بوہرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بوہرہ اسماعیلی فرقے کے مستعلیہ طیبیہ کو کہتے ہیں مستعلیہ کا یہ گروہ یمن، بھارت، افریقا، الجزائر اور پاکستان میں غیر آغا خانی اسماعیلی ہیں یہ وہ اسماعیلی ہیں جو ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ بوہرہ گجراتی لفظ ووہرہ جو ایک ہندو ذات تھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ مغربی ہند میں ہندو بوہرے بھی ہیں اور سنی بوہرے بھی۔ بالعموم یہ بیوپاری ہیں اور شہروں میں رہتے ہیں۔ افریقا اور الجزائر میں بھی تجارت کرتے ہیں اور عرب و مسقط میں پھیلے ہوئے ہیں۔ احمد، عبد اللہ وغیرہ ان کے مشہور رہنما داعی مطلق تھے۔ جن کے مزارات قدیم شہر کھنبات ’’بھارت‘‘ میں ہیں۔
بوہروں کا لباس عام طور پر عمامہ اور لمبی اچکن ہوتاہے۔

تاریخ[ترمیم]

1094ء میں فاطمی حکمران المستنصر کی موت کے بعد ان کی جانشینی کے سلسلے میں اسماعیلی فرقے میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے مستنصر نے اپنے بڑے بیٹے ابو منصورنزار کو اپنا جانشین معین کیا تھا لیکن ان کے وزیر افضل نے ان کی وفات کے بعد بغاوت کردی اور ان کے چھوٹے بیٹے قاسم احمد المستعلی باللہ کو تخت نشین کر دیا۔ جو نزار کو امام مانتے ہیں وہ نزاریہ کہلائے اور جو مستعلی کو امام مانتے ہیں وہ مستعلیہ کہلائے۔ مستعلیہ کے پھر دو گروہ ہو گئے۔ مستعلیہ طیبیہ جن کے تین امام اور تھے اور مستعلیہ حافظیہ جو تخت نشین خلیفہ کو ہی امام مانتے تھے۔ خلافت کا دور ختم ہوتے ہی حافظیہ تو ختم ہو گئے مگر طیبیہ کا سلسلہ داعی مطلق کے نظام سے آگے بڑھا۔ 151ھ تک ان کاایک ہی داعی مطلق مقرر ہوتا تھا۔ ان کے 26 ویں داعی مطلق داؤد بن عجب شاہ کی وفات 997 کے بعد ہندوستان میں ان کے جانشین برہان الدین بن قطب شاہ 27 ویں داعی بن گئے اور یہ بات یمن میں موجود مستعلیہ طیبیہ (بوہروں) کے افراد کو دے دی گئی لیکن چار سال بعد مرحوم داؤد کی طرف سے یمن میں تعیین شدہ والی سلیمان بن حسن نے اختلاف کرتے ہوئے خود کو جانشین کہہ کر 27 ویں داعی ہونے کا دعوی کر دیا تو یمن میں سلیمان کو داعی مطلق تسلیم کرنے والوں کو سلیمانی بوہرہ کہا جاتا ہے۔ اور بھارت میں برہان الدین بن قطب شاہ کو ہی داعی ماننے والے داؤدی بوہرہ کہلائے۔ اس طرح یہ دو جدا دھڑے وجود میں آ گئے اب ہر ایک کا اپنا اپنا نظام ہے۔
یمن مین سلیمانیوں کی اکثریت ہے اور پاکستان و بھارت میں داؤدیوں کی ہے۔ گجرات کی اسلامی سلطنت کے زمانے میں بوہرہ جماعت کے کچھ لوگ مذہب چھوڑ کر سنی ہو گئے اور صغیری بوہرہ کہلائے۔ ان لوگوں کے مذہبی رہنما ’’ملا جی‘‘ کہلاتے ہیں۔
داؤدی بوہروں میں اختلافات ہوتے رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے کئی اور گروہ بنتے گئے جیسے علوی بوہرہ، قطبی بوہرہ اور ہیبتی بوہرہ وغیرہ۔ داؤدی بوہروں میں ایک اختلاف 29 ویں داعی مطلق عبد الطیب زکی الدین (1030 تا 1041) کے بارے علی بن ابراہیم نے کیا اور خود کو داعی مطلق بننے کا حقدار ٹھہرایا اور علوی بوہرہ فرقہ بنا لیا ان کا مرکز گجرات کا علاقہ برودہ ہے۔ یہ لوگ داؤدی بوہروں سے شادی بیاہ نہیں کرتے۔ داؤدی بوہرہ کے اس بہت چھوٹے گروہ علوی بوہرہ کے 1980 ء سے موجودہ 44 ویں داعی مطلق ابو حاتم طیب ضیاء الدین صاحب ہیں۔علوی بوہرہ کی وب گاہ علوی بوہرہ میں سے ایک گروہ ناگوشہ بوہرہ یا ناگوشئہ بوہرہ بھی کہلاتا ہے جو سبزی خور ہیں اور گوشت نہیں کھاتے اور دیگر ہندی رسوم پر عمل کرتے ہیں اور اسلام کے منکر ہو گئے ہیں۔

