بھارتی قانون شہریت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قانون شہریت 1955ء
Emblem of India.svg
بھارتی شہریت کے حصول و تعین سے متعلق مجموعہ قوانین
سمن ایکٹ نمبر 57، 1955ء
نفاذ بذریعہ بھارتی پارلیمان
تاریخ رضامندی 30 دسمبر 1955ء
ترمیم(ات)
قانون شہریت (ترمیم)، 1986، قانون شہریت (ترمیم)، 1992، قانون شہریت (ترمیم)، 2003 اور قانون شہریت (ترمیم)، 2005
خلاصہ
آئین ہند کے ساتھ ساتھ قانون شہریت 1955ء بھی بھارتی شہریت سے متعلق ضابطہ قوانین کا جامع اور مکمل مجموعہ ہے۔

کسی انسان کے بھارتی شہری ہونے کا تعین آئین ہند کی دفعات 5 تا 11 (حصہ دوم) کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ قانون شہریت کے ایکٹ 1955ء سے متعلق ہے جس میں 1986ء، 1992ء، 2003ء، 2005ء اور 2015ء میں ترامیم کی گئی ہیں۔

آئین ہند کی دفعہ 9 کے تحت اپنی رضا مندی سے کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے والا شخص بھارتی شہری شمار نہیں ہوگا۔ پاسپورٹ ایکٹ کے تحت کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے بعد اپنی بھارتی شناختی دستاویزات کو استعمال نہیں کر سکتا اور اسے ہر صورت اپنا بھارتی پاس پورٹ، ووٹر کارڈ اور شناختی کارڈ واپس کرنے ہوں گے۔ پاس پورٹ واپس نہ کرنا قابلِ تعزیر جرم ہے۔

بھارتی قانونِ شہریت خونی رشتے کے مطابق چلتا ہے نہ کہ بھارت میں پیدائش کی وجہ سے۔[1] صدر بھارت کو بھارت کا اول شہری مانا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

حکومت ہندوستان ایکٹ 1858 کے تحت ہندوستان میں برطانوی راج قائم کیا گیا اور ہندوستان کی اکثریت کو سلطنت برطانیہ کا حصہ بنایا گیا۔ مذکورہ بالا ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے قانون آزادی ہند 1947ء تک ہندوستانی باشندے ذیل میں سے کسی ایک درجہ بندی میں شمار ہوتے تھے:

  • ہندوستانی شہری اور برطانوی ہندوستان میں پیدا ہونے والے شہری کو براہ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت شمار کیا گیا اور وہ انہیں برطانوی رعیت مانا گیا۔ یکم جنوری 1915ء سے برطانیہ کے شہریت اور غیرملکیوں کے 1914ء کے ایکٹ کے تحت برطانوی رعیت میں وہ افراد شمار ہوتے تھے جو یا تو برطانوی خود مختار ڈومینن میں پیدا ہوئے ہوں (بشمول برطانوی ہندوستان)، ایسی خواتین جو متذکرہ بالا مردوں سے شادی کر چکی ہوں اور وہ بچے جو برطانوی رعیت والے باپ کی جائز اولاد ہوں، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں آباد ہوں۔[2]
  • ہندوستانی نزاد باشندہ جو جو برطانوی راج کے تحت کسی ہندوستانی نوابی ریاست میں پیدا ہوئے ہوں یا کسی اور برطانوی پروٹیکٹوریٹ یا زیر حمایت ریاست میں پیدا ہوئے کو برطانوی محفوظ شہری شمار کیا جاتا تھا۔ ان علاقوں کے مردوں کی قانونی بیوی اور جائز اولاد کو بھی یہی درجہ ملتا تھا۔[3] ایسے افراد از روئے قانون غیر ملکی شمار ہوتے تھے مگر ان کو برطانوی پاس پورٹ پر سفر کرنے کی اجازت تھی۔

15 اگست 1947ء میں ہندوستان ڈومنین بھارت بنا۔ دیگر برطانوی ڈومینن کے شہریوں کی مانند بھارتی شہری جو بھارتی صوبوں میں پیدا ہوئے یا اس میں مستقل بس گئے ہوں اور برطانوی یا کسی اور ملک کے شہری نہ بن گئے ہوں، بھارتی آئینِ آزادی کی شق 18 (3) کے تحت برطانوی رعیت شمار ہوتے تھے۔ نوابی ریاستوں کا شہری ہونے کی صورت میں یہ حکم تھا کہ اگست 1947ء میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد ہر نوابی ریاست کو ڈومنین بھارت یا ڈومنین پاکستان کا حصہ بننا ہوگا۔ ہر ریاست کے سربراہ کو اس معاہدے پر دستخط کرنے ہوں گے کہ وہ کس ڈومینن کا حصہ بننا چاہتے ہیں مگر معاہدے کے باوجود نوابوں کو اپنی ریاستوں پر مکمل قانونی اختیار رہے گا۔ 15 اگست 1947ء کو نوابی ریاستوں کو برطانوی رعیت کی حیثیت ختم ہو گئی اور ڈومینن بھارت میں شامل نہ ہونے والی ریاستوں کے تمام باشندوں کو حاصل برطانوی تحفظ ہٹ گیا۔[4] جب کسی ریاست نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے اور جب تک وہ بھارت کا حصہ نہ بنی، تب تک اس کے باشندوں کو برطانوی رعیت شمار کیا جاتا رہا۔ تاہم اس عبوری دور میں ایسی ریاست کے سربراہ کو مکمل اختیارات حاصل رہے۔[5][6]

