بکرما جیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مہاراجا بکرما جیت بادشاہ
بکرما جیت بھون

مہاراجا بکرما جیت راجا بکرم اجیت یا راجا وکرم جیت (विक्रमादित्य) (Vikramaditya)قبل مسیح 102 سے 15 عیسوی تک) اوجین، بھارت کا بادشاہ تھا۔

وجہ شہرت[ترمیم]

بکرما جیت نے ہندی کیلنڈر کا اجرا کیا تھا جسےبکرمی تقویم کہا جاتا ہے جس کا پہلا مہینہ چیت اور آخری مہینہ پھاگن ہوتا ہے۔وہ اپنے علم، بہادری اور سخاوت کے لیے مشہور تھا۔ اس کی نسبت سے ہندوستانی تاریخ میں بعد کے دوسرے بہت سے بادشاہوں نے وکرمادتی کا لقب اختیار کیا۔

والد کا نام[ترمیم]

تاریخ کشتواڑ میں بکرما جیت کے والد کانام گندھرب سین دیا ہوا ہے۔ بادشاہ بکرما اجیت کی اولاد کے لوگ کاہلوں کہلاتے ہیں۔ راجا وکرم جیت کا زمانہ پہلی صدی قبل مسیح کا ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ کہ وہ وکرم جیت ہی تھا جس نے سنہ اٹھاون قبل مسیح میں سقوں کی ایک بڑی فوج کو شکست دی تھی حوالہ

ایک لقب[ترمیم]

بکرما جیت ایک لقب ہے جو تاریخ قدیم کے نامور حکمرانوں نے اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے اختیار کیاتھا۔ گپت خاندان میں چندر گپت بکرما جیت کے علاوہ اس کا پوتا پوروگپتا 73۔467 ؁ء بھی اپنے آپ کو وکرم دت کہلاتاتھا او رایسا اس کے عہد کے سکوں سے ظاہر ہے۔ مؤرخین نے حکمران کااصلی نام بیان نہیں کیا ہے بلکہ اس کا لقب بکرما جیت یا بکرم دت لکھاہے۔ اور آنے والے مورخوں نے بھی اصل نام دریافت کرنے کی بجائے لقب ہی لکھنے پر اکتفا کیاہے۔ بکرما جیت وہی ہے جس کے بیٹے شلادتیہ پرتاپ شیل 600۔550 ؁ء کو سری نگر شہر کے بانی راجا پرورسین نے اجین جاکر شکست دی تھی۔

بکرمی سنہ[ترمیم]

بکرما جیت سن بکرمی کا آغاز اپنی پیدائش سے کیا جس کو سمبت کہا جاتا ہے جس میں عیسوی سن سے 57 سالوں کی زیادتی پائی جاتی ہے۔ عام طور پر چندر گپت بکرما جیت جس کا عہد حکومت 414۔375 ؁ء ہے اور جو گپتا خاندان کا نامور حکمران ہوا ہے وہ چند گپت کہاجاتا ہے جس کے نورتن مشہور ہیں۔[1]

دار الحکومت[ترمیم]

اجین جسے مذہبی شہر کہا جاتا ہے’’مہا راجا بکرماجیت‘‘ کی وجہ سے بھی اس شہر کو تاریخی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ راجا بکرماجیت نے اس شہر کو اپنا دار السلطنت قرار دیا تھا۔ راجا بکرماجیت کا عہد حکومت تاریخ میں متفقہ طور پر انتہائی اہم اور مبارک مانا جاتا ہے، ، حکومت نے راجا بکرما جیت کی یادوں کو زندہ رکھنے ایک مجسمہ تعمیر کرکے چاروں طرف سے مورتیوں کو رکھ دیا گیاہے، یہ مجسمہ تالاب کے کنارے ایک میدان میں بنایا گیا ہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہیں پر بکرماجیت کا محل واقع تھا، [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ کشتواڑ، عشرتؔ کاشمری، اجیت نیوز ایجنسی کشتواڑ۔
  2. http://millattimes.com/10003.php[مردہ ربط]