بٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بٹ ایک قوم ہے جو کشمیر، پاکستان اور بھارت میں آباد ہے۔ بٹ قوم میں ہندو اور مسلمان دونوں پائے جاتے ہیں۔سر والٹر لارنس اپنی تاریخ میں ان کی اصل برہمنوں سے ثابت کرتے ہیں مصنف تاریخ گلشن کشمیر نے بھی انہیں برہمن لکھا ہے اور کشمیر کے جغرافیہ ملحقہ راج ترنگنی کلہن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ برہمن تھے۔[1]

1891ء کی مردم شماری کی ریاستی رپورٹ میں بٹ فرقہ کا اصل نام کارکن پنڈتوں کی ایک ذات بٹھارک کا مخفف بھٹ ہی بتایا گیا ہے۔بلکہ راج ترنگنی کلہن کے فٹ نوٹ 103 میں بھی دراس،لداخ،سکردو وغیرہ کی بھٹ یا بھوٹ اقوام کو بھی بٹ ہی ظاہر کیا گیا ہے۔ آج کل ان میں سے بہت بھٹہ کے نام سے بھی مشہور ہیں اور صدیوں سے مسلمان ہیں۔ہندو عہد قدیم کے آخری ایام میں بزمانہ راجا راج دیو (1218ء تا 1242ء) جب لون اور دیگر فرقوں کا زور کم ہوا تو فرقہ بٹ نے راجا کے خلاف شورش شروع کر دی جس کی وجہ سے راجا نے برہمنوں کے قتل عام کا حکم دے دیا۔ تاریخوں میں لکھا ہے کہ ہر طرف قتل عام ہونے لگا بٹوں نے اپنی ذات بدل لی، شکلیں بدل لیں اور کئی دوسرے ملکوں میں نکل گئے اور تاریخ گلدستہ کشمیر کے مطابق اب تک کشمیر میں یہ مثل زبان زد عام ہے کہ "نہ بٹوام"یعنی میں بٹ نہیں ہوں۔[1]

سلطان سکندر بت شکن (1394ء تا 1417ء)کشمیر کا مشہور بادشاہ تھا اس کا وزیر اعظم ایک ہندو تھا جو بٹ برہمن فرقہ سے تھا اور اس کا نام سیہ بٹ تھا جب اس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کا نام سیف الدین رکھا گیا اور بادشاہ کی طرف سے"ملک" کا خطاب ملا۔ملک سیف الدین بٹ اس قوم کا پہلا مسلمان تھا۔اس کے علاوہ تاریخ میں کئی نام ملتے ہیں جو بٹ برہمن سے تھے اور کافی شہرت رکھتے تھے جیسےمہاراجہ للتا دتیہ کے دور میں متر بٹ، راجا جیا پیڈ کے دور مین دیو بٹ،راجا سنگرام کے دور میں بھو بٹ،رانی کوٹہ کے زمانہ میں پچہ بٹ کا نام تاریخ کے صفحوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ ان کے علاوہ سلطان حسن شاہ (1475ء تا 1487) کا سپہ سالار تازی بٹ ایک مسلمان بٹ ہی تھا جس نے تاتار خان حاکم پنجاب کو شکست دی اور سیالکوٹ کو تباہ کیا۔ 1581ء میں بعہد یوسف شاہ وزیر اعظم چک بٹ کا محمد بٹ تھا۔یہی محمد بٹ تھا جس نے اکبر کی فتح کشمیر کے وقت اپنے اثر و رسوخ سے 1586ء میں فتنہ و فساد رفع کرا دیا تھا۔مغل دور حکومت میں بھی اس قوم کے کئی فرزند آسمان شہرت و ترقی پر آفتاب بن کر چمکتے رہے، ان میں ابدال بٹ، حاجی محمد اسلم، شیخ داود بٹ،مالو اور ممہ بٹ پانپوری علم و عمل اور تجارت و دربار داری میں بہت ممتاز تھے۔[1]موجودہ دور میں کشمیر میں مشہور بٹ شخصیت مقبول بٹ شہید ہیں ۔

بٹ پاکستان میں اور بھارت میں بھٹ بولا جاتا ہے یہ قوم خود میں کئی گوت رکھتی ہے یہ لوگ کشمیر سے تب نکلنا شروع ہوئے جب ڈوگرہ راجپوتوں نے ان کو مسلمان ہونے پر طرح طرح سے تکالیف پہنچائی، اس قوم کے کافی لوگ پنجاب میں آ گئے اور یہی اپنا کام کاج کرنے لگے۔ گوجرانوالہ میں ان کی تعداد کافی زیادہ ہے اور خیبر پختونخوا کے اضلاع خصوصا پشاور اور سوات میں بھی موجود ہیں جن میں عبدالستار بٹ ولد عبدالعزیز جو 1956ء میں بیس سال کی عمر میں سوات آئے اور ادھر ہی آباد ہوئے ان کے چار بیٹے ( اقبال حسین بٹ،فداحسین بٹ، آفتاب حسین بٹ اور شوکت حسین بٹ) ہیں اور چار بیٹیاں ہیں اور پشتو زبان بولتے ہیں۔ عبدالستار بٹ کی اولاد تعلیم کے لیے مشہور ہے اور ان کی شرح خواندگی سو فیصد ہے۔

سوات کے علاقہ بحرین کی مشہور شخصیت ولی بٹ تھے جو کشمیری تھے اور بحرین کالام کے علاقوں میں کافی با اثر اور مشہور تھے، ان کی اولاد بھی سوات میں آباد ہے۔ اسی طرح کالام میں بھی بٹ آباد ہیں جو محمد سعید بٹ کی اولاد ہے اور کالام کی زبان (کوہستانی) بولتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی کافی بٹ لوگ آباد ہیں ۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1. ^ ا ب پ فوق، محمدالدین. مکمل تاریخ اقوام کشمیر. صفحات صفحہ نمبر 288 تا 291 اور 579تا 585.