مندرجات کا رخ کریں

صوبہ بنگال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بنگال صوبہ سے رجوع مکرر)
صوبۂ بنگالہ
(1576ء–1717ء)
ریاست بنگال
(1717ء–1793ء)
1576ء–1793ء
پرچم
Flag of Nawab of Bengal after 1717
Coat of arms of
نشان
1733ء میں بنگال نوابوں کے دور میں
حیثیتمغلیہ سلطنت کا صوبہ
دار الحکومت
عمومی زبانیں
مذہب
حکومت
صوبہ داران/نوابان
(نیچے دیکھیے)
 
تاریخی دورابتدائی جدید دور
12 جولائی 1576ء
1571ء–1611ء
1608ء
 خود اختیار حکمرانی
1717ء
اپریل 1741ء–مارچ 1751ء
1745ء–1748ء
23 جون 1757ء
22–23 اکتوبر 1764ء
16 اگست 1765ء
 انتظامی اور عدالتی اختیارات کی کمپنی راج کو منتقلی
1793ء
رقبہ
1600ء[9]233,930[10] کلومیٹر2 (90,320 مربع میل)
تقریباً 1781ء386,470[11] کلومیٹر2 (149,220 مربع میل)
آبادی
 1600ء[12]
12،919،000 (ساتواں)
 1700ء[13]
15،789،000 (پانچواں)
 1769ء[ا][14]
30,000,000
جی ڈی پی (پی پی پی)تخمینہ
 کل
1600ء: $11.52 بلین (ساتواں)[15]
1700: $14.08 بلین (نواں)[16]
کرنسیٹکہ
ماقبل
مابعد
1576ء:
سلطنت بنگال
1610ء:
بارو بھوئیاں
1666ء:
پرتگیزی چٹاگانگ
مملکت مروک او
1717:
مغلیہ سلطنت
بنگال پریسڈنسی
موجودہ حصہ

صوبۂ بنگالہ (فارسی: صوبه بنگاله) جسے مغلیہ بنگال اور 1717ء کے بعد ریاست بنگال بھی کہا گیا، مغلیہ سلطنت کا سب سے بڑا صوبہ تھا۔ اس میں وہ بیشتر علاقے شامل تھے اس میں تاریخی خطۂ بنگال کے وہ علاقے شامل تھے جن میں آج کا بنگلا دیش، بھارتی ریاست مغربی بنگال اور بہار (1733ء سے) کے حصے، نیز موجودہ بھارتی ریاستوں جھارکھنڈ اور اڈیشا کے بعض علاقے شامل تھے۔ یہ صوبہ سلطنت بنگال کے زوال کے بعد قائم ہوا۔ بنگال اُس زمانے میں برصغیر کا سب سے خوش حال اور دولت مند خطہ تھا۔

اورنگ زیب عالمگیر (1658ء–1707ء) نے صوبۂ بنگال کو ”اقوامِ عالم کی جنت“ اور ”عہدِ زریںِ بنگال“ قرار دیا۔ صرف یہی صوبہ ایشیا سے آنے والی ڈچ کمپنی کی مجموعی درآمدات کا چالیس فیصد حصہ مہیا کرتا تھا۔ مشرقی بنگال خصوصاً پارچہ بافی اور جہاز سازی جیسے عالمی شہرت یافتہ صنعتی مراکز میں شمار ہوتا تھا اور ریشم، سوتی کپڑا، فولاد، شورہ اور زرعی و صنعتی اجناس بڑی مقدار میں برآمد کی جاتی تھیں۔ اسی خطے کی اہمیت نے اسے انگریز بنگال جنگ کی بنیاد بھی بنایا۔

اٹھارھویں صدی عیسوی تک بنگال عملی طور پر ایک خود مختار ریاست بن کر ابھرا جس پر نوابانِ بنگال حکمران تھے اور نام کی حد تک مغلیہ اقتدار تسلیم کرتے تھے۔ اس دور میں بنگال میں ابتدائی صنعت کاری (Proto-industrialization) کا آغاز ہوا جس نے پہلے صنعتی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا خاص طور پر صنعتِ پارچہ میں۔ تاہم 1757ء اور 1764ء میں بالترتیب پلاسی اور بکسر کی جنگوں میں نوابِ بنگال کی شکست کے بعد خطہ کمپنی راج کے زیر اثر آگیا اور رفتہ رفتہ اس کی صنعتیں زوال پزیر ہوئیں۔ 1765ء میں شہنشاہ شاہ عالم ثانی نے بنگال کی دیوانی یعنی محصولات کا اختیار ایسٹ انڈیا کمپنی کو دے دی جبکہ 1793 میں نظامت یعنی انتظامی و عدالتی اختیار بھی کمپنی کے پاس چلا گیا۔ یوں نوابِ بنگال جو پہلے دونوں اختیارات رکھتے تھے، محض علامتی حکمران بن کر رہ گئے۔

