مندرجات کا رخ کریں

بوزنہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

بوزنے
زمانی حد: MioceneHolocene
اوپر: چمپانزی (Pan troglodytes)
نیچے: لار گبون (Hylobates lar)
سائنسی درجہ بندی e
اقلیم: حیوانات
قوم: حبلیات
فصیلہ: حیوانات رئیسہ
ذیلی فصیلہ: Haplorhini
فوق تحتی فصیلہ: Catarrhini
بالائی خاندان: نوع بشر نما
گرے، 1825[1]
نوعی قسم
Homo sapiens
خاندان

بوزنہ یا کَپی (انگریزی: Ape ایپ) قدیم دنیا کے بندر نما (simian) جانوروں کا بالائی خاندان ہے، جو افریقا کے جنوبی صحرائے اعظم اور جنوب مشرقی ایشیا کے مقامی باشندے ہیں۔ ماقبل تاریخ میں یہ افریقا، ایشیا اور یورپ میں زیادہ وسیع پیمانے پر پائے جاتے تھے جبکہ انسانوں سمیت آج یہ دنیا بھر میں موجود ہیں۔ کپی جدید دنیا کے بندروں (Platyrrhini) کی نسبت قدیم دنیا کے بندروں (Cercopithecidae) سے زیادہ قریبی تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کو مل کر ”بوزنہ بشر انفی“ (Catarrhini) فرع میں شامل کیا جاتا ہے۔ بوزنوں میں دم نہیں ہوتی جو TBXT جِین میں ایک تغیر کے باعث ہے۔[2][3] روایتی اور غیر سائنسی استعمال میں ”ایپ“ (کپی یا بوزنہ) کا لفظ بعض ایسے بے دم بندروں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو حیوانی درجہ بندی میں Cercopithecidae خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جیسے بربری بوزنہ اور سیاہ بوزنہ، اس لیے یہ اصطلاح سائنسی جماعت Hominoidea کے بالکل مساوی نہیں۔ اس بالائی خاندان کی دو زندہ شاخیں ہیں: چھوٹا بوزنہ (lesser apes) یعنی گِبون اور بڑا بوزنہ (great apes) یعنی ہومینیڈ۔

  • خاندان Hylobatidae یعنی چھوٹے بوزنے، چار اجناس اور گبون کی 20 انواع پر مشتمل ہے، جن میں لار گبون اور سیامنگ شامل ہیں اور یہ سب ایشیا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر درختوں پر رہتے ہیں اور زمین پر دو پاؤں پر چل سکتے ہیں۔ ان کے جسم نسبتاً ہلکے اور سماجی گروہ گریٹ ایپ کی نسبت چھوٹے ہوتے ہیں۔
  • خاندان Hominidae یعنی بڑے بوزنے، چار اجناس پر مشتمل ہے، جن میں اورنگ اُٹان کی تین موجودہ انواع، گوریلا کی دو انواع، چمپانزی کی دو انواع اور انسان شامل ہیں۔[ا][4][5][6]

گوریلوں اور انسانوں کے سوا بیشتر بوزنے درختوں پر چڑھنے میں نہایت پھرتیلے ہوتے ہیں۔ بوزنے مختلف اقسام کے پودے اور جانور کھاتے ہیں۔ ان کی خوراک کا بڑا حصہ نباتی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے جن میں پھل، پتے، تنکے، جڑیں، گریاں اور بیج شامل ہیں۔ انسانوں کی غذا بعض اوقات دوسرے بوزنوں سے خاصی مختلف ہوتی ہے جس کی ایک وجہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور مختلف علاقوں میں رہائش ہے۔

تمام موجودہ غیر انسانی بوزنے نایاب ہیں اور ان کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ قدرتی مساکن کا خاتمہ ہے جبکہ بعض آبادیوں کو شکار سے بھی خطرہ درپیش ہے۔ افریقا کے بڑے بوزنے ایبولا وائرس سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔[7]

حواشی

[ترمیم]
  1. Although Dawkins is clear that he uses "apes" for Hominoidea, he also uses "great apes" in ways which exclude humans. Thus in Dawkins 2005: "Long before people thought in terms of evolution ... great apes were often confused with humans" (p. 114); "gibbons are faithfully monogamous, unlike the great apes which are our closer relatives" (p. 126).

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. J. E. Gray. "An outline of an attempt at the disposition of Mammalia into tribes and families, with a list of the genera apparently appertaining to each tribe". Annals of Philosophy. New Series (بزبان انگریزی). 10: 337–344. Archived from the original on 2022-04-27. Retrieved 2022-04-27.
  2. Bo Xia; Weimin Zhang; Aleksandra Wudzinska; Emily Huang; Ran Brosh; Maayan Pour; Alexander Miller; Jeremy S. Dasen; Matthew T. Maurano; Sang Y. Kim; Jef D. Boeke (2024). "On the genetic basis of tail-loss evolution in humans and apes". Nature (بزبان انگریزی). 626 (8001): 1042–1048. Bibcode:2024Natur.626.1042X. bioRxiv:10.1101/2021.09.14.460388. DOI:10.1038/s41586-024-07095-8. PMID:38418917.
  3. Mindy Weisberger (23 Mar 2024). "Why don't humans have tails? Scientists find answers in an unlikely place". CNN (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2024-03-24. Retrieved 2024-03-24.
  4. Dixson 1981, pp. 13
  5. J. R. Grehan (2006). "Mona Lisa smile: the morphological enigma of human and great ape evolution". Anatomical Record (بزبان انگریزی). 289B (4): 139–157. DOI:10.1002/ar.b.20107. PMID:16865704.

  6. J. Rush (23 Jan 2015). "Ebola virus 'has killed a third of world's gorillas and chimpanzees' – and could pose greatest threat to their survival, conservationists warn". The Independent (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2015-03-30. Retrieved 2015-03-26.