داؤدی بوہرہ کے موجودہ داعی مطلق[ترمیم]

محمد برہان الدین بن طاہر سیف الدین جن کو ان کے والد نے 19 سال کی عمر میں 1934ء میں 52 واں داعی مطلق مقرر کیا تھا 14 جنوری 2014 ء کو وفات پا گئے ان کے بعد ان کے فرزند مفضل سیف الدین موجودہ 53 ویں داعی مطلق ہیں۔ داؤدی بوہروں کی آبادی کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں تاہم ہندوستان میں تقریباً دو لاکھ دس ہزار بوہرے رہتے ہیں بعض تخمینوں کے مطابق عالمی سطح پر بوہروں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے، داودی بوہرے ہندوستان ،پاکستان، یمن،سری لنکا مشرق بعید اور خلیج فارس کے جنوبی علاقوں میں بھی بستے ہیں۔ البتہ ان ملکوں میں داودی بوہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے ۔

سلیمانی بوہرہ[ترمیم]

سلیمانی داعی مطلق نے جو یمنی قبیلے بنویام کے مَکرمی خاندان سے تھے، یمن کے شمال مشرقی علاقے نجران میں ہمیشہ سے اپنی رہائش گاہ قائم رکھی یہ علاقہ 1930 ء میں، سعودی عرب کے جنوبی حصے میں باقاعدہ شامل ہو گیا۔ سلیمانی بوہرہ کے موجودہ 49 ویں داعی مطلق 1976ء سے شرفی حسین بن حسن مکرمی ہیں۔ سلیمانی بوہروں کی آبادی فی الحال 000، 70 سے زیادہ نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر یمن میں رہائش پزیر ہیں۔ بر صغیر کے سلیمانی چند ہزار افراد ہیں جو زیادہ تر ممبئی، برودا، احمدآباد و حیدرآباد دکن میں رہتے ہیں؛ سلیمانی بوہرہ کے لوگ تھوڑی سی تعداد میں پاکستان میں مقیم ہیں۔

عہدے[ترمیم]

بوہرہ میں داعی مطلق کے بعد ماذون ہوتا ہے جو داعی مطلق کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے بعد ان کا جانشین بنتا ہے، اس کے بعد مکاسر ہوتا ہے جو ماذون کا مدد گار ہوتا ہے۔ یہ بھی داعی کا قریبی رشتہ دار ہوتا ہے۔ اس کے بعد عامل کا رتبہ ہے جو داعی کا دیگر علاقوں میں نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ملا ہوتا ہے۔ جو بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔ ان تمام عہدوں کے تفویض کرنے کا اختیار صرف داعی کے پاس ہوتا ہے۔

عقائد[ترمیم]

بوہروں کا امام اوران کے جانشین سب غائب ہیں یہ بوہروں کا اہم ترین اصول عقیدہ ہے اور جو داعی ہیں وہ امام کے حکم سے اس کے جانشین بنتے ہیں ان کی پہلی دینی کتاب قرآن ہے صرف داعی ہی قرآن کے باطن تک رسائی حاصل کرسکتاہے ،حدیث و سنت رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے منابع دینی میں شامل ہیں ،بوہرے اللہ تعالٰی کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور مفہوم خدا نہایت مجرد اور دور از ذھن ہے، بوہرے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے داعی کو رسول کی صلاحیتوں کا حامل سمجھتے ہیں ۔

دینی فرائض[ترمیم]

نماز[ترمیم]

بوہروں کے نزدیک رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی مودت و محبت رکن اسلام ہے یہ لوگ قسم میثاق میں جس پر تمام بوہرے متفق ہیں کہتے ہیں کہ " صدق دل سے امام ابوالقاسم امیرالمومنین کی جوتمہارے امام ہیں پیروی کریں " ان کے فرائض پنجگانہ اس طرح ہیں۔
ان کی اذان شیعہ اثنا عشری کی طرح ہے لیکن وضو کا طریقہ اہل سنت کی طرح ہے ،بوہرے نمازکے دوران میں ہاتھہ کھلے رکھتے ہیں نمازکے لیے ان کا لباس مخصوص ہوتا ہے یہ لوگ تین وقت نمازپڑھتے ہیں اور ہر نماز کے اختتام پر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہم اور اپنے اکیس اماموں کا نام لیتے ہیں ۔
بوہرے نمازجمعہ کے قائل نہیں ہیں ان کی دعاؤں کی کتاب کانام " صحیفۃ الصلاۃ "ہے بوہروں کے نزدیک شفاعت کا نہایت اہم مقام ہے ۔

زکوۃ[ترمیم]

ہربوہرے پر زکوۃ واجب ہے ان پر چھ طرح کی زکاتیں واجب ہیں جو حسب ذیل ہیں۔ 1 زکوۃ صلات ؛اس کی مقدار چار آنہ ہے اور ہرفرد پرواجب ہے