مغلیہ بنگال کی تصاویر

[ترمیم]

حکومت

[ترمیم]

فہرست وائسرائے

[ترمیم]
راجہ مان سنگھ، مغلیہ بنگال (1594ء-1606ء) کے راجپوت وائسرائے
شائستہ خان، وائسرائے (1664ء-1688ء)
وائسرائے محمد اعظم شاہ (1678ء-1679ء)، بعد ازاں مغلیہ شہنشاہ بنے۔
وائسرائے عظیم الشان (1697ء-1712ء) بعد ازاں مغلیہ شہنشاہ بنے۔
نام[17] دور
منعم خاں خان خاناں
منعم خان، خان خانان
25 ستمبر 1574 - 23 اکتوبر 1575
حسین قلی بیگ خاں جہاں اول
حسین قلی بیگ، خان جهان اول
15 نومبر 1575 - 19 دسمبر 1578
مظفر خاں تربتی
مظفر خان تربتی
1579 - 1580
مرزا عزیز کوکہ خان اعظم
میرزا عزیز کوکه، خان اعظم
1582 - 1583
شہباز خاں کمبوہ
شهباز خان کمبوه
1583 - 1585
صادق خاں
صادق خان
1585 - 1586
وزیر خاں تاجک
وزیر خان
1586 - 1587
سعید خاں
سعید خان
1587 - 1594
راجہ مان سنگھ
راجه مان سنگه
4 جون 1594 - 1606
قطب الدین خان کوکہ
قطب الدین خان کوکه
2 ستمبر 1606 - May 1607
جہانگیر قلی بیگ
جهانگیر قلی بیگ
1607 - 1608
شیخ علاء الدین چشتی اسلام خاں چشتی
اسلام خان چشتی
جون 1608 - 1613
قاسم خاں چشتی
قاسم خان چشتی
1613 - 1617
ابراہیم خاں فتح جنگ
ابراهیم خان فتح جنگ
1617 - 1622
مہابت خاں
مهابت خان
1622 - 1625
مرزا امان اللہ خاں جہاں دوم
میرزا مان اللہ ، خان زمان ثانی
1625
مکرم خاں
مکرم خان
1625 - 1627
فدائی خاں
فدای خان
1627 - 1628
قاسم خاں جوینی قاسم منیجہ
قاسم خان جوینی، قاسم منیجه
1628 - 1632
میر محمد باقر اعظم خاں دوم
میر محمد باقر، اعظم خان
1632 - 1635
میر عبد السلام اسلام خاں مشہدی
اسلام خان مشهدی
1635 - 1639
سلطان شاہ شجاع
شاه شجاع
1639 -1660
میر جملہ دوم
میر جمله
مئی 1660 - 30 مارچ 1663
مرزا ابو طالب شائستہ خاں اول
میرزا ابو طالب، شایسته خان اول
مارچ 1664 - 1676
فدائی خاں کوکہ، فدای خان دوم
اعظم خان کوکه، فدای خان ثانی
1676 - 1677
سلطان محمد اعظم شاہ عالی جاہ
محمد اعظم شاه عالی جاه
1678- 1679
مرزا ابو طالب شائستہ خاں اول
میرزا ابو طالب، شایسته خان
1679 - 1688
ابراہیم خاں بن علی مردان خاں
ابراہیم خان پسر علی مردان خان
1688 - 1697
سلطان عظیم الشان
عظیم الشان
1697 - 1712
1712ء سے 1717ء تک کئی مقررہ حکام نے عہدہ سنبھالا ہی نہیں لہذا امورِ حکومت دراصل نائب صوبہ دار مرشد قلی خاں کے ذریعے چلائے جاتے رہے۔
مرشد قلی خاں
مرشد قلی خان
1717–1727

فہرست نواب

[ترمیم]
تصویر نوابی لقب ذاتی نام پیدائش دور حکومت وفات
ناصری خاندان
جعفر خاں بہادر ناصری مرشد قلی خاں 1665 1717– 1727 30 جون 1727
علاء الدین حیدر جنگ سرفراز خاں بہادر ? 1727-1727 29 اپریل 1740
شجاع الدولہ شجاع الدین محمد خان / مرزا دکنی تقریبا 1670 (تاریخ دستیاب نہیں) جولائی، 1727 – 26 اگست 1739 26 اگست 1739
علاء الدین حیدر جنگ سرفراز خان بہادر ? 13 مارچ 1739 – اپریل 1740 29 اپریل 1740
افشار خاندان
ہاشم الدولہ علی وردی خان قبل 10 مئی 1671 29 اپریل 1740 – 9 اپریل 1756 9 اپریل 1756
سراج الدولہ سراج الدولہ 1733 اپریل 1756 – 2 جون 1757 2 جولائی 1757