یکم جنوری 1949ء میں جب برطانوی قومیت کا ایکٹ برائے 1948ء پر عمل شروع ہوا تو تب سے 25 جنوری 1950ء تک بھارتی شہری بھارتی صوبوں میں رہنے والی برطانوی رعیت شمار ہوتے تھے۔ 26 نومبر 1949ء سے برطانوی ریاستوں میں رہائش پذیر افراد کو بھارتی شہریت دے دی گئی۔ 26 جنوری 1950ء کو آئین ہند کا اعلان ہوا جس کے تحت بھارت کو جمہوری قرار دیا گیا، زیادہ شہری برطانوی رعیت نہ رہے بلکہ انہیں دولتِ مشترکہ کا شہری بنا دیا گیا (اس طرح وہ دولتِ مشترکہ میں برطانوی رعیت تو رہے مگر برطانوی پاس پورٹ نہیں لے سکتے تھے)، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھارتی شہری تھے اور بھارت دولتِ مشترکہ کا رکن ملک تھا۔ تاہم بہت سے لوگ جو نوابی ریاست میں پیدا ہوئے تھے، نے بھارتی شہریت کی بجائے برطانوی رعیت کی حیثیت برقرار رکھی مگر ان کو برطانوی پاس پورٹ کا حق نہ تھا۔ 1955ء میں آئین ہند میں ترمیم کے بعد تمام افراد چاہے وہ نوابی ریاست میں پیدا ہوئے ہوں یا باہر، بھارتی شہری بن گئے۔

20 دسمبر 1961ء کو فوجی کارروائی کے بعد بھارت نے گوا، دمن اور دیو اور دادرا اور نگر حویلی پر قبضہ کر لیا جو کہ پہلے پرتگال کے زیرِ انتظام تھیں۔ فرانسیسی زیرِ انتظام پونڈیچری، کریکل، ماہی، ینم اور چندرانگر کا فری ٹاؤن فرانس کے ساتھ معاہدے کے بعد بھارت کا حصہ بن گئے۔ 16 مئی 1976ء کو سکم بھارت کا حصہ بنا۔ بھارت کے مشرقی جانب کچھ حصے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدوں کے تحت بھارت کا حصہ بنے۔[7]

مندرجہ بالا ریاستوں کے باسیوں کو بھارتی شہریت دینے کے لیے مرکزی حکومت نے گوا، دامن اور دیو حکم 1962ء میں جاری کیا۔ دادرا اور ناگر حویلی کے لیے شہریت کا حکم 1962ء اور پونڈیچری کو 1962ء میں ہی جاری کیا گیا۔ پھر شہریت کے حقوق کے ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سِکم کو بھی شامل کر لیا۔ جن علاقوں کے لیے علیحدہ سے قانون سازی درکار نہیں تھی، انہیں ایک معاہدہ کر کے ساتھ ملا لیا گیا۔[8]

شہریت دینا[ترمیم]

بھارت کے آئین کے نفاذ پر شہریت[ترمیم]

26 نومبر 1949ء کو بھارت کے اندر رہنے والے ہر شہری کو بھارتی شہری تسلیم کر لیا گیا اور اس آئین کے زیادہ تر حصے 26 جنوری 1950ء کو نافذ ہو گئے۔ آئین ہند کے مطابق پاکستانی علاقے کے لوگوں کو بھی بھارتی شہریت دینے کی گنجائش چھوڑی گئی کہ یہ علاقے تقسیم سے قبل ہندوستان کا حصہ تھے۔

پیدائش پر شہریت[ترمیم]

26 جنوری 1950ء کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے شہری جو یکم جولائی 1987ء سے قبل پیدا ہوئے ہوں، پیدائشی بھارتی شہری ہیں۔ یکم جولائی 1987ء کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے ایسے تمام افراد کہ جن کے والدین میں سے کوئی ایک پیدائش کے وقت بھارتی شہری ہو تو انہیں بھی بھارتی شہری شمار کیا جائے گا۔ 3 دسمبر 2004ء یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو اس صورت میں بھارتی شہری مانا جائے گا کہ جب اس کی پیدائش کے وقت اس کے والدین میں سے ایک بھارتی شہری ہو اور دوسرا غیر قانونی تارکِ وطن نہ ہو۔ ستمبر 2013ء میں بمبئی کی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ والدین کے غیر بھارتی ہونے کی صورت میں کسی فرد کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاس پورٹ اور آدھار کارڈ بھی اکیلا اس کی شہریت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں۔

