بنگلہ دیش میں مذہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search



Circle frame.svg

بنگلہ دیش میں مذہب (2011)[1]

  اسلام (90.39%)
  ہندو مت (8.54%)
  بدھ مت (0.60%)
  مسیحیت (0.37%)
  دیگر (0.14%)

اسلام بنگلہ دیش کا ریاستی مذہب ہے۔[2][3] بنگلہ دیشی آئین مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور قطع نظر مذہب کے تمام بنگلہ دیشی شہریوں کو مساوی بنیادی حقوق دیتا ہے۔[4][5]

2011ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمان کل آبادی کا 90%، جب کہ ہندو 8.5% اور 1% دیگر مذاہب کے لوگ ہیں۔[1] 2003ء کے ایک جائزے سے تصدیق کی گئی شہریوں خود کی شناخت مذہب سے کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش صرف اسلام، ہندومت، مسیحیت اور بدھ مت مذاہب پائے جاتے ہیں۔[6]

اسلام[ترمیم]

بنگلہ دیش کا آئین اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتا ہے۔[2] اسلام بنگلہ دیش کا سب سے بڑا مذہب ہے، بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی کل آبادی 146.0 ملین ہے، بنگلہ دیش مسلمان آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا، پاکستان اور بھارت کے بعد چوتھا بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش میں مسلمان آبادی ملک کی کل آبادی کا 90.0% (2011ء تک) ہے۔[7][8][9] مسلمان ملکی کی اہم برادری ہیں اور بنگلہ دیش کے تمام آٹھوں ڈویژنوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ مسلم آبادی کی اکثریت 88% بنگالی مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن 2%کی تعداد میں بہاری مسلمان اور آسامی مسلمان بھی ہیں۔ بنگلہ دیش کی مسلمان آبادی کی اکثریت اہل سنت ہے، لیکن ایک مختصر تعداد اہل تشیع کی بھی ہے۔ اہل تشیعی شہری آبادیوں میں رائش پزیر ہیں۔[10] شیعہ محمد بن عبد اللہ کے نواسے، حسین ابن علی، کی شہادت پر محرم میں اپنے مخصوص اعمال بجا لاتے ہیں۔[11] مسلمان عید الفطر، عید الاضحی، عاشورہ، عید میلاد النبی، شب برات اور چاند رات وغیرہ کے تہوار ملک بھر میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ سالانہ بشوا اجتماع سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔

ہندو مت[ترمیم]

شیوا مندر پوٹیا میں، راجشاہی

ہندو مت بنگلہ دیش کا دوسرا بڑا مذہب ہے، بنگلہ دیش دفتر شماریات کی 2011ء کی بنگلہ دیش مردم شماری کے مطابق ہندومت کل آبادی کے 8.96% عوام کا مذہب ہے۔ آبادی کے لحاظ سے، بنگلہ دیش بھارت اور نیپال کے بعد تیسرا بڑا ہندو آبادی والا ملک ہے۔[12] بنگلہ دیش دفتر شماریات (بی بی ایس) کے مطابق،   2015ء میں 17 ملین ہندو آبادی تھی۔[13]

قدرتی طور پر، بنگلہ دیشی ہندو مت کی ہیئت، رسم و رواج اور ہندو عبادات پڑوسی بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ہندومت کے مماثل ہیں، مغربی بنگال اور بنگلہ دیش (ایک دور میں اس کا نام مشرقی بنگال کے طور پر مشہور ہواا) 1947ء میں تقسیم ہند تک متحدہ علاقہ تھا جو بنگال کہلاتا۔ بنگلہ دیشی ہندؤوں کی اکثریت بنگالی ہندو ہے۔

مونث خدا (دیوی) – عزت و احترام میں درگا یا کالی سے وسیع پیمانے پر عقیدت پائی جاتی ہے – اکثر اس میں دیوی کے مذکر (شوہر) شیو کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ شیو کی پوجا بنگلہ دیش میں اعلیٰ ذاتوں میں کی جاتی ہے، وشنو کی پوجا سے (عام طور پر اس کے اوتاروں یا تجسیم رام یا کرشن کی صورت میں) موجودہ دور میں انسانیت متعلقہ سوچ سے ذات پات کے نظام میں تبدیلی آئی ہے۔ وشنو کی بنگال میں پوجا مرد اور عورت کے درمیان میں اتحاد کے اصولوں محبت اور وارفتگی کے لیے کی جاتی ہے۔ ہندو عقیدے کی اس صورت نے تصوف کی اسلامی روایت کو متاثر کیا ہے اور ہندو مسلم کے درمیان میں بات چیت کو آگے بڑھایا ہے۔

بدھ مت[ترمیم]

بدھا داتھو زادی، بندربن میں ایک بدھ عبادت گاہ

1,000,000 بنگلہ دیشی تھیرواد بدھ مت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی کل آبادی کا 0.6% بدھ مت ہیں۔

قدیم دور میں، آج کا خطہ بنگلہ دیش ایشیا میں بدھ مت کا مرکز تھا۔ بدھ مت تہذیب، فلسفہ اور فن تعمیر بنگال سے تبت، جنوب مشرقی ایشیا اور انڈونیشیا پہنچا۔ کمبوڈیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کا بدھ فن تعمیر، بنگال کے فن تعمیر سے متاثر ہیں۔

