بھائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھائی

ایک ہی ماں اور / یا باپ کی مذکر اولاد دیگر اولادوں کا بھائی کہلاتی ہے۔ مختلف اولادیں آپس میں بہن بھائی کہلاتی ہیں۔ بہن مؤنث کو جبکہ بھائی مذکر کو کہا جاتا ہے۔ بھائی کو برادر بھی کہا جاتا ہے۔ بھائی اکثر حقیقی ہوتا ہے یعنی ایک ہی ماں اور/ یا باپ سے پیدا ہونے والا بھائی اور کبھی صرف رضاعی بھائی ہوتا ہے۔ یعنی دونوں بچوں نے اپنی اپنی پیدائش کے بعد کے ابتدائی دو سال میں ایک ہی عورت کا کچھ مقدار میں دودھ پیا ہوتا ہے۔

اسلام میں بھائی[ترمیم]

اسلام میں خونی رشتہ سے بڑھ کر بھائی کے مفہوم کو وسعت دی گئی ہے حضرت علی فرماتے ہیں: (رب اخ لم تلدہ امک) [1]یعنی کچھ بھائی ایسے ہوتے ہیں جو ماں جائے نہیں ہوتے۔ کچھ دینی بھائی ایسے ہوتے ہیں جو اگر چہ ماں جائے نہیں ہوتے لیکن ان کا رویہ اور سلوک حقیقی بھائیوں جیسا ہوتاہے۔ جس طرح ایک حقیقی بھائی دوسرے بھائی کے لیے قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہوتاہے۔ معاشرے میں ایسے بھائی بھی انسان کو مل جاتے ہیں جن کاانسان کے ساتھ سلوک حقیقی بھائیوں کو بھلا دیتاہے۔ ایک حدیث میں ہے: (المؤمن أخو المؤمن كالجسد الواحد، إن اشتكى شيئا منه وجد ألم ذلك في سائر جسده، وأرواحهما من روح واحدة.) یعنی: مومن مومن کا بھائی ہے، دونوں ایک جسد واحد کی مانند ہیں، اگر بدن کے کسی ایک حصے کو کوئی شکایت ہو تو پورا بدن اس درد سے متاثر ہوتاہے دونوں کی روح ایک روح سے ہے۔[2] ایک اور حدیث میں ہے (مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد إذا اشتكى شيئا تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى) یعنی مومنین محبت ومودت اور لطف ورحمت ایک جسم کی مانند ہیں جب جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم ایک حصے کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف میں ہوتا ہے اور پورا رات انسان جاگتا رہتا ہے۔[3] احادیث وروایات میں دوست کو بھائی لے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ المومن اخو المومن یعنی مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ اور اسلام کے مطابق تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں یوں تمام مرد و عورت آپس میں بہن بھائی کے رشتہ میں منسلک ہیں۔

اسلام میں بھائیوں کے حقوق وفرائض[ترمیم]

1۔ ۔خیانت نہ کرنا 2۔ ظلم نہ کرنا 3۔ ملاوٹ اور دھوکا نہ دینا 4۔ وعدہ خلافی نہ کرنا 5۔ غیبت نہ کرنا 6۔ نصیحت کرنا 7۔ احترام کرنا 8۔ دوسرے بھائی سے کیے معاہدے کی پاسداری کرنا


  1. کتاب: غرر الحکم، مولف: آمدی حدیث نمبر 5351 اور طبقات ابن سعد ج6 ص335، اس کتاب میں اس حدیث کی نسبت حسن بصری کی طرف دی گئی ہے۔
  2. کتاب: اصول کافی، مولف: محمد بن یعقوب کلینی، ج2، ص166، باب: اخوۃ المومنین بعضھم لبعض، حدیث نمبر4۔
  3. صحیح مسلم 22-2586 کتاب البر والصلۃ 17 باب تراحم المومنین