بوسنیا و ہرزیگووینا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بوسنیا سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
  
بوسنیا و ہرزیگووینا
بوسنیا و ہرزیگووینا
پرچم
بوسنیا و ہرزیگووینا
نشان

Europe-Bosnia and Herzegovina.svg
 

شعار
(انگریزی میں: The heart shaped land ویکی ڈیٹا پر (P1451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 44°N 18°E / 44°N 18°E / 44; 18  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]تصنيف:مرجع جغرافي من ويكي بيانات
پست مقام بحیرہ ایڈریاٹک (0 میٹر)  ویکی ڈیٹا پر (P1589) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 51197 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دارالحکومت سرائیوو  ویکی ڈیٹا پر (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری زبان بوسنیائی زبان،  کروشیائی زبان،  سربیائی  ویکی ڈیٹا پر (P37) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی 3507017 (2017)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حکمران
طرز حکمرانی وفاقی جمہوریہ  ویکی ڈیٹا پر (P122) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1 مارچ 1992  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمر کی حدبندیاں
شرح بے روزگاری 28 فیصد (2014)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1198) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت مرکزی یورپی وقت (معیاری وقت)
متناسق عالمی وقت+01:00 (معیاری وقت)
00 (روشنیروز بچتی وقت)  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹریفک سمت دائیں[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1622) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈومین نیم ba.  ویکی ڈیٹا پر (P78) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آیزو 3166-1 الفا-2 BA  ویکی ڈیٹا پر (P297) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بین الاقوامی فون کوڈ +387  ویکی ڈیٹا پر (P474) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Map Bih entities.png

بوسنیا و ہرزیگووینا (bosnia-herzegovina) یورپ کا ایک نیا ملک ہے جو پہلے یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ اس کے دو حصے ہیں ایک کو وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہتے ہیں اور دوسرے کا نام سرپسکا ہے۔ وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا اکثریت مسلمان ہے اور سرپسکا میں مسلمانوں کے علاوہ سرب، کروٹ اور دیگر اقوام بھی آباد ہیں۔ یہ علاقہ یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 51،129 مربع کلومیٹر ( 19،741 مربع میل) ہے۔ تین اطراف سے کرویئشا کے ساتھ سرحد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی یورپی اقوام نے اس علاقے کی آزادی کے وقت اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے ساحلِ سمندر نہ مل سکے چنانچہ اس کے پاس صرف 26 کلومیٹر کی سمندری پٹی ہے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں بوسنیا و ہرزیگووینا کو محصور کیا جا سکتا ہے۔ مشرق میں سربیا اور جنوب میں مونٹینیگرو کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت سرائیوو ہے جہاں 1984 کی سرمائی اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہوا تھا جب وہ یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ تاحال آخری بار ہونے والی 1991ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 44 لاکھ تھی جو ایک اندازہ کے مطابق اب کم ہو کر 39 لاکھ ہو چکی ہے۔ کیونکہ 1990 کی دہائی کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے جن کی اکثریت مسلمان بوسنیائی افراد کی تھی اور بے شمار لوگ دوسرے ممالک کو ہجرت کر گئے۔

تاریخ[ترمیم]

زمانہ قبل از تاریخ[ترمیم]

جنوب مشرقی یورپ کے قدیم ترین آثار اسی ملک سے ملے ہیں مثلاً پتھر کے زمانے کے 12000 سال قبل مسیح سے تعلق رکھنے والا ایک مجسمہ جس میں ایک گھوڑے کو تیر کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ آثار ہرزیگووینا میں ستولاک (Stolac) نامی قصبہ سے ملے ہیں۔ اس زمانے میں لوگ غاروں میں رہتے تھے یا پہاڑیوں کی چوٹیوں پر گھر بناتے تھے۔ 1893ء میں سرائیوو کے قریب بھی قدیم بتمیر ثقافت کے آثار ملے ہیں۔ جن کا تعلق کانسی کے زمانے سے ہے۔ یہ ثقافت آج سے پانچ ہزار سال پہلے معدوم ہو گئی تھی۔ چار سو سال قبل مسیح میں کلتی لوگوں نے اس علاقہ پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد وہ مغربی یورپ میں بھی پھیل گئے۔ یہ اپنے ساتھ لوہے کو اوزار اور پہیے لے کر آئے جس نے علاقے کی زراعت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔

رومی دور[ترمیم]

سلاوی ہجرت[ترمیم]

=== عثمانی

آسٹرو ہنگیرین حکمرانی (1878–1918)[ترمیم]

مملکت یوگوسلاویہ (1918–1941)[ترمیم]

مملکت یوگوسلاویہ (Kingdom of Yugoslavia) (سربی کروشیائی: Краљевина Југославија، Kraljevina Jugoslavija) مغربی بلقان اور وسطی یورپ میں ایک مملکت تھی جو بین جنگ کی مدت (1918-1939) اور دوسری جنگ عظیم کی پہلی ششماہی (1939-1943) میں پھلنا شروع ہوئی۔

دوسری جنگ عظیم (1941–45)[ترمیم]