مسیحیت[ترمیم]

روزری کا مقدس گرجا گھر (اندازا۔1677ء کا) ڈھاکہ

مسیحیت پرتگالی تاجروں اور مشنریوں کے ذریعے بنگلہ دیش میں سولہویں صدی عیسوی کے آخیر اور سترہویں صدی عیسوی کے آغاز میں داخل ہوئی، مسیحی کل آبادی کا 0.4% ہیں جن کی اکثریت شہری علاقوں میں ہے۔ بنکالی مسیحیوں میں رومن کاتھولک اہم ہے، جب کہ باقی زیادہ تر پروٹسٹنٹ ہیں۔

دیگر مذاہب[ترمیم]

سکھ مت[ترمیم]

ڈھاکہ میں گردوارہ نانک شاہی

بنگلہ دیشی آبادی میں سے اندازہً 100,000 افراد کا مذہب سکھ مت ہے۔ اس خطے میں سکد مت کی تاریخ 1506–07 سے شروع ہوتی ہے جب گرو نانک نے مع چند پیروکاروں کے موجودہ بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ تب کچھ بنگالیوں نے سکھ مذہب قبول کیا اور یہاں سکھ مت کا آغاز ہوا۔[14]

الحاد[ترمیم]

دہریت بنگلہ دیش میں عام نہیں ہے۔[15] 2014ء کے WIN/GIA جائزے کے مطابق، جواب دہنڈگان میں سے 5% افراد نے خود کو لا دین ظاہر کیا۔[16]

ایک سے زیادہ بار ملحدوں پر حملے کیے جا چکے ہیں اور کئی ملحد بلاگروں کا قتل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Benkin, Richard L. (2014)۔ A quiet case of ethnic cleansing: The murder of Bangladesh's Hindus. New Delhi: Akshaya Prakashan.
  • Dastidar, S. G. (2008)۔ Empire's last casualty: Indian subcontinent's vanishing Hindu and other minorities. Kolkata: Firma KLM.
  • Kamra, A. J. (2000)۔ The prolonged partition and its pogroms: Testimonies on violence against Hindus in East Bengal 1946–64.
  • تسلیمہ نسرین (2014)۔ Lajja. Gurgaon, Haryana, India : Penguin Books India Pvt. Ltd, 2014.
  • Rosser, Yvette Claire. (2004) Indoctrinating Minds: Politics of Education in Bangladesh, New Delhi: Rupa & Co. ISBN 8129104318۔
  • Mukherji, S. (2000)۔ Subjects, citizens, and refugees: Tragedy in the Chittagong Hill Tracts, 1947–1998. New Delhi: Indian Centre for the Study of Forced Migration.
  • Sarkar, Bidyut (1993)۔ Bangladesh 1992 : This is our home : Sample Document of the Plight of our Hindu, Buddhist, Christian and Tribal Minorities in our Islamized Homeland : Pogroms 1987–1992. Bangladesh Minority Hindu, Buddhist, Christian, (and Tribal) Unity Council of North America.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "سرکاری مردم شماری کے نتائج 2011 page xiii" (پی‌ڈی‌ایف)۔ حکومت بنگلہ دیشdate=۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-17۔
  2. ^ ا ب "بنگلہ دیش کا 1972ء کا آئین، Reinstated in 1986, with Amendments through 2014" (پی‌ڈی‌ایف)۔ constituteproject.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اکتوبر 2017۔
  3. David Bergman (28 مارچ 2016)۔ "Bangladesh court upholds Islam as religion of the state"۔ الجزیرہ۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "The Constitution of The People's Republic Of Bangladesh Article 12: Secularism and freedom of religion"۔ State.gov۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "Bangladesh's Constitution"۔ bdlaws.minlaw.gov.bd۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2017۔
  6. "The Constitution of The People's Republic Of Bangladesh"۔ State.gov۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-17۔
  7. Bangladesh – عالمی مسلم آبادی کا مستقبل Pew Forum.
  8. Tracy Miller, ویکی نویس. (اکتوبر 2009)، Mapping the Global Muslim Population: A Report on the Size and Distribution of the World's Muslim Population (PDF)، پیو ریسرچ سینٹر، اخذ شدہ بتاریخ 2009-10-08
  9. "National Volume – 2: Union Statistics" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Population and Housing Census۔ Bangladesh Bureau of Statistics۔ 2011۔ مورخہ 2015-12-08 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-15۔
  10. Agence France-Presse (2015-10-24)۔ "One killed and scores wounded in attack at Shia site in Bangladesh capital"۔ The Guardian (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0261-3077۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-27۔
  11. "Islam in Bangladesh"۔ OurBangla۔ مورخہ 2012-02-10 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)[self-published source]
  12. "[Analysis] Are there any takeaways for Muslims from the Narendra Modi government?"۔ DNA۔ 27 مئی 2014۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-31۔
  13. "Bangladesh's Hindus number 1.7 crore, up by 1 p.c. in a year: report"۔ دی ہندو (بھارتی انگریزی زبان میں)۔ 23 جون 2016۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. "Bangladesh-Gurudwaras of World"۔
  15. خان، رازب (13 مئی 2015)۔ "بنگلہ دیش میں ملحد مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے"۔
  16. "سال کے اختتام پر 2014: علاقائی اور ملکیResults"۔ مورخہ 15 نومبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