بھائی بال مکند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھائی بال مکند
(ہندی میں: भाई बालमुकुन्द ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1889  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جہلم،  برطانوی پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 مئی 1915 (25–26 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انبالہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پھانسی  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک آزادی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بھائی بال مکند (انگریزی: Bhai Balmukund، ہندی= भाई बालमुकुन्द)، پیدائش: 1889ء - وفات: 11 مئی، 1915ء) ہندوستان کے نامور انقلابی سیاست دان اور تحریک آزادی ہند کے مجاہد تھے۔ دہلی کو دار الحکومت بنانے کی رسمِ افتتاح کے دوران وائسرائے ہند چارلس ہارڈنگ پر بم پھینکنے اور قتل کی سازش کے الزام میں ان پر دہلی سازش کیس چلایا گیا جس میں برطانوی حکومت ہند کی جانب سے انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔ وہ غدر پارٹی کے بانی رکن بھائی پرمانندکے کزن تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

بھائی بال مکند 1889ء میں موضع کھریالہ، ضلع جہلم، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) (حالیہ پاکستان) میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آرٹس کے مضمون میں گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ برطانوی حکومت کے خلاف وطن پرستانہ سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ انقلابی پارٹی کے با قاعدہ رکن تھے۔ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی ترغیب دینے والی تصانیف مرتب اور تقسیم کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آتشنین اسلحہ کے استعمال اور بم پھینکنے کی تربیت بھی حاصل کی۔ 23 دسمبر 1912ء میں لارڈ چارلس ہارڈنگ وائسرائے و گورنر جنرل ہند پر جب کہ وہ دہلی کو دار الحکومت بنانے کی رسمِ افتتاح کے موقع پر سرکاری جلوس میں چاندنی چوک بازار دہلی سے گزر رہے تھے، بم پھینکا گیا۔ بم پھینکنے اور قتل کی اس سازش کے الزام میں بال مکند کو فروری 1914ء میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر 17 مئی 1913ء کو لاہور کے لارنس گارڈن میں بم پھینکنے کی سازش کا بھی الزام لگایا گیا۔ دہلی سازش کیس کے نام سے ان پر مقدمہ چلایا گیا اور 5 اکتوبر 1914ء کو انہیں دیگر ساتھیوں ماسٹر امیر چند، اودھ بہاری اور بسنت کمار بسواس کے ہمراہ سزائے موت کی سزا سنائی گئی۔ 11 مئی 1915ء کو انبالہ سینٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر شہید ہو گئے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 50