مندرجات کا رخ کریں

بن ہدد دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بن ہدد دوم
(آرامی میں: בר הדד)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 842 ق مء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاتل حزئیل ،  کمبل   ویکی ڈیٹا پر  (P157) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل ،  کمبل   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت آرام-دمشق   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد بن ہدد اول   ویکی ڈیٹا پر  (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
بادشاہ
برسر عہدہ
865 ق.م  – 842 ق.م 
دائرہ اختیار آرام-دمشق  
بن ہدد اول  
حزئیل  
دیگر معلومات
پیشہ شاہی حکمران   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ قرقور   ویکی ڈیٹا پر  (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بن ہدد دوم، آرام دمشق کا بادشاہ تھا جو نویں صدی قبل مسیح کے وسط میں دمشق میں حکومت کرتا تھا۔ تاہم بائبلی اور تاریخی مطالعات میں یہ مسئلہ بحث طلب ہے کہ آیا یہ ایک الگ تاریخی شخصیت تھا یا پھر اسے بن ہدد اول یا بن ہدد سوم کے ساتھ ہی ایک ہی شخصیت سمجھا جانا چاہیے۔

بائبل کی روایت

[ترمیم]

عہدِ نامہ قدیم (Old Testament) میں بن ہدد دوم کے بارے میں ابتدا میں یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کا دشمن تھا، تاہم اس کے والد کا نام واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔[1] ابتدا میں بن ہدد نے بڑی فوج کے ساتھ سامریہ کا محاصرہ کیا، لیکن بعد میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سال بعد اسے دوبارہ فیصلہ کن شکست اس وقت ہوئی جب یہوداہ کی فوج نے افيق کے مقام پر اسے ہرایا۔ تاہم وہ ایک معاہدے کے ذریعے آزاد ہو گیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی علاقوں کی واپسی اور کچھ دیگر شرائط پر اتفاق ہوا۔ اس کے بعد اسرائیل اور آرام کے درمیان تقریباً تین سال تک امن قائم رہا۔

آشوری ذرائع کے مطابق، آرامی بادشاہ کو بن ہدد نہیں بلکہ ادد ادری کہا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اخآب نے بھی آشوری بادشاہ شلمنسر سوم کے خلاف اتحاد میں حصہ لیا تھا۔ یہ اتحاد 853 قبل مسیح میں مشہور معرکہ قرقور میں آشوریوں کے خلاف لڑا گیا۔ بعد میں اخی اب نے راموت جلعاد پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ جنگ میں زخمی ہو کر (تقریباً 852 قبل مسیح) مارا گیا۔ [2] کتابِ مقدس میں مزید ذکر ہے کہ جب اخی اب کے بیٹے یہورام نے حکومت سنبھالی تو آرامیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں۔ بن ہدد نے دوبارہ سامریہ کا محاصرہ کیا، جس کے نتیجے میں شہر میں شدید قحط پیدا ہوا۔ [3]

لیکن روایت کے مطابق ایک رات خدا کی مداخلت سے آرامی فوج کو ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بڑی فوج (گھوڑوں اور رتھوں کی آواز کے ساتھ) سامریہ کی طرف آ رہی ہو، جس سے وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اسرائیل نے ملوك الحثيين اور ملوك المصريين کو ان کے خلاف بلا لیا ہے۔ بعد میں تقریباً 842 قبل مسیح میں حزائيل نے بیمار بن ہدد کو معزول کر کے آرام کا نیا بادشاہ بن گیا۔ </ref> .[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ سفر الملوك الأول 20, 1–34.
  2. ↑ 1. سفر الملوك الأول 22, 2–36.
  3. ↑ سفر الملوك الثاني 5, 2 و 6, 8–23.
  4. ↑ سفر الملوك الثاني 8, 7–15.