مندرجات کا رخ کریں

بنگلہ دیش کی کابینہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بنگلہ دیش کی کابینہ
{{ |বাংলাদেশের মন্ত্রিসভা}}
بنگلہ دیش کی سرکاری مہر
ایجنسی کا جائزہ
قیام26 اپریل 1971؛ 55 سال قبل (1971 -04-26)
قسممرکزی حکومت کا اعلیٰ ترین انتظامی ادارہ
دائرہ کارحکومت بنگلہ دیش
صدر دفتربنگلہ دیش سیکریٹریٹ، ڈھاکہ
مشیر اعلیٰ ذمہ دار
  • محمد یونس, صدر نشین
محکمہ افسرانِ‌اعلٰی
  • شیخ عبد الرشید، کابینہ سیکریٹری
تحت ایجنسی
  • بنگلہ دیش کی وزارتیں
ویب سائٹhttps://www.bangladesh.gov.bd

بنگلہ دیش کی کابینہ (بنگالی: বাংলাদেশের মন্ত্রিসভা) بنگلہ دیش حکومت کا اعلیٰ ترین انتظامی اور پالیسی سازی کا ادارہ ہے۔[1] یہ وزیر اعظم کی قیادت میں کام کرتی ہے اور ملک کے آئینی ڈھانچے کے مطابق حکومتی امور چلانے کی ذمہ دار ہے۔[2]

بنگلہ دیش کی کابینہ کا قیام 1971ء میں ملک کی آزادی کے بعد عمل میں آیا۔[3] ابتدائی کابینہ نے شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں کام کیا جو ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے۔[4] وقت گزرنے کے ساتھ کابینہ کے ڈھانچے اور اختیارات میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں، تاہم اس کا بنیادی مقصد ملکی حکومت کے انتظامی امور کو مؤثر طریقے سے چلانا ہے۔

کابینہ کے فرائض میں قومی پالیسیوں کی تشکیل، قوانین کا مسودہ تیار کرنا اور حکومتی پروگراموں کے نفاذ کو یقینی بنانا شامل ہے۔[5] کابینہ کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں جہاں اہم قومی معاملات پر غور کیا جاتا ہے۔[6] یہ اجلاس عام طور پر وزیر اعظم کی صدارت میں ہوتے ہیں اور تمام وزراء ان میں شرکت کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے آئین کے مطابق کابینہ اجتماعی طور پر پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے۔[7] کابینہ کے تمام فیصلے اجتماعی ذمہ داری پر مبنی ہوتے ہیں۔ کابینہ کے ارکان اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی کے لیے ذمہ دار ہیں اور انھیں پارلیمنٹ میں اپنے محکموں کے کام کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کی کابینہ نے معاشی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سماجی شعبوں میں قابل ذکر کام کیا ہے۔[8] کابینہ کی کوششوں سے ملک نے معاشی شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے اور مختلف بین الاقوامی اداروں نے بنگلہ دیش کی ترقی کو سراہا ہے۔[9]

کابینہ کے ڈھانچے میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں جس میں نئی وزارتوں کا اضافہ یا موجودہ وزارتوں کے دائرہ کار میں تبدیلی شامل ہوتی ہے۔[10] موجودہ کابینہ میں مختلف وزارتیں شامل ہیں جو ملکی انتظامیہ کے مختلف پہلوؤں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں بنگلہ دیش کی کابینہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔[11] یہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتی ہے۔ کابینہ کے ارکان مختلف بین الاقوامی فورمز پر ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی کابینہ ملکی جمہوریت کا اہم ستون ہے جو عوامی مسائل کے حل اور قومی ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔[12] اس کا کردار ملکی استحکام اور ترقی میں انتہائی اہم ہے۔ کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ مختلف طریقوں سے لیا جاتا ہے اور اسے عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی ہوتی ہے۔[13]


بنگلہ دیش کی موجودہ کابینہ

بنگلہ دیش بائیسویں کابینہ کابینہ
برسرِ اقتدار
مشیرِ اعلیٰ
تاریخ تشکیل8 اگست 2024
افراد اور تنظیمیں
سربراہ حکومتمشیرِ اعلیٰ محمد یونس
صدر ریاستصدر بنگلہ دیش محمد شہاب الدین
وزرا کی کل تعداد26
رکن جماعتآزاد سیاست دان

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Cabinet of Bangladesh"۔ Government of Bangladesh۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ رسائی= (معاونت)
  2. "Chapter IV"۔ Constitution of Bangladesh۔ Government of Bangladesh۔ 1972
  3. Syedur Rahman (2018)۔ "Historical Development of Cabinet System in Bangladesh"۔ Journal of South Asian Studies۔ ج 45 شمارہ 2: 123–145
  4. Moudud Ahmed (2001)۔ Bangladesh: Era of Sheikh Mujibur Rahman۔ University Press۔ ص 67
  5. "Functions of the Cabinet"۔ Cabinet Division۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ رسائی= (معاونت)[مردہ ربط]
  6. "Cabinet Meetings and Procedures"۔ The Daily Star۔ 15 مارچ 2022
  7. "Article 55"۔ Constitution of Bangladesh۔ Government of Bangladesh۔ 1972
  8. . 
  9. . 
  10. "Cabinet Restructuring and New Ministries"۔ Prothom Alo۔ 7 جنوری 2023
  11. Anwarul Haque (2022)۔ "Bangladesh's Foreign Policy and Cabinet Role"۔ International Relations Journal۔ ج 32 شمارہ 4
  12. Mahmudul Islam (2020)۔ "12"۔ Constitutional Law of Bangladesh۔ University Press
  13. . 

بیرونی روابط

[ترمیم]