بچوں کا نفسیاتی تجزیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بچوں کا نفسیاتی تجزیہ نفسیاتی تجزیہ کی ایک ذیلی شاخ ہے جس کی بنا اینا فرائڈ نے رکھی تھی۔ اینا اپنے والد سیگمنڈ فرائڈ کے ساتھ کچھ متبادل ترتیبات پر کام کرتی تھی جو بچوں کی ضروریات پر مرکوز تھے۔ اپنے آغاز سے لے کر اب تک بچوں کا نفسیاتی تجزیہ آگے بڑھ کر بچوں اور نوجوانوں کے علاج کے لیے ایک معروف تکنیک میں بدل چکی ہے۔

مشاہدہ اور عملی حکمت عملی[ترمیم]

بچوں کا نفسیاتی تجزیہ کسی بھی عام نفسیاتی تجزیہ کی طرح بنیادی طور پر مشاہدات پر مبنی ہے۔[1] ایک سلیم الدماغ بچہ یکایک گم گفتار یا ساکت و صامت کیوں ہوتا ہے؟ اس کے وجوہ کئی ہو سکتے ہیں۔ ان میں زد و کوب بھی ممکن ہے اور ارادی و غیر ارادی صدمہ بھی ممکن ہے۔ غیر ارادی صدمہ ان واقعات پر مشتمل ہوتا ہے، جن پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ ایک بچے کا باپ یا ماں فطری یا حادثاتی موت میں جان کھو دیتی ہے، اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ ارادی صدمہ وہ ہے جس میں کسی بچے کو ناگفتہ بہ صورت حال سے دانستہ طور پر سامنا ہو۔ سگی ماں کے یکایک گزر جانے کے بعد ممکن ہے کہہ ایک بچہ سوتیلی ماں کے یا تو ظلم و ستم سے گزرے یا وہ اس سرد جذباتی وابستگی سے شدید دماغی دھکا محسوس کرے، کیوں کہ سگی ماں جتنی گرم جوشی شاید سوتیلی ماں چاہ کر بھی نہ دے پائے۔ اس کے علاوہ بچے کئی اور باتوں سے بھی صدمہ محسوس کر سکتے ہیں۔ ماحولیاتی صدمہ بھی ممکن ہے۔ اگر ماں باپ نقل مقام کر کے کسی نئے شہر یا نئے ملک میں بس جائیں، تو بچوں کا رد عمل اس بات پر منحصر ہے کہ نو ملاقاتی کس قدر دوست یا ملنسار ہیں۔ سابقہ دوستوں اور رشتے داروں سے بچھڑنا بھی بچوں کے لیے کافی تکلیف دہ امر ہو سکتا ہے۔ بچوں کے غیر فطری رویے کے پس پردہ کسی ناگوار واقعے کا مشاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ مثلًا، ایک لڑکا ایک تکلیف دہ سڑک حادثہ دیکھتا ہے جس میں کوئی آدمی یا عورت کے تمام اعضا بکھر جاتے ہیں۔ یہ بھی ذہن میں بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔

اینا فرائڈ کے طریقہ علاج میں پہلی سیڑھی یہ بھی بچوں کا تفصیلی مشاہدہ کیا جاتا۔ اگر کوئی نشو و نما کا پہلو چھوٹتا ہے، مثلًا شخصی صفائی ستھرائی یا کھانے پینے کی عادتیں، تو معالجیں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی صدمہ پیش آیا ہے اور اس کے سیدھے علاج کے لیے وہ لوگ آگے آ سکتے ہیں۔>[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نفسیاتی تجزیے کے لیے بصارت ضروری ہے | Dunya Pakistan
  2. Boeree, C. G. (1998). Retrieved November 2011, from http://webspace.ship.edu/cgboer/annafreud.html
  3. Brinich, P. M. (n.d.). Child Psychoanalysis. Retrieved November 2011, from Paul M. Brinich, Ph.D.: http://bellsouthpwp2.net/p/m/pmbrinic/html/child_psychoanalysis.html