اشتراکی جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگوینا (1945–1992)[ترمیم]

اشتراکی جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگوینا (Socialist Republic of Bosnia and Herzegovina) (سربو کروشین: Socijalistička Republika Bosna i Hercegovina) جسے 1963 تک عوامی جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگوینا (People's Republic of Bosnia and Herzegovina) کہا جاتا تھا ایک اشتراکی ریاست تھی جو اشتراکی وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ کی چھ ریاستوں میں سے ایک تھی۔

بوسنیائی جنگ (1992–1995)[ترمیم]

بوسنیائی جنگ (Bosnian War) بوسنیا و ہرزیگووینا میں ہونے والا ایک بین الاقوامی مسلح تصادم جو 6 اپریل 1992ء اور 14 دسمبر 1995ء کے درمیان ہوا۔[5][6][7] اہم متحارب افواج جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگووینا اور بوسنیا و ہرزیگووینا میں موجود بوسنیائی سرب اور بوسنیائی کروشیائی، جمہوریہ سرپسکا اور کروشیائی جمہوریہ ہرزیگ-بوسنیا تھے جنہیں جمہوریہ سربیا (سربیا و مونٹینیگرو کا آئینی ملک) اور جمہوریہ کروشیا کی امداد حاصل تھی۔[8][9][10]

آبادیات اور اسلام کی آمد[ترمیم]

بوسنیا و ہرزیگووینا میں مذہب
مذہب فیصد
اسلام
  
45%
سیربیائی آرتھوڈوکس
  
36%
کیتھولک مسیحیت
  
15%
دیگر
  
4%


اسلام کی آمد[ترمیم]

بوسنیا میں اسلام کی آمد 15 ویں صدی عیسوی میں مسلمان فاتحین کی آمد سے ہوئی - سلطان محمد فاتح ﴿30 مارچ 1432 ئ تا 3 مئی 1481 ئ﴾ نے بوسنیا کو فتح کیا اور یہ علاقہ خلافتِ عثمانیہ کا حصہ بنا اور مسلمانوں نے وہاں اسلام کی تبلیغ شروع کی، اُن لوگوں میں مسلمان فوجی اور تاجر نمایاں تھے - بعد ازاں 16 ویں صدی میں اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا جن میں سلسلہ قادری، سلسلہِ رومی ،سلسلہ نقشبندی ، اور سلسلہ بکتشی نمایاں رہے-

عہدِ اسلامی[ترمیم]

بوسنیا میں خلافتِ عثمانیہ کی مثبت پالیسیوں نے بوسنیا کو معاشی، دفاعی اور سیاسی طور پر مضبوط کیا عہدِ خلافتِ عثمانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں کی زندگی پر بھی توجہ دی گئی - انتظامی، قانونی اور سیاسی نظام میں مثبت تبدیلیوں نے علاقہ کی ترقی میں خاص کردار ادا کیا - بوسنیا کے صوفیائ نے احترامِ انسانیت اور قرآن میں موجود امن کی تعلیمات کے ذریعے مختلف مکاتب کے مابین فاصلہ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا - بوسنیا کے لوگوں کا علم، روحانیت اور صوفیا سے لگائو آج بھی مغرب میں مشہورہے- مختلف المذاہب لوگوں کے مابین زندگی بسر کرتے ہوئے بوسنیا کے مسلمان آج بھی اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہاں اولیا ئ نے احترامِ ِانسانیت کا اور ِحلم کے درس کی بنیاد پر صدیوں تک پُر امن زندگی ممکن بنائی-

اسلامی مقامات[ترمیم]

بوسنیا کے تاریخی مقامات میں اسلامی تہذیب و ثقافت چھلکتی ہے جس کی مثال غازی خسرو بیگ مسجد، مسجدِ سفید ، بادشاہی مسجد اور محمد پاشا مسجد ہیں - غازی خسرو جنگِ ہسپانیہ کا ہیرو تھا بعد ازاں 1521ئ میں بوسنین صوبہ کا گورنر بنا، اسی کے نام پر غازی خسرو بیگ مسجد 1557ئ میں تعمیر ہوئی جِس کے اندر کی کندہ کاری اور پچی کاری مسلمانوں کے عمدہ ذوق اور فنِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے - مسجدِ سفید اپنے طرزِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت ہی منفرد ہے اور ایشیا کی اُس دور کی تعمیر کردہ دیگر مساجد کے فن تعمیر سے مختلف ہے- صوفیائے کرام کی خانقاہیں بھی رُوحانی و تاریخی مرکز ہیں جن میں سلسلہِ قادری سے تعلق رکھنے والے صوفی سنان کا مزار بوسنیا میں سب سے خوبصورت مانا جاتا ہے ، مزار کی دیواروں پر عمدہ خطاطی اور کلمہ طیب سے بنائی گئی حضرت سلمان(ع) کی مہر قابلِ دید ہے، یہ مزار 1640ئ میں تعمیر ہوا اور تصوف ، فارسی، عربی اور ترک ادب کے علوم کا گہوارہ رہا ہے -

