مندرجات کا رخ کریں

بنگلہ دیش کے عام انتخابات (2026ء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بنگلہ دیش کے عام انتخابات (2026ء)

→ 2024ء 12 فروری 2026ء اگلے ←

جاتیہ سنسد کی 300 نشستوں میں سے 299[ا] پر
اکثریت کے لیے 151 درکار نشستیں
استصواب رائے
مندرج127،711،793
ٹرن آؤٹ59.44% (Increase 17.64ف‌ن)
  پہلی بڑی جماعت دوسری بڑی جماعت تیسری بڑی جماعت
 
Tarique Rahman at the State Guest House Jamuna in Dhaka (Thursday, January 15, 2026) (cropped).jpg
Shafiqur Rahman of Bangladesh Jamaat-e-Islami in Dhaka, 2025-11-23 (cropped).jpg
Nahid Islam in 2024.jpg
قائد طارق رحمٰن شفیق الرحمٰن ناہد اسلام
جماعت ب‌ن‌پ جماعت ن‌س‌پ
اتحاد ب‌ن‌پ+ 11 جماعتی اتحاد 11 جماعتی اتحاد
قائد از 9 جنوری 2026ء 12 نومبر 2019ء 28 فروری 2025ء
قائد کی نشست بوگرہ-6
(جیتا)
ڈھاکہ-17
(جیتا)
ڈھاکہ-15
(جیتا)
ڈھاکہ-11 (جیتا)
آخری انتخابات بائیکاٹ رجسٹریشن منسوخ نئی جماعت
نشستیں جیتیں 211 68 6
نشستوں میں اضافہ/کمی Increase 211 Increase 68 Increase 6
عوامی ووٹ 37،933،873 24،109،762 2،315،288
فیصد 49.97% 31.76% 3.05%
اتار چڑھاؤ Increase 38.24ف‌ن Increase 27.06ف‌ن Increase 3.05ف‌ن


چیف ایڈوائزر قبل انتخابات

محمد یونس
آزاد (عبوری)

نامزد وزیر اعظم

طارق رحمٰن
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی

بنگلہ دیش میں عام انتخابات 12 فروری 2026ء کو منعقد ہویے تاکہ جاتیہ سنسد کے ارکان کا انتخاب کیا جا سکے۔[1] یہ ’جولائی انقلاب‘ کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں، اس انقلاب کی وجہ سے شیخ حسینہ کی پندرہ سالہ آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ یہ رائے دہی اگست 2024ء سے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے والی عبوری حکومت کے تحت منعقد ہوئی، جس کی قیادت محمد یونس کر رہے تھے۔ انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی چارٹر پر ایک آئینی ریفرنڈم بھی منعقد کیا گیا۔ اس انتخاب میں 127 ملین سے زائد افراد حق رائے دہی کے اہل ہیں، جس کے باعث اسے "سال کی سب سے بڑی جمہوری مشق" قرار دیا جا رہا ہے۔[2] مجموعی طور پر 1،981 امیدوار نے 300 نشستوں کے لیے مقابلہ کیا۔[3] بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخاب میں حصہ لیا تاہم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ (جو گذشتہ چار انتخابات میں لگاتار کامیاب رہی تھی جن میں سے تین متنازع تھے) اس وقت معطل ہے اور انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔ اس صورت حال نے اس انتخاب کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (ب‌ن‌پ) اور جماعتِ اسلامی و نیشنل سٹیزن پارٹی (ن‌س‌پ) کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اتحاد کے درمیان ایک ’دو قطبی مقابلہ‘ بنا دیا۔[4] انتخابی مہم کے نمایاں موضوعات میں بے روزگاری، بد عنوانی، بھتہ خوری، متناسب نمائندگی (پی آر)، نو جوانوں اور اقلیتی رائے دہندگان سے کیے گئے وعدے شامل ہیں۔ ایس او اے ایس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق یہ انتخابات ”نظریاتی مباحث کے بجائے زیادہ تر حکمرانی سے متعلق وعدوں پر طے ہوں گے“۔[4] ملک بھر میں عوامی ووٹ 42،766 پولِن٘گ اِسْٹیشَنوں پر قائم 247،499 بوتھوں میں ڈالے گئے۔[5] بیرونِ ملک مقیم رائے دہندگان، پولنگ عملے اور زیرِ حراست افراد کے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے بنگلہ دیش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈاک کے ذریعے رائے دہی کا نظام متعارف کیا گیا۔[6] ریفرنڈم، ڈاک کے ذریعے رائے دہی، تکنیکی معاونت اور مبصرین کی منظوری کے باعث یہ انتخاب ملک کی تاریخ کے ”طریقۂ کار کے لحاظ سے سب سے زیادہ پیچیدہ“ انتخابات قرار دیے گئے۔[5] اسے دنیا کا پہلا ”جن زی سے متاثر“ انتخاب بھی سمجھا جا رہا ہے جو عالمی سطح پر ہونے والے جن زی احتجاجات کے بعد منعقد ہوا۔[7]

