بچوں کا ادب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بچوں کی ضروریات کوذہن میں رکھ کرتخلیق کیا گیا ادب بچوں کا ادب یاادب اطفال کہلاتا ہے۔ تقرباً ہرہرزبان میں اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ اردوزبان میں ادبِ اطفال کی جانب قدرے کم توجہ دی گئی ہے۔ ہندوستان سے نور ،امنگ، پیام تعلیم،بچوں کی دنیا،گل بوٹے غبارے شائع ہوتے ہیں۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

بچوں کا اخبار[ترمیم]

  • بچوں کا اولین ماہانہ رسالہ پیسہ اخبار کے مدیر مولوی محبوب عالم نے مئی 1902ء میں شائع کیا تھا۔جس کا نام تھا ’’بچوں کا اخبار‘‘یہ کثیر الاشاعت ماہنامہ تھا۔ اس میں ترغیب و تشویق کے لیے بچوں کی غیر معیاری تحریریں بھی شائع کی جاتی تھیں۔
  • دس سال کی مدت اشاعت پوری کرنے کے بعد یہ رسالہ بند ہو گیا۔
  • اس رسالے کی قیمت اس وقت سالانہ معہ محصول ڈاک دو روپے چھ آنے تھی ۔

پھول[ترمیم]

  • تہذیب نسواں کے ایڈیٹر مولوی ممتاز علی (فاضل دیوبند) نےرسالہ ’’پھول‘‘ جاری کیا۔ اس کی اشاعت کا آغاز اکتوبر؍1909ء میں لاہور سے ہوا۔ یہ بچوں کا پہلا ہفت روزہ رسالہ تھا۔ اس میں بچوں کی نگارشات ترجیحی طور پر شائع کی جاتی تھیں۔
  • اس رسالے کو معروف ادیبوں کا تعاون حاصل تھا۔ ایک خوبصورت دیدہ زیب رسالہ جس سے حفیظ جالندھری، عبدالمجید سالک، امتیاز علی تاج، احمد ندیم قاسمی وغیرہ کی وابستگی تھی۔ محترمہ بنت نذرالباقر، محمدی بیگم اور حجاب امتیاز علی بھی اس کی ادارت سے وابستہ رہی ہیں۔ اس رسالہ کے قلم کاروں میں پطرس بخاری، محمد دین تاثیر، شوکت تھانوی اور اختر شیرانی جیسی قدآور شخصیتیں تھیں۔
  • تقریباً 48 سال تک بچوں کے لیے دلچسپ اور خوشنما یہ رسالہ شائع ہوتا رہا اور 1958ء میں یہ رسالہ بھی بند ہو گیا۔

پیام تعلیم،نئی دہلی[ترمیم]

  • اپریل؍1926ء میں یہ پندرہ روزہ تعلیمی رسالہ کی شکل میں جاری ہوا، پھر ماہنامہ بن گیا۔
  • اس رسالے کے روح رواں ڈاکٹر ذاکر حسین تھے۔
  • 1956ء میں اس کی اشاعت بند ہو گئی تھی۔
  • اشاعت ثانی جولائی 1964ء میں عمل میں آئی اور محمد حسین حسان ندوی جامعی اس کے مدیر بنائے گئے۔
  • 1974ء میں محمدحسین حسان کے انتقال کے بعد ولی شاہجہاں پوری نے پیام تعلیم کی ادارت سنبھالی۔
  • ولی شاہجہاں پوری کے بعد مکتبہ جامعہ کے منیجر شاہد علی خان اس کے مدیر مقرر ہوئے۔ شاہد علی خان کے ریٹائر منٹ کے بعد مکتبہ جامعہ کے ڈائرکٹر اس کے ایڈیٹر بنائے جاتے رہے۔
  • پیام تعلیم میں جوش ملیح آبادی، جگر مرآبادی، شفیع الدین نیر، (جن پر پیام تعلیم کا خاص نمبر بھی شائع ہوا) یوسف ناظم، علقمہ شبلی، سلمیٰ جاوید، مسعودہ حیات، افسر میرٹھی، پروفیسر محمد مجیب، پروفیسر رشید احمد صدیقی، قدسیہ زیدی ،محمد یوسف پاپا وغیرہ کی نگارشات بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔
  • یہ رسالہ اب بھی جاری ہے۔

بچوں کی دنیا[ترمیم]

  • بچوں کی دنیا کلکتہ (بھارت) سے 1941ء سے نکلنا شروع ہوا۔ اس کے مدیر عنایت اللہ تھے۔

نونہال، نئی دہلی[ترمیم]

  • نونہال کی اشاعت کا آغاز 15؍اگست 1948 سے ہوا۔
  • 1949ء میں یہ رسالہ بند کر دیا گیا۔
  • یہ حکومت ہند کے پبلی کیشن ڈویژن کا رسالہ تھا -

کھلونا، نئی دہلی[ترمیم]

  • اس کی اشاعت کا آغاز اپریل،1948ء میں ہوا۔ اس کو جو شہرت اور مقبولیت ملی وہ کسی اور رسالے کو نہیں نصیب ہوئی۔
  • اس کے بانی ادارہ شمع کے مالک یوسف دہلوی تھے۔ ان کے بعد یونس، ادریس اور الیاس دہلوی نے اس کی ادارت کی۔
  • اس رسالے کو جن مشاہیر قلم کاروں کا قلمی تعاون حاصل تھاان میں کرشن چندر، بلونت سنگھ، عادل رشید، سلام مچھلی شہری، مرزا ادیب ، عصمت چغتائی، رام لعل، خواجہ احمد عباس، واجدہ تبسم، اے آر خاتون، رضیہ سجاد ظہیر، جیلانی بانو، خدیجہ مستور اور شفیع الدین نیر جیسی شخصیات تھیں۔
  • کھلونا آٹھ سے 80 سال کے بچوں کے لیے شائع ہوتا تھا۔ اپنے جاذب نظرگیٹ اپ، السٹریشن اور دیدہ زیب طباعت کی وجہ سے اس رسالے نے بہت جلد مقبولیت اور شہرت کی بلندیاں طے کر لیں۔
  • اس رسالہ میں سراج انور کا خوفناک جزیرہ ، کالی دنیا، نیلی دنیا، ظفر پیامی کا ستاروں کے قیدی اور کرشن چندر کی چڑیوں کی الف لیلیٰ جیسی شاہکار تخلیقات شائع ہوئیں۔
  • کھلونا کا سالنامہ بچوں میں بہت مقبول تھا۔ جو معتبر ادیبوں کی نگارشات پر مشتمل ہوتا تھا۔
  • یہ رسالہ 1987ء میں بند ہو گیا۔

اُمنگ،نئی دہلی[ترمیم]

  • اس کی اشاعت کا آغاز دسمبر؍1987ء میں ہوا۔
  • یہ دہلی اردو اکیڈمی سے شائع ہونے والا رسالہ تھا۔
  • اس رسالہ کو رشید حسن خان، مظفر حنفی، سلام بن رزاق، اظہار اثر، راج نرائن راز، مظہر امام، سراج انور، رفعت سروش، مسعودہ حیات کا قلمی تعاون حاصل رہا ہے۔
  • امنگ‘‘ کے کئی خصوصی شمارے بہت مقبول ہوئے جن میں چاچا نہرو نمبر(نومبر؍1989) مستقبل کے قلم کارنمبر(فروری؍1989) قابل ذکر ہیں۔