بڑے غلام علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بڑے غلام علی خان
Ustad Bade Ghulam Ali Khan.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 اپریل 1902[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قصور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 اپریل 1968 (66 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد منور علی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
فنی زندگی
صنف ہندوستانی کلاسیکی موسیقی،  بھارتی کلاسیکی موسیقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
آلات موسیقی صوت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آلۂ موسیقی (P1303) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ گلو کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ہندی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ 
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

بڑے غلام علی خان (2 اپریل 1902ء25 اپریل 1968ء) پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار تھے۔[4] اپنے کمال فن کے باعث آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

پس منظر[ترمیم]

بڑے غلام علی خان قصور میں پیدا ہوئے جو اُس وقت برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب کا حصہ تھا؛ اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ بنا۔ اُن کے والد، علی بخش خان، مغربی پنجاب کے ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھنے والے مشہور گلوکار تھے۔

پانچ سال کی عمر میں، خان صاحب نے اپنے چچا کالے خان سے سارنگی اور صداکاری سیکھنا شروع کی۔ کالے خان خود بھی معروف گلوکار اور موسیقار تھے۔ اُن کی وفات کے بعد، خان صاحب نے اپنے والد کی ترتیب دی گئی چند دھنوں پر طبع آزمائی کی۔[5] یہ عرصہ تقریباً تین سال پر محیط رہا۔ یہی وہ وقت تھا جب آپ نے موسیقی کے ساز قانون میں نکھار پیدا کرکے ایک ساز سوارمنڈل تشکیل دیا جو اُن کی پہچان بن گیا۔ قریب 21 سال کی عمر میں، وہ بنارس منتقل ہو گئے جہاں اُنھوں نے ہیرابائی نامی طوائف کے ساتھ سارنگی بجانا شروع کی اور عوام کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگے۔

گلوکاری[ترمیم]

اگرچہ خان صاحب نے خاتون گلوکارہ کے ہمراہ سارنگی بجانے سے ذریعۂ معاش کا آغاز کیا تھا، تاہم وہ اپنے مرحوم چچا کی چند دُھنیں بھی گایا کرتے تھے۔ وہ پٹیالا گھرانے ہی سے تعلق رکھنے والے استاد اختر حسین خان اور استاد عاشق علی خان کے شاگرد بھی تھے۔ کولکتہ میں اپنے پہلے ہی کنسرٹ کے بعد وہ گلوکار کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ خان صاحب نے چار بہترین ثقافتوں کی آمیزش سے ایک نیا انداز ترتیب دیا۔ ان چار ثقافتوں میں، اُن کے اپنے پٹیالا-قصور گھرانے کا انداز، دھروپد کا بہرام خانی عنصر،، جے پور کی گردش اور گوالیار کی آراستگی شامل تھی۔ خاں صاحب کی آواز بے حد متنوع، تین سرگموں پر مشتمل، بے ساختہ ادائیگی، مٹھاس، لچک دار اور ہر تال کو بآسانی نبھانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

1947ء میں تقسیم ہند کے بعد، خان صاحب پاکستان میں اپنے گھر گئے، لیکن بعد ازاں ہمیشہ کے لیے بھارت لوٹ آئے۔ اُنہوں نے تقسیم کو تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ "اگر ہر گھر سے ایک بچے کو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سکھائی جاتی تو یہ ملک کبھی تقسیم نہ ہوا ہوتا"۔ 1957 میں، بمبئی کے وزیرِ اعلیٰ مورار جی دیسائی کی مدد سے، اُنھوں نے ہندوستانی شہریت حاصل کرلی اور مالابار ہل پر حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بنگلے میں منتقل ہو گئے۔ اُنھوں نے کئی بار لاہور، ممبئی، کلکتہ اور حیدرآباد میں بھی رہائش اختیار کی۔

فلم پروڈیوسروں اور موسیقاروں کی جانب سے بے حد اصرار اور درخواستوں کے باوجود آپ نے ایک طویل عرصے تک فلمی گیتوں سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ البتہ، کے آصف کی خوشامد اور منانے پر آپ نے 1960 میں فلم مغل اعظم کے لیے دو گیت گائے جو راگ سوہنی اور راگ رنگیشری پر مبنی تھے۔ اس فلم کے موسیقار نوشاد تھے۔ تاہم خان صاحب نے یہ فلمی گیت گانے کا بھاری معاوضہ لیا اور جب اُس وقت کے معروف فلمی گلوکاروں، جیسے لتا منگیشکر اور محمد رفیع، کو ایک گیت کے پانچ سو روپے سے بھی کم ملا کرتے تھے، کہا یہ جاتا ہے کہ بڑے خان صاحب نے ایک گیت کے ڈھائی ہزار روپے لیے تھے۔[6]

استاد بڑے غلام علی خان کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ اور 1962 میں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔

آخری ایام میں طویل عرصے کی علالت نے اُنہیں جزوی طور پر مفلوج کر دیا تھا۔ 1968 میں بشیر باغ پیلس، حیدرآباد میں خان صاحب انتقال کر گئے۔ اپنی وفات سے قبل تک، وہ اپنے بیٹے منور علی خان کی مدد سے عوامی تقاریب میں فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14603861w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6qs4wcg — بنام: Bade Ghulam Ali Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14603861w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. لکشمی سری رام (12 نومبر 2007)۔ "A different experience" (انگریزی زبان میں)۔ دی ہندو۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)
  5. "Tribute to a Maestro – Bade Ghulam Ali Khan" (انگریزی زبان میں)۔ آئی ٹی سی سنگیت ریسرچ اکیڈمی۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)
  6. یوگیش پاور (14 اگست 2011)۔ "Classical music and films: From 'raags' to chartbusters" (انگریزی زبان میں)۔ ڈی این اے انڈیا ڈاٹ کام۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)