ڈھاکہ کے گورنمنٹ میوزک کالج میں رائے دہندگان کی قطار

طارق رحمٰن کی قیادت میں ب‌ن‌پ نے انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی؛ یہ جماعت کی 2001ء کے عام انتخابات کے بعد پہلی فتح ہے۔ طارق سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمن کے صاحبزادے ہیں۔ جنپا (ن‌س‌پ) پہلی مرتبہ ایوانِ زیریں میں داخل ہوئی جبکہ جماعتِ اسلامی حزبِ اختلاف بن گئی۔

پس منظر

[ترمیم]

7 جنوری 2024ء کو متنازع بارھویں جاتیہ سنسد (قومی اسمبلی) کے انتخابات کے ذریعے عوامی لیگ حکومت پانچویں بار اقتدار میں آئی۔ مرکزی حزب اختلاف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے اس انتخاب کا بائیکاٹ کیا اور اسے ڈمی انتخاب قرار دیا۔ انھوں نے حسینہ واجد سے استعفے اور عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔

جولائی 2024ء میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام میں اصلاحات کے لیے کوٹا اصلاحات کی تحریک شروع ہوئی[8] جو بعد میں عدم تعاون کی تحریک میں بدل گئی۔[9] بوئیشموبرودھی چھاتر آندولن (طلبہ کی عدم امتیاز تحریک) کے دباؤ میں 5 اگست 2024ء کو شیخ حسینہ نے استعفا دے دیا اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔[10] بعد میں صدر محمد شہاب الدین اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا اور تمام ارکان اسمبلی اپنے عہدے سے محروم ہو گئے۔[11]

8 اگست 2024ء کو ڈاکٹر محمد یونس بطور سربراہ مشاورتی حکومت حلف اٹھائا۔ انھوں نے 5 اگست 2025ء کو اعلان کیا کہ اگلے انتخابات فروری 2026ء میں ہوں گے۔ انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن نے 11 دسمبر 2025ء کو جاری کی جس میں 12 فروری 2026ء کو تیرھویں جاتیہ سنسد (قومی اسمبلی) کے انتخابات کی تاریخ طے پائی۔

انتخابی نظام

[ترمیم]
بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کی عمارت۔

جاتیہ سنسد کے 350 ارکان میں سے 300 ارکان براہِ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، جہاں ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ نظام استعمال ہوتا ہے اور باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ مخصوص نشستیں تناسبی بنیاد پر منتخب جماعتوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہیں۔ ہر قومی اسمبلی پانچ سال کے لیے کام کرتی ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کو غیر متوازن قرار دیا گیا ہے[12][13][14] اور اسے ملک میں سیاسی جمود کے ایک اہم سبب کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔[14]

2026ء کے عام انتخابات اور ریفرنڈم کے پوسٹل بیلٹ وصول کرنے کا لفافہ۔
2026ء کے عام انتخابات اور ریفرنڈم کے پوسٹل بیلٹ بھیجنے کا لفافہ۔

موجودہ مختلف سیاسی جماعتیں (جیسے اسلامی آندولن بنگلہ دیش اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش) اس نظام کے خلاف ہیں اور متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کی حمایت کرتی ہیں۔

12 فروری 2026ء کو چھاگلنائیّا، فینی میں خواتین کی صبح کے وقت رائے دہی کے لیے قطار۔

ریفرنڈم

[ترمیم]