جدید تاریخ[ترمیم]

خلافتِ عُثمانیّہ کو جب انگریز نے مختلف سازشوں اور ہتھکنڈوں سے کمزور کروایا تو اُس ک اثرات یورپ میں خلافت کی شاخوں پر بھی پڑے اور چھوٹے چھوٹے خطے ایک ایک کر کے خلافت سے کاٹے جاتے رہے - 1918ئ میں بوسنیا ، کروشیائی سرب و سلون ریاست کا حصہ بنا، بعد میں جس کا نام تبدیل کر کے یوگوسلاویہ رکھا گیا- یوگو سلاویہ کے کمزور ہونے کے بعد یکم مارچ 1992ئ میں کیا جانے والا ریفرنڈم برائے آزادی مکمل ہوا اور 3 مارچ 1992ئ کو بوسنیا نے اپنی آزادی کا اعلان کیا جسے عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور اس طرح بوسنیا آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آیا - آزادی کے بعد بوسنیا نے کافی تیزی سے ترقی کی جس کے لیے لیے مختلف مسلم و غیر مسلم ممالک اور دوسرے بڑے عالمی اداروں کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں

پاکستان سے دوستانہ تعلقات[ترمیم]

پاکستان اور بوسنیا کے تعلقات اچھے اور خوشگوار ہیں- بوسنیا کا سفارت خا نہ اسلام آباد اور پاکستان کا سفارت خا نہ سرائیوو میں واقع ہے- بوسنیا اور سرب کی جنگ کے دوران اِقوامِ متحدہ کے امن مشن میں پاکستان آرمی شامل تھی جس کا ذکر ISPR کے ڈائریکٹ شدہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامہ سیریل الفا براوو چارلی میں بھی ملتا ہے - پاکستان نے کئی بوسنین فوجی افسران اور نوجوانوں کو مفت تربیتی سہولیات فراہم کیں- 2012 میں بوسنیا کے صدر بکر عزت بیجوفیتش﴿Bakir Izetbegovic﴾نے پاکستان کا دورہ کیا- دونوں ممالک کے سربراہان نے اقتصادی، صنعتی، تعلیمی، ثقافتی اور دفاعی امور پر باہمی تعاون کو فروغ دینے پر دلچسپی ظاہر کی- 2014کے دوران بوسنیا میں آنے والے سیلاب کے وقت پاکستان نے 40 ٹن امدادی سامان بھی بھیجا ، جس میں کمبل، کپڑے، خیمے اور اشیائ خوردنوش شامل تھیں دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 500 ملین ڈالرہے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے بے پناہ مواقع موجود ہیں- بوسنین اشیا جیسا کہ فرنیچر،میٹل اور بالخصوص ایلومینیم کی تجارت کے لیے پاکستان ایک بڑی منڈی ثابت ہو سکتا ہے، بوسنیا میں پاکستان سے چمڑا اورچمڑے سے بنی اشیائ، ٹیکسٹائل، معدنیات، کھیلوں کے سامان اور آلاتِ جراحی درآمد کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے-

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P402) کی خاصیت میں تبدیلی کریں "صفحہ بوسنیا و ہرزیگووینا في خريطة الشارع المفتوحة". OpenStreetMap. اخذ شدہ بتاریخ 2 جولا‎ئی 2020ء. 
  2. https://data.worldbank.org/indicator/SP.POP.TOTL — اخذ شدہ بتاریخ: 8 اپریل 2019 — ناشر: عالمی بنک
  3. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  4. http://chartsbin.com/view/edr
  5. Bose، Sumantra (2009). Contested lands: Israel-Palestine, Kashmir, Bosnia, Cyprus, and Sri Lanka. Harvard University Press. صفحہ 124. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. After the official referendum the United States took the lead in sponsoring international recognition for Bosnia as a sovereign state, which was formalized in 6 April 1992. The Bosnian War began the same day. 
  6. Rogel، Carole (2004). The Breakup of Yugoslavia and Its Aftermath. Greenwood Publishing Group. صفحات 59; Neither recognition nor UN membership, however, saved Bosnia from the JNA; the war there began on April 6. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  7. Walsh، Martha (2001). Women and Civil War: Impact, Organizations, and Action. Lynne Rienner Publishers. صفحات 57; The Republic of Bosnia and Herzegovina was recognized by the European Union on 6 April. On the same date, Bosnian Serb nationalists began the siege of Sarajevo, and the Bosnian war began. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  8. "ICTY: Conflict between Bosnia and Herzegovina and the Federal Republic of Yugoslavia". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2015. 
  9. "ICTY: Conflict between Bosnia and Croatia". 6 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  10. "ICJ: The genocide case: Bosnia v. Serbia – See Part VI – Entities involved in the events 235–241". 25 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2015. 
  11. "Preliminary Results of the 2013 Census of Population, Households and Dwellings in Bosnia and Herzegovina" (PDF). Agency for Statistics of Bosnia and Herzegovina. 5 November 2013. 
  12. http://www2.rzs.rs.ba/static/uploads/bilteni/popis/PreliminarniRezultati_Popis2013.pdf