2 زکوۃ فطرہ اس کی مقدار بھی چار آنہ ہے۔ 3 زکوۃ حق النفس یہ زکا ت عروج ارواح اموات ہے جس کی مقدار ایک سو انیس روپے ہے۔ 4 جق نکاح ؛یہ زکوۃ حق ازدواج کے طور پر اداکی جاتی ہے اس کی مقدار گیارہ روپے ہے۔ 5 زکوۃ سلامی سیدنا؛ یہ داعی مطلق کے لیے نقدی تحفے ہیں۔ 6 زکوۃ دعوت؛یہ زکوۃ دعوت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جاتی ہے اور تین طرح کی ہے۔ الف ؛آمدنی پر ٹیکس جو تاجر برادری سے لی جاتی ہے۔

ب ؛خمس جو متوقع آمدنی کا ایک بٹا پانچ حصہ ہوتا ہے جیسے وراثت میں ملنے والے اموال۔ ج ؛ وہ لوگ جو بیماری کی وجہ سے نماز و روزہ ادا نہیں کرسکتے ان پر بھی یہ زکوۃ واجب ہے۔ 7۔ نذر مقام ،امام غائب کی نذر کے لے جو پیسہ رکھا جاتا ہے اسے کہتے ہیں ۔

روزہ[ترمیم]

بوہروں کا روزہ تیس دنوں کا ماہ رمضان میں ہوتا ہے یہ لوگ ہر مہینے کی پہلی اور آخری تاریخ اور ہر جمعرات کوبھی روزہ رکھتے ہيں اس کے علاوہ ہر مہینے کے وسطی بدھ کوبھی روزہ رکھتے ہیں۔ روزے اہل سنت سے چند روزقبل شروع کرکے چند روز پہلے ہی تمام کرتے ہیں ۔

حج و زیارت[ترمیم]

بوہروں کے نزدیک استطاعت رکھنے والون پر حج واجب ہے اور اس فریضے کے لیے ضروری ہے کہ قسم میثاق کھائی جائے یہ لوگ مکہ کے علاوہ کربلا کی زیارت کو بھی جاتے ہيں اور کچھ لوگ نجف و قاہرہ بھی جاتے ہيں ہندوستان میں بوہروں کی مشہور زیارتگاہیں احمد آباد ،سورت ،ج ام نگر، مانڈوی، اجین اور ب رہانپور میں ہیں۔ بوہروں کے مشاہد اولیاء میں ان مقامات کانام لیا جاسکتا ہے مقبرہ جندابائی ممبئی ،مقبرہ نتا بائی ،مقبرہ مولانا وحید بائی ،مقبرہ مولانا نور الدین ممبئی۔

بوہروں کے نزدیک محرم کے تابوتوں اور تعزیوں کے لیے نذر کرنا شرک ہے لیکن ان کے نزدیک اولیاء خدا کے مزارت پرنذر کرنا جائز ہے اس علاوہ وہ اور بھی نذورات کے قائل ہیں جیسے معین دنوں میں نذر کا روزہ رکھنا ،بعض دعائيں باربار پڑھنا، کھانا کھلانا ،مذہبی مقامات تعمیرکرنا اور وقف کرنا۔

بوہروں پر عہد اولیاء کی بناپر جہاد واجب ہے اور جہاد ہر زمانے میں جب بھی امام یا داعی ضروری سمجھیں واجب ہے اور اس میں خلوص سے شرکت ضروری ہے ۔

حشر و نشر[ترمیم]

بوہرے حشرونشر و قیامت کے بارے میں فاطمیوں کے عقائد کے تابع ہیں سعادت کی واحد راہ امام کی پیروی ہے موت کے بعد بھی سعادت کی راہ جاری رہتی ہے یہانتک کہ مومن بوہرہ خدا سے جا ملتا ہے اور دونوں ایک ہوجاتے ہیں بنابریں نیک بوہرے کی روح موت کے بعد اس کے نفس سے جو ابھی دنیا میں ہے نزدیک ہوتی جاتی ہے اس طرح زندہ شخص کو خیرو شر کا الہام ہوتاہے اور اسی کے ساتھہ ساتھہ اس سے تعلیم بھی حاصل کرتی ہے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • (1) قطب الدین ب رہانپوری، منتزع الاخبار فی اخبار الدعاة الاخیار (تاریخ اسماعیلی طیبی یمن و ہند تا سنہ 1240 ھ قلمی نسخہ)
  • (2) ف رہاد دفتری، تاریخ و عقاید اسماعیلیہ، ترجمہ فریدون بدره‌ای، تہران 1375 ھ ش
  • (3) محمدعلی رامپوری، موسم بہار فی اخبار الطاہرین الاخیار، ممبئی 1301ـ1311 ھ (گجراتی)
  • (4) زاہدعلی، ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اوراس کانظام، حیدرآباد 1954 ء
  • (5) معد بن علی مستنصر باللہ، السجلات المستنصریۃ، چاپ عبد المنعم ماجد، قاہرہ مصر 1954 ء