بنگلہ دیش میں ایک آئینی ریفرنڈم 12 فروری 2026ء کو منعقد ہوا، جو (تیرھویں جاتیہ سنسد (قومی اسمبلی) کے انتخابات کے ساتھ ہی ہوا۔[15][16][17] رائے دہندگان سے جولائی چارٹر اور متعلقہ آئین بنگلہ دیش میں ترامیم پر رائے طلب کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے "July National Charter (Constitutional Amendment) Implementation Order, 2025" کی منظوری دی گئی ہے۔[18]

پس منظر

[ترمیم]

2024ء میں طلبہ عوامی انقلاب کے ذریعے طویل عرصے تک قائم آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت والی حکومت ختم ہو گئی۔ اس کے فوراً بعد نوبل انعام یافتہ معیشت دان محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم ہوئی جس کا مقصد ایک جمہوری، شفاف اور عوامی شمولیت پر مبنی ریاستی ڈھانچہ کی بحالی تھا۔

اسی پس منظر میں جولائی 2025ء میں جولائی نیشنل چارٹر تیار کیا گیا جو بنگلہ دیش کے آئین کی تعمیر نو کے لیے ایک قومی خاکہ سمجھا گیا۔ چارٹر میں درج تجاویز یہ تھیں:[17]

  1. پارلیمنٹ، عدلیہ اور ایگزیکٹو شاخوں کے اختیارات میں توازن بحال کرنا
  2. شہری حقوق اور آزادی اظہار کو یقینی بنانا
  3. انتظامی اختیارات کی مرکزیت کم کر کے عوام کی شرکت بڑھانا۔[17]

چارٹر کی قانونی حیثیت اور عوامی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے عبوری حکومت نے 2026ء میں ایک قومی ریفرنڈم کا فیصلہ کیا۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے شہری براہِ راست فیصلہ کریں گے کہ جولائی نیشنل چارٹر کی بنیاد پر نیا آئین نافذ کیا جائے یا نہیں۔

استصوابِ رائے

[ترمیم]
ووٹ تناسب کے تخمینے
سروے کرنے والا
ادارہ
فیلڈ ورک
کی تاریخیں
اشاعت
کی تاریخ
نمونے
کا حجم
غلطی
کی حد
ع ل ج پ (ا) ب ن پ ا آ ب جماعت ن س پ دیگر آزاد امیدوار کوئی نہیں فیصلہ شدہ، مگر ظاہر نہیں کریں گے غیر فیصلہ شدہ ”کہہ نہیں سکتے“/
جواب نہیں
برتری (فیصد پوائنٹ)
CSI 1 – 10 فروری 2026ء 11 فروری 2026ء 64،890 46.6% 32.56% 19.86% 14.04
SHEBA/GGF 1 — 30 جنوری 2026ء 10 فروری 2026ء 10،000 3% 73% 21% 3% 52
IILD 21 جنوری — 5 فروری 2026ء 9 فروری 2026ء 63،615 ± 0.9% 1.7% 44.1% 43.9% 3.8% 6.5% 0.2
EASD 18 — 31 جنوری 2026ء 9 فروری 2026ء 41،500 4% 66.3% 13.6% 2.6% 52.7
Innovision Consulting 16 — 27 جنوری 2026ء 30 جنوری 2026ء 5،147 ± 1.41% 0.5% 52.8% 1% 31% 1.5% 13.2% 21.8
اسلامی آندولن بنگلہ دیش (ا آ ب) نے 16 جنوری 2026ء کو جماعت کی قیادت والے اتحاد سے علاحدگی اختیار کی
IILD/JF/PBD/NarratiV 21 نومبر — 20 دسمبر 2025ء 12 جنوری 2026ء 22،174 34.7% 43.8%[ب] 4.5% 17% 9.1
EASD 20 دسمبر 2025ء — 1 جنوری 2026ء 5 جنوری 2026ء 20،495 1.4% 70% 19.6%[پ] 5% 0.2% 51
نیشنل سٹیزن پارٹی (ن س پ) 28 دسمبر 2025ء کو جماعت کی قیادت والے اتحاد میں شامل ہوئی
BYLC 10 — 21 اکتوبر 2025ء 10 نومبر 2025ء 2,545[ت] 9.5% 0.4% 19.6% 16.9%[ٹ] 3.6% 1.5%[ث] 0.7% 30% 17.7% 2.7
CISR/IRI 13 ستمبر — 12 اکتوبر 2025ء 1 دسمبر 2025ء 4,985 ± 1.4% 5% 30% 30%[ج] 6% 8% 4% 7% 11% 0
ا آ ب سمیت ہم خیال 8 جماعتوں نے 19 اکتوبر 2025ء کو جماعت کی قیادت میں اتحاد قائم کیا
عوامی لیگ کی تمام سرگرمیوں پر 10 مئی 2025ء کو پابندی عائد کر دی گئی
28 فروری 2025ء کو طلبہ رہنماؤں کی جانب سے نیشنل سٹیزن پارٹی (ن س پ) کا قیام عمل میں آیا
2018ء کے عام انتخابات[چ] 74.96% 5.22% 11.73% 1.47% ندارد 1.76% ندارد ندارد ندارد 63.23

