بکار بن قتیبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بکار بن قتیبہ یا قاضی بکار (پیدائش: 798ء— وفات: 25 جون 884ء) فقہ حنفی کے متبحر عالم، قاضی، محدث اور مصر کے قاضی القضاۃ تھے۔

بکار بن قتیبہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 798  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جون 884 (85–86 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ،  مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ قاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

سوانح[ترمیم]

نام و نسب[ترمیم]

قاضی بکار کا نام بکار بن قتیبہ ہے جبکہ نسب یوں ہے:  بکار بن قتیبہ بن عبیداللہ بن بشیر بن عبیداللہ بن ابی بکرۃ الثقفی البکراوی۔  ابن حبان کے مطابق قاضی بکار ایک ثِقہ عالم اور محدث تھے اور ابوبکرہ کی کنیت سے مشہور تھے۔[1]

پیدائش[ترمیم]

قاضی بکار کی پیدائش 182ھ مطابق 798ء میں بصرہ میں ہوئی۔[2]

تحصیل علم[ترمیم]

قاضی بکار نے فقہ کی تحصیل ہلال بن یحییٰ الرائی اور عیسیٰ بن ابان سے کی جبکہ علم حدیث امام ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارون، صفوان بن عیسیٰ، عبدالصمد بن عبدالوارث اور مؤمل بن اسماعیل العدوی اور امام الحافظ عبد الصمد بن عبد الوارث التنوری سے حاصل کیا۔ بصرہ میں کثیر محدثین عظام سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔[3]

تلامذہ[ترمیم]

قاضی بکار سے روایت کرنے والوں میں امام ابوعوانہ اسفرائینی، امام ابن خزیمہ، عبداللہ بن عتاب الرفتی، یحییٰ بن صاعد، ابن جوہا، امام ابو جعفر طحاوی اور کثیر محدثین عظام شامل ہیں۔[4]

بغداد میں قیام اور سیاسی حالات[ترمیم]

قاضی بکار کے زمانے میں بغداد جو خلافت عباسیہ کے زوال و بحران سے گزر رہا تھا، آئے روز خلفائے عباسیہ کے عزل و نصب کے معاملے طے ہوتے تھے۔ ایک بار جب یہی عمل دہرایا گیا تو اِن حالات میں حکومت وقت نے بطور قاضی کے اِن سے معزول ہونے والے خلیفہ پر لعن طعن کرنے کو کہا تو اُنہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اِس انکار پر اِنہیں بیشتر آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ ابن خلکان کا بیان ہے کہ بلاد الشام کے والی احمد بن طولون جو بکار بن قتیبہ کو اُن کی مقررہ تنخواہ کے علاوہ ایک ہزار دینار بطور ہدیہ بھیجا کرتا تھا، مگر وہ اِس رقم کو استعمال کیے بغیر رکھ دیتے۔ جب قاضی بکار سے احمد بن طولون نے موفق پر خطبہ جمعہ میں لعنت کرنے کو کہا اور قاضی نے انکار کر دیا تو احمد بن طولون نے عطا کردہ مال کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے دیناروں سے بھری ہوئی اٹھارہ تھیلیاں ویسے ہی مہرشدہ واپس لوٹا دیں، جس پر احمد بن طولون بہت شرمندہ ہوا۔[5] احمد بن طولون نے قاضی بکار سے منصب قضا واپس لے لیا اور اِنہیں قید کر دیا۔ پھر جب مناظرہ ہوتا تو قاضی بکار مناظرہ کے لیے مجلس میں آ جاتے اور جب مجلس مناظرہ ختم ہوجاتی تو دوبارہ جیل خانہ واپس بھیج دیے جاتے۔ جب قاضی بکار کی سزائے قید طویل ہو گئی تو عوام سے بہت سے لوگوں نے احمد بن طولون سے درخواست کی کہ اُنہیں قاضی بکار سے سماعت حدیث کی اجازت دے دی جائے تو اُس نے اجازت دے دی۔ اِس کے بعد قاضی بکار قیدخانے کی کھڑکی سے اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان کیا کرتے تھے۔ عمر کے آخری دور میں اکثر لوگوں نے اِسی کیفیت میں آپ سے حدیث کا سماع کیا ۔[6] احمد بن طولون نے قاضی بکار کو جیل خانہ سے کرائے کے ایک مکان پر منتقل کرنے کا حکم دیا جہاں وہ کافی عرصہ مقیم رہے۔ جب 10 مئی 884ء کو احمد بن طولون کا انتقال ہو گیا تو قاضی بکار سے کہا گیا کہ: امیر تو فوت ہو گیا اور اب آپ اپنے گھر تشریف لے جائیں مگر اُنہوں نے جواب دیا کہ: کرائے کا گھر ہی اُن کے لیے بہتر ہے۔ قاضی بکار کا انتقال اسی کرائے کے گھر میں ہوا۔[7]

وفات[ترمیم]

قاضی بکار کا انتقال بروز جمعرات 24 ذوالحجہ 270ھ مطابق 25 جون 884ء کو ہوا۔نمازِ جنازہ میں عید کی نماز سے زیادہ ہجوم تھا۔ نمازِ جنازہ قاضی بکار کے بھتیجے محمد بن الحسن بن قتیبہ الثقفی نے پڑھائی۔[8]

تصانیف[ترمیم]

قاضی بکار بیشتر کتب کے مصنف بھی تھے جن میں اُن کی علم فقہ پر کتاب ’’وثائق العہود‘‘ مشہور ہے۔[9]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن حبان: کتاب الثقات، جلد 8، صفحہ 152۔
  2. شمس الدین الذہبی: سیراعلام النبلاء، جلد 12، صفحہ 599۔
  3. ابن حجر عسقلانی: رفع الاصر عن قضاۃ مصر، جلد 1، صفحہ 140۔
  4. شمس الدین الذہبی: سیراعلام النبلاء، جلد 12، صفحہ 591۔
  5. شمس الدین الذہبی: سیراعلام النبلاء، جلد 12، صفحہ 603۔
  6. ابن حجر عسقلانی: رفع الاصر عن قضاۃ مصر، جلد 1، صفحہ 154۔
  7. ابن حجر عسقلانی: رفع الاصر عن قضاۃ مصر، جلد 1، صفحہ 254۔
  8. شمس الدین الذہبی: سیراعلام النبلاء، جلد 12، صفحہ 604۔
  9. خیرالدین الزرکلی: الاعلام الزرکلی، جلد 2، صفحہ 60۔