13 جون 1996
  3. ^ ا ب پ عنوان : Mammal Species of the World
  4.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دائرۃ المعارف حیات آئی ڈی (P830) ویکی ڈیٹا پر"معرف Panthera tigris tigris دائراۃ المعارف لائف سے ماخوذ"۔ eol.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جولا‎ئی 2019۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  5. ^ ا ب پ Mazák, V. (1981). "Panthera tigris". Mammalian Species 152 (152): 1–8. doi:10.2307/3504004. http://www.science.smith.edu/departments/Biology/VHAYSSEN/msi/pdf/i0076-3519-152-01-0001.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 February 2010. 
  6. ^ ا ب Heptner, V. G., Sludskij, A. A.۔ "Tiger"۔ Mlekopitajuščie Sovetskogo Soiuza. Moskva: Vysšaia Škola۔ Washington DC: Smithsonian Institution and the National Science Foundation۔ صفحات 95–202۔
  7. Status of tigers, co-predators and prey in India, 2010. TR 2011/003 pp-302 (پی‌ڈی‌ایف)۔ New Delhi, Dehradun: National Tiger Conservation Authority, Govt. of India, and Wildlife Institute of India۔ مورخہ 2012-01-20 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  8. Global Tiger Initiative۔ Global Tiger Recovery Program 2010–2022 (پی‌ڈی‌ایف)۔ Washington: Global Tiger Initiative Secretariat۔ مورخہ 26 اگست 2011 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  9. NTNC۔ "NTNC Chairman Released the Recent Tiger Number in Nepal"۔ Kathmandu: National Trust for Nature Conservation۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. Sangay, T., Wangchuk, T.۔ Tiger Action Plan for Bhutan 2006–2015۔ Thimphu: Nature Conservation Division, Department of Forests, Ministry of Agriculture, Royal Government of Bhutan and WWF Bhutan Programme۔
  11. WWF Bhutan۔ "Bhutan's tigers"۔ World Wide Fund For Nature۔ مورخہ 4 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 نومبر 2015۔
  12. Luo، S. J.; Kim، J.; Johnson، W. E.; van der Walt، J.; Martenson، J.; Yuhki، N.; Miquelle، D. G.; Uphyrkina، O. et al۔ (2004). "Phylogeography and Genetic Ancestry of Tigers (Panthera tigris)". PLoS Biology 2 (12): e442. doi:10.1371/journal.pbio.0020442. PMID 15583716. 
  13. E. Lytton۔ The Critical and Miscellaneous Writings of Sir Edward Lytton۔ صفحہ 167۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. Pandit, P.K. (2012). "Sundarban Tiger − a new prey species of estaurine crocodile at Sundarban Tiger Reserve, India". Tigerpaper XXXIX (1): 1−5. http://www.fao.org/3/a-am998e.pdf. 

بیرونی روابط[ترمیم]