نتائج

[ترمیم]

نتائج بلحاظ اتحاد یا جماعت

[ترمیم]
جماعت یا اتحادنشستیں
عام
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی+بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی209
گنو ادھیکار پریشد1
گنوشنگھوتی آندولن1
بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی1
نیشنلسٹ ڈیموکریٹک موومنٹ0
نیشنل پیپلز پارٹی0
ریولوشنری ورکرز پارٹی بنگلہ دیش0
جمعیت علمائے اسلام بنگلہ دیش0
کل
11 جماعتی اتحادبنگلہ دیش جماعت اسلامی68
نیشنل سٹیزن پارٹی6
بنگلہ دیش خلافت مجلس2
خلافت مجلس1
امار بنگلہ دیش پارٹی0
بنگلہ دیش لیبر پارٹی0
بنگلہ دیش خلافت آندولن0
لبرل ڈیموکریٹک پارٹی0
نظامِ اسلام پارٹی0
بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی0
جاتیہ گنوتانترک پارٹی0
کل
ڈیموکریٹک یونائیٹڈ فرنٹکمیونسٹ پارٹی بنگلہ دیش0
سوشلسٹ پارٹی بنگلہ دیش0
سوشلسٹ پارٹی بنگلہ دیش (مارکسسٹ)0
بنگلہ دیش جاتیہ سماج تانترک دل0
گنو فرنٹ0
کل
نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹجاتیہ پارٹی (ارشاد)0
بنگلہ دیش سانسکرتک مکتی جوت0
بنگلہ دیش مسلم لیگ0
جاتیہ پارٹی (منجو)0
کل
گریٹر سنی اتحادبنگلہ دیش اسلامی فرنٹ0
بنگلہ دیش سپریم پارٹی0
اسلامک فرنٹ بنگلہ دیش0
کل
اسلامی آندولن بنگلہ دیش1
ذاکر پارٹی0
انسانیت بپلَب بنگلہ دیش0
جاتیہ سماج تانترک دل (رَب)0
گنو فورم0
عام جنتار دل0
بنگلہ دیش کانگریس0
ناگرک اویکو0
بنگلہ دیش نیشنلسٹ فرنٹ0
بنگلہ دیش مائنارٹی جنتا پارٹی0
بنگلہ دیش کلیان پارٹی0
اسلامی اویکو جوت0
گنوتانتری پارٹی0
بنگلہ دیش نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی)0
جنتار دل0
بنگلہ دیش ریپبلکن پارٹی0
بنگلہ دیش مسلم لیگ (بلبل)0
بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی (سراج)0
بنگلہ دیش ایکول رائٹ پارٹی0
آزاد امیدوار7
خالی نشست1
کل298

نتائج بلحاظ ڈویژن

[ترمیم]
ڈویژن نشستیں ب‌ن‌پ+ 11 جماعتیں ا آ ب دیگر
ڈھاکہ 70 54 13 0 3
چٹاگانگ 58 49 5 0 2
راجشاہی 39 28 11 0 0
کھلنا 36 14 22 0 0
رنگپور 33 13 19 0 1
میمن سنگھ 24 18 4 0 1
بریشال 21 18 2 1 0
سلہٹ 19 18 1 0 0
کل 297 212 77 1 7