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Era, Mahmuda Iasmin (2023). The 'Swadeshi Jinish' from the 'Didima Company': An analysis of the connection between Thakurmar Jhuli by Dakshinaranjan Mitra Majumder and nationalism in Bengal in the late nineteenth and early twentieth century (Doctoral dissertation). Memorial University of Newfoundland.
  2. Akhtaruzzaman, Muhammad (2012). "Tandah". In Sirajul Islam; Sajahan Miah; Mahfuza Khanam; Sabbir Ahmed (مرتبین). Banglapedia: the National Encyclopedia of Bangladesh (بزبان انگریزی) (Online ed.). Dhaka, Bangladesh: Banglapedia Trust, Asiatic Society of Bangladesh. ISBN:984-32-0576-6. OCLC:52727562. OL:30677644M. Retrieved 2026-09-05.
  3. "Rajmahal – India". Encyclopædia Britannica (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2018-10-12. Retrieved 2018-04-05.
  4. "Dhaka – national capital, Bangladesh". Encyclopædia Britannica (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2017-10-10. Retrieved 2018-04-05.
  5. Jadunath Sarkar (2004) [1948]. The History of Bengal (بزبان انگریزی). Dhaka: Dhaka University. Vol. II. p. 224. ISBN:978-81-7646-239-6. The climax of the movement was reached after Murshid Quli Khan had established in Bengal what was practically a Shia dynasty, ever ready to welcome and honour the wandering talent and piety of the centre of that creed.
  6. Andreas Rieck (15 جنوری 2016)۔ The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority۔ Oxford University Press۔ ص ISBN:978-0-19-061320-4۔ From 1701 until the British conquest of 1757, Bengal was ruled by Shia governors appointed by the Mughals but de facto almost independent. Since that time huge imâmbârgâhs were built and estates designated as auqâf for the promotion of 'azâdârî by Iranian merchants and their descendants in Bengal towns like Murshidabad and Hoogly, which also attracted many Shia 'ulamâ' from both India and Iran.
  7. Saiyid Athar Abbas Rizvi [انگریزی میں] (1986). A Socio-intellectual History of the Isnā 'Asharī Shī'īs in India: 16th to 19th century A.D (بزبان انگریزی). Munshiram Manoharlal Publishers. Vol. 2. pp. 45–47.
  8. Andreas Rieck (15 جنوری 2016)۔ The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority۔ Oxford University Press۔ ص ISBN:978-0-19-061320-4
  9. Alexander V. Avakov (2017). -9781628940992-1/page/14/mode/2up?q=bangladesh Two Thousand Years of Economic Statistics, Volume 1: By Rank. Population, GDP at PPP, and GDP per Capita, Years 1 to 2014 (بزبان انگریزی). {{حوالہ کتاب}}: |یوآرایل= پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (help)
  10. Irfan Habib (1986). "Table I: Area and ʽJama of the Mughal Empire, c. 1601". An Atlas of the Mughal Empire: Political and Economic Maps with Detained Notes, Bibliography and Index (بزبان انگریزی). Oxford University Press. pp. xii–xiii. ISBN:978-0-19-560379-8.
  11. James Rennell (1781). A Bengal atlas: containing maps of the theatre of war and commerce on that side of Hindoostan (بزبان انگریزی). p. 29.
  12. Alexander V. Avakov (2017). -9781628940992-1/page/14/mode/2up?q=bangladesh Two Thousand Years of Economic Statistics, Volume 1: By Rank. Population, GDP at PPP, and GDP per Capita, Years 1 to 2014 (بزبان انگریزی). {{حوالہ کتاب}}: |یوآرایل= پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (help)
  13. Alexander V. Avakov (2017). -9781628940992-1/page/18/mode/2up?q=bangladesh Two Thousand Years of Economic Statistics, Volume 1: By Rank. Population, GDP at PPP, and GDP per Capita, Years 1 to 2014 (بزبان انگریزی). {{حوالہ کتاب}}: |یوآرایل= پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (help)
  14. Janam Mukherjee (2015). Hungry Bengal: War, Famine and the End of Empire (بزبان انگریزی). Oxford University Press. p. 27. ISBN:978-0-19-020988-9. Archived from the original on 2023-04-18. Retrieved 2022-07-27.
  15. Alexander V. Alexander V. Avakov (2017). Two Thousand Years of Economic Statistics, Volume 1: By Rank. Population, GDP at PPP, and GDP per Capita, Years 1 to 2014 (بزبان انگریزی). p. 288.
  16. Alexander V. Alexander V. Avakov (2017). Two Thousand Years of Economic Statistics, Volume 1: By Rank. Population, GDP at PPP, and GDP per Capita, Years 1 to 2014 (بزبان انگریزی). p. 291.
  17. Richard M. Eaton (1993)۔ The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204-1760۔ Berkeley: University of California Press۔ ص 325–6۔ ISBN:0-520-20507-3