نسل کی بنیاد پر شہریت[ترمیم]

26 جنوری 1950ء کو یا اس کے بعد مگر 10 دسمبر 1992ء سے قبل کسی دوسرے ملک میں پیدا ہونے والے ایسے افراد کہ جن کی پیدائش کے وقت ان کا والد بھارتی شہری ہو، کو بھارتی شہری مانا جائے گا۔

ایسے افراد جو 10 دسمبر 1992ء کو یا اس کے بعد پیدا ہوئے ہوں اور اس کی پیدائش کے وقت اس کے والدین میں سے کوئی ایک بھارتی شہری ہو تو اسے بھی پیدائش کے وقت سے بھارتی شہری مانا جائے گا۔

3 دسمبر 2004ء کے بعد سے بھارت سے باہر پیدا ہونے والے افراد کو اس وقت تک بھارتی شہری نہیں مانا جائے گا جب تک کہ پیدائش کے ایک سال کے اندر اندر ان کی پیدائش کا اندراج قریب ترین بھارتی سفارت خانے میں نہ کرایا گیا ہو۔ ایک سال سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد مرکزی حکومت ہی اس اندراج کی اجازت دے سکتی ہے۔ پیدائش کی تحریری اطلاع بھارتی سفارت خانے میں دیتے وقت والد یا والدہ کو یہ بھی تحریری طور پر بتانا پڑتا ہے کہ ان کے پاس کسی دوسرے ملک کا پاس پورٹ نہیں ہے۔[9]

رجسٹریشن پر شہریت[ترمیم]

مرکزی حکومت چاہے تو کسی بھی فرد کی درخواست پر شہریت کے ایکٹ 1955ء کی دفعہ 5 کے تحت اسے بھارتی شہریت دے سکتی ہے (اگر وہ غیر قانونی تارکِ وطن نہ ہو) اور مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک درجے سے تعلق ہو:

  • بھارتی قوم کا کوئی شخص جو بھارت میں سات سال سے عام شہری کے طور پر رہ رہا ہو تو سیکشن 5 کی ذیلی دفعات 1 او راے کے تحت شہریت کے حصول کی درخواست دے سکتا ہے (درخواست سے قبل بارہ ماہ تک بھارت میں ہی رہا ہو اور درخواست دینے کے بارہ ماہ بعد تک اس کا بھارت میں کل قیام چھ سال کا رہا ہو)
  • متحدہ ہندوستان کا شہری جو کسی دوسرے ملک میں رہائش پذیر ہو
  • بھارتی شہری سے شادی کرنے والے افراد جو درخواست دینے سے قبل سات سال تک بھارت میں رہائش پذیر ہو
  • بھارتی شہریوں کے اٹھارہ سال سے کم عمر بچے
  • بالغ اور عاقل فرد جس کے والدین بھارتی شہری کے طور پر رجسٹر ہوں
  • ایسا بالغ اور عاقل فرد جو خود یا جس کے والدین آزاد بھارت کے شہری ہوں اور درخواست دینے سے قبل ایک سال تک بھارت میں رہ رہے ہوں
  • ایسا بالغ اور عاقل فرد جو پانچ سال سے بیرونِ ملک بھارتی شہری کے طور پر رجسٹر ہو اور درخواست دینے سے ایک سال پہلے سے بھارت میں رہائش پذیر ہو

نیچرلائزیشن کی بنیاد پر شہریت[ترمیم]

ایسے غیر ملکی جو بھارت میں 12 سال سے رہائش پذیر ہوں (درخواست دینے سے بارہ ماہ قبل تک ایک سال مسلسل بھارت میں رہے ہوں یا درخواست دینے کے بعد 14 میں سے 11 سال بھارت میں رہے ہوں) اور شہریت کے ایکٹ 1955ء کی دفعہ چھ 1 کے تحت دیگر شرائط پوری کرتے ہوں۔

شہریت میں ترمیم کا بل، 2016ء[ترمیم]

19 جولائی 2016 کو لوک سبھا میں شہریت کے ایکٹ 1955ء میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔ اگر یہ بل بھارتی پارلیمان سے منظور ہو گیا تو سکھ، بدھ مت، جین مت، پارسی یا مسیحی جو افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آئے ہوں، کو بھی بھارتی شہریت مل سکے گی [10] مگر ان ممالک سے آنے والے مسلمان اس سے محروم رہیں گے۔[11] اس بل میں 11 سال قیام کی مدت کو کم کر کے 6 سال کیا جائے گا۔

بھارتی شہریت کو چھوڑنا یا واپس لیا جانا[ترمیم]

شہریت کے 1955ء کے ایکٹ کی دفعