بوہیموند اول
| بوہیموند اول | |
|---|---|
| (فرانسیسی میں: Bohémond de Tarente) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1054ء |
| وفات | 3 مارچ 1111ء (56–57 سال) کانوسا دی پگلیا |
| مدفن | کانوسا دی پگلیا |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ ورانہ زبان | فرانسیسی |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | پہلی صلیبی جنگ |
| درستی - ترمیم | |
بوہیموند اول (فرانسیسی: Bohémond de Tarente) ایک نورمن نژاد فوجی سردار تھا جو تقریباً 1058ء میں جنوبی اٹلی کے علاقے کالابریا میں پیدا ہوا اور 3 مارچ 1111ء کو انطاکیہ میں وفات پائی۔ وہ ابتدا میں تارانتو کا امیر بنا اور بعد ازاں پہلی صلیبی جنگ میں شرکت کے بعد انطاکیہ کا حکمران بن گیا۔ مسلم مؤرخ اسامہ بن منقذ نے اپنی کتاب الاعتبار میں اسے “میمون” کے نام سے ذکر کیا ہے۔ [1][2][3]
ابتدائی زندگی
[ترمیم]بوہیموند، ڈیوک رابرٹ جیسکارد کا بڑا بیٹا تھا، جو کالابریا کا حکمران تھا۔ اس نے اپنے والد کے ساتھ 1080ء سے 1085ء کے درمیان بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا۔ 1085ء میں والد کی وفات کے بعد اس نے اپنے بھائی کے ساتھ ریاست تقسیم کی۔ بوہیموند کو بحیرۂ ایڈریاٹک کے ساحلی علاقے ملے، جبکہ اس کے بھائی روجر بورسا نے اٹلی کے باقی علاقے سنبھالے۔
کچھ عرصے بعد بوہیموند اپنی بازنطینی فتوحات کھو بیٹھا اور اٹلی واپس آ گیا، جہاں اس کا اپنے بھائی سے تنازع ہوا۔ اس موقع پر پوپ اوربان دوم نے مداخلت کی اور اسے تارانتو کی امارت دے دی۔
پہلی صلیبی جنگ میں شرکت
[ترمیم]1096ء میں جب پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوا تو بوہیموند صلیبی افواج میں شامل ہو گیا۔ یہ افواج قسطنطنیہ میں جمع ہوئیں اور پھر شام کی طرف پیش قدمی کی۔ اس نے صلیبی لشکر کے ساتھ مل کر محاصرہ انطاکیہ میں حصہ لیا، جو تقریباً نو ماہ جاری رہا۔ آخرکار صلیبیوں نے انطاکیہ پر قبضہ کر لیا اور بوہیموند کو اس کا حکمران بنا دیا گیا۔
حکومت اور کردار
[ترمیم]انطاکیہ پر قبضے کے بعد بوہیموند نے خود کو اس کا خود مختار امیر قرار دیا، حالانکہ نظری طور پر یہ علاقہ بازنطینی سلطنت کے حوالے کیا جانا تھا۔ اس اقدام سے اس کے اور بازنطینی حکمرانوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ وہ صلیبی ریاستوں کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے اور اس نے شام میں صلیبی اقتدار کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔
وفات
[ترمیم]بوہیموند اول کا انتقال 3 مارچ 1111ء کو انطاکیہ میں ہوا۔ اس کے بعد اس کی قائم کردہ امارت اس کے خاندان کے پاس رہی اور صلیبی ریاستوں کی تاریخ میں اس کا نام ایک اہم فوجی رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Steven Runciman (1989b)۔ A History of the Crusades, Volume II: The Kingdom of Jerusalem and the Frankish East, 1100-1187۔ Cambridge University Press۔ ISBN:0-521-06162-8
- ↑ Thomas Asbridge (2000)۔ The Creation of the Principality of Antioch, 1098-1130۔ Boydell Press۔ ISBN:978-0-85115-661-3۔ 16 ديسمبر 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Donald M. Nicol (1992)۔ Byzantium and Venice: A Study in Diplomatic and Cultural Relations۔ Cambridge University Press۔ ISBN:0-521-42894-7
