بنگلہ دیش میں ہندومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھارتی ریاست بنگال میں ہندومت کے لیے، دیکھیے: مغربی بنگال میں ہندومت

تاریخی ہندو آبادی
سالآبادی.±%
1901 9,546,240—    
1911 9,939,825+4.1%
1921 10,176,030+2.4%
1931 10,466,988+2.9%
1941 11,759,160+12.3%
1951 9,239,603−21.4%
1961 9,379,669+1.5%
1974 9,673,048+3.1%
1981 10,570,245+9.3%
1991 11,178,866+5.8%
2001 11,379,000+1.8%
2011 12,492,427+9.8%
2017 17,000,000+36.1%
*1971ء کی مردم شماری بوجہ جنگ آزادی بنگلہ دیش ملتوی ہوئی۔
ماخذ: God Willing: The Politics of Islamism in Bangladesh by علی ریاض، صفحہ۔ 63
بنگلہ دیش دفتر شماریات (بی بی ایس)[1]

ہندومت بنگلہ دیش میں دوسرا بڑا مذہب ہے، بنگلہ دیش دفتر شماریات کی 2011ء کی بنگلہ دیش مردم شماری کے مطابق ہندومت کل آبادی کے 8.96% عوام کا مذہب ہے۔ آبادی کے لحاظ سے، بنگلہ دیش بھارت اور نیپال کے بعد تیسرا بڑا ہندو آبادی والا ملک ہے۔[2] بنگلہ دیش دفتر شماریات (بی بی ایس) کے مطابق،   2015ء میں 17 ملین ہندو آبادی تھی۔[1]

قدرتی طور پر، بنگلہ دیشی ہندو مت کی ہیئت، رسم و رواج اور ہندو عبادات پڑوسی بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ہندومت کے مماثل ہیں، مغربی بنگال اور بنگلہ دیش (ایک دور میں اس کا نام مشرقی بنگال کے طور پر مشہور ہواا) 1947ء میں تقسیم ہند تک متحدہ علاقہ تھا جو بنگال کہلاتا۔ بنگلہ دیشی ہندؤوں کی اکثریت بنگالی ہندو ہے۔

مونث خدا (دیوی) – عزت و احترام میں درگا یا کالی سے وسیع پیمانے پر عقیدت پائی جاتی ہے – اکثر اس میں دیوی کے مذکر (شوہر) شیو کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ شیو کی پوجا بنگلہ دیش میں اعلیٰ ذاتوں میں کی جاتی ہے، وشنو کی پوجا سے (عام طور پر اس کے اوتاروں یا تجسیم رام یا کرشن کی صورت میں) موجودہ دور میں انسانیت متعلقہ سوچ سے ذات پات کے نظام میں تبدیلی آئی ہے۔ وشنو کی بنگال میں پوجا مرد اور عورت کے درمیان میں اتحاد کے اصولوں محبت اور وارفتگی کے لیے کی جاتی ہے۔ ہندو عقیدے کی اس صورت نے تصوف کی اسلامی روایت کو متاثر کیا ہے اور ہندو مسلم کے درمیان میں بات چیت کو آگے بڑھایا ہے۔

بنگلہ دیشی ہندومت میں عموماً مذہبی غسل، اقرار کرنا، مقدس دریاؤں، پہاڑوں اور ہندو مقابر کی زیارت کرنے جیسے رسوم و رواج پائے جاتے ہیں۔ عام ہندو عوام مسلمان پیروں کے مزارات پر جاتے ہیں۔

اہنسا کے قانون سے مراد ساری دنیا میں بڑے گوشت (بیف) سے کلی اجتناب کرنا لیا جاتا ہے۔ تمام بنگلہ دیشی ہندو سبزی خور ہیں لیکن یہ بڑے گوشت کے علاوہ بھی دیگر تمام طرح کا گوشت نہ کھانا بہت بڑی پرہیزگاری مانتے ہیں۔ براہمن یا اونچی ذات کے بنگلہ دیشی ہندو، جنوبی ایشیا کے دوسرے اونچی ذات کے ہندوؤں کے برعکس، عام طور پر مچھلی اور مرغی گوشت کھاتے ہیں۔ یہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی طرح کا ماحول ہے، جہاں بنگلہ دیش کی طرح ہندو مرغی، مچھلی، انڈے اور بکری وغیرہ کا گوشت کھاتے ہیں۔

آبادیات[ترمیم]

2011ء کی بنگلہ دیش مردم شماری کے مطابق بنگلہ دیش میں ہندو آبادی کی تعداد 11,379,000 ہے۔ تاہم، کچھ اندازوں سے بنگلہ دیش میں ہندو آبادی 12 ملین ظاہر ہوتی ہے۔2000ء کی دہائی میں بنگلہ دیش میں ہندو آبادی کو علاقہ کے لحاظ سے جائزہ لیا گیا تو، ہندو اکثریتی علاقوں میں گوپال گنج، دیناج پور، سلہٹ، سونم گنج ضلع، مایمن سنگھ، کھلنا، جسوری، چٹاگانگ اور چٹاگانگ پہازی کے کچھ علاقے شامل تھے۔ دارالحکومتی شہر ڈھاکہ میں، ہندو مسلمانوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں اور داراحکومت میں ہندؤوں کی سب سے بڑی تعداد اور پرانے شہر کے شانکری بازار کے علاقے میں ہے۔

بنگلہ دیش میں ہندو آبادی کمی پیشی
سال فیصد (%)
1901 33.00
1911 31.50
1921 30.60
1931 29.40
1941 28.00
1951 22.05
1961 18.50
1974 13.50
1981 12.13
1991 10.51
2001 9.20
2011 8.96
2015 10.7

ہندو آبادی بلحاظ انتظامی ڈویژن[ترمیم]

ہندو آبادی بلحاظ فیصد
بنگلہ دیش بھر میں ہندو آبادی
ضلع فیصد (%)
باریسال 9.70
چٹاگانگ 10.65
ڈھاکہ 8.50
کلنا 11.20
راج شاہی 10.09
رنگ پور 9.09
سہلٹ 8.60

قابل ذکر بنگلہ دیشی ہندو[ترمیم]

سیاست[ترمیم]

سنیما[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

 یہ مضمون  دائرہ عام کے مواد از کتب خانہ کانگریس مطالعہ ممالک کی ویب سائٹ http://lcweb2.loc.gov/frd/cs/ مشمولہ ہے۔

  1. ^ ا ب "Bangladesh's Hindus number 1.7 crore, up by 1 p.c. in a year: report"۔ دی ہندو (بھارتی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "[Analysis] Are there any takeaways for Muslims from the Narendra Modi government?"۔ DNA۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-31۔

بیرونی روابط[ترمیم]