بپتسمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سینٹ ویلنٹائن سینٹ لوسیلا کو بپتسمہ دیتے ہوِئے

بپتسمہ (Baptism) عیسائیوں کی ایک مذہبی رسم ہے جس میں عیسائیت میں داخل ہونے والے نئے آدمی یا نومولود پر مقدس پانی چھڑک کر باقاعدہ عسائیت میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ رسم گرجوں میں ادا کی جاتی ہے۔ بعض گرجوں میں عیسائیوں کو اس وقت بپتسمہ دیا جاتا ہے جب وہ جوان ہوجائیں۔

پانی سے بپتسمہ عیسائیوں کا گناہوں سے پاکیزگی حاصل کرنے اور روحانی بحالی کا ایک طریقہ ہے۔ بپتسمہ دریا ، سمندر یا چشمہ جیسی کسی بہتے ہوئے پانی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بپتسمہ لینے والا جو پہلے ہی پانی اور مقدس روح کا بپتسمہ لے چکا ہو وہ مسیح کے نام سے اس طرح بپتسمہ لیتا ہے کہ اس کا پورا جسم پانی میں ڈوبا ہوا ہو اور سرنیچے کی طرف جھکا ہوا ہو۔ پیروں کا دھونا اس پات کی علامت ہے کہ بپتسمہ لینے والا مسیح کے ساتھ شریک ہے اور محبت، تقدیس، عاجزی، معاف کرنے کے جذبہ اور خدمت گذاری کی یاد دہانی ہے ۔ عیسائی عقائد کے مطابق جو شخص بپتسمہ لے اسے مسیح کے نام پر اپنے پیروں کو دھونا چاہئے۔ اس طریقہ سے ایک دوسرے کے پیر دھونا ایک ایسا رواج ہے جس کو کسی بھی مناسب موقع پر عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

اصطباغ[ترمیم]

اصطباغ(the way something is colored) کا مطلب وہ مسلمان جو ہسپانیہ میں رہتے تھے اور جنھیں زبردستی عیسائی بنایا گیا ہو اور بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔[1] دریائے یرون پر حضرت عیسیٰ نے حضرت یحییٰ کی شاگردی کی اور ان کے ہاتھ سے غوطہ لیا جس کو نصاریٰ بپتسمہ کہتے ہیں اور اصطباغ بھی۔[2] "جب آفتاب اسلام دنیا میں طلوع ہوا تو اس وقت یہود ونصاریٰ میں ایک رسم اصطباغ کی جاری تھی پہلے اس رسم کا رواج یہود میں ہوا اور پھر عیسائیوں نے بھی اس رسم کو جاری رکھا اور اب تک عیسائیوں میں یہ رسم چلی آتی ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے یا کوئی عیسائی بنتا ہے تو اس کو زرد پانی کے حوض میں غوطہ دیتے ہیں یا اس کے سر پر اس میں سے کچھ پانی ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب سچا عیسائی ہوگیا (پرانے گناہ دھل گئے)اسی رسم کا نام اصطباغ ہے جس کو آج کل بپتسمہ دینا کہتے ہیں چونکہ یہود اور نصاریٰ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ اس لیے گویا وہ انہیں اصطباغ کی دعوت دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (صبغۃ اللہ) نازل فرمائی اور مسلمانوں کو یہود اور نصاریٰ کی دعوت اصطباغ کا یوں جواب بتایا کہ ان سے کہدو کہ ہم تمہارا اصطباغ لے کر کیا کریں گے ہمیں تو اللہ کے دین کا رنگ کافی ہے اس سے بڑھ کر اور بہتر اور کون سا رنگ ہوسکتا ہے اور تم لوگ حضرت عزیر اور حضرت مسیح کو ابن اللہ اور اپنا خداوند سمجھنے کی وجہ سے شرک کے ناپاک رنگ سے ملوث ہو تم اہل توحید اور اہل اخلاص کو کس رنگ کی دعوت دیتے ہو۔"[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل عام، محمد انور بن اختر، ص- 29 تا 31
  2. تفسیر حقانی ابو محمد عبدالحق حقانی،البقرہ،52
  3. تفسیر معارف القرآن مولاناادریس کاندہلوی،البقرہ،136

[[زمرہ::یہودی۔مسیحی موضوعات]]