حواشی

[ترمیم]
  1. جماعت کے امیدوار کے انتقال کے باعث شیرپور-3 پر انتخاب ملتوی۔
  2. ا آ ب کے لیے 3.1%، جماعت کے لیے 33.6% اور ن س پ کے لیے 7.1%
  3. جماعت کے لیے 19% اور ن س پ کے لیے 2.6%، جبکہ ا آ ب کے لیے کوئی عدد فراہم نہیں کیا گیا
  4. یہ سروے صرف 18 سے 35 سال کے افراد پر کیا گیا
  5. یہ عدد صرف جماعت کے لیے ہے
  6. 1.5% ”دیگر اسلامی جماعتوں“ کے لیے اور 0.0% ”دیگر بائیں بازو کی جماعتوں“ کے لیے
  7. ا آ ب کے لیے 4% اور جماعت کے لیے 26%
  8. جسے وسیع پیمانے پر دھاندلی شدہ سمجھا جاتا ہے

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Bahauddin Foizee. "Bangladesh's Pivotal Election and Referendum Has a Date. Will Unrest Follow?". The Diplomat (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2025-12-17.
  2. "Timeline of past Bangladesh elections and the country's leaders". Al Jazeera (بزبان انگریزی). 8 Feb 2026.
  3. ^ ا ب Masum Billah (21 Jan 2025). "What is Bangladesh's Jamaat-e-Islami party? Could it lead the country next?". Al Jazeera (بزبان انگریزی).
  4. ^ ا ب
  5. Anmol Singla (3 Feb 2026). "127 million voters, 300 seats: A guide to Bangladesh's biggest elections since independence". Firstpost (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-02-03.
  6. Krishna N. Das; Tora Agarwala (9 Feb 2026). "Bangladesh votes in world's first Gen Z-inspired election". Reuters (بزبان انگریزی).
  7. "সরকারি চাকরিতে ৩০ শতাংশ মুক্তিযোদ্ধা কোটা বাতিল অবৈধ: হাইকোর্ট". The Daily Star (بزبان بنگالی). 5 Jun 2024. Retrieved 2025-11-08.
  8. "রবিবার থেকে 'সর্বাত্মক অসহযোগ' আন্দোলনের ডাক". Kaler Kantho (بزبان بنگالی). 2 Aug 2024. Retrieved 2025-11-08.
  9. "পদত্যাগ করে দেশ ছেড়েছেন শেখ হাসিনা". Prothom Alo (بزبان بنگالی). 5 Aug 2024. Retrieved 2025-11-08.
  10. "জাতীয় সংসদ বিলুপ্ত ঘোষণা". The Daily Ittefaq (بزبان بنگالی). 6 Aug 2024. Retrieved 2025-11-08.
  11. Katherine L. Ekstrand, No Matter Who Draws the Lines: A Comparative Analysis of the Utility of Independent Redistricting Commissions in First-Past-the-Post Democracies, 45 GJICL (2016).
  12. "4: Persistent Factionalism: Bangladesh, Bolivia, Zimbabwe". Democratization and the Mischief of Faction (بزبان انگریزی). Lynne Rienner Publishers. 1 Jul 2018. pp. 85–112. DOI:10.1515/9781626377363-006. ISBN:978-1-62637-736-3. Retrieved 2024-10-07.
  13. ^ ا ب "Women's Reserved Seats in Bangladesh: A Systemic Analysis of Meaningful Representation". International Foundation for Electoral Systems (بزبان انگریزی). Jun 2016. Retrieved 2024-10-07.
  14. "গণভোটে 'হ্যাঁ'-এর পক্ষে ভোট দিতে হবে: তারেক রহমান | রাজনীতি". Somoy News (بزبان بنگالی).
  15. "সংসদ নির্বাচন ও গণভোট ১২ ফেব্রুয়ারি". banglanews24.com (بزبان بنگالی). 11 Dec 2025.
  16. ^ ا ب پ Bahaudin (Foyzi). "Bangladesh's Pivotal Election and Referendum Has a Date. Will Unrest Follow?". The Diplomat (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2025-12-18.
  17. "সংসদ নির্বাচনে প্রাপ্ত ভোটের সংখ্যানুপাতে উচ্চকক্ষ গঠন করা হবে: প্রধান উপদেষ্টা". Prothom Alo (بزبان بنگالی). 13 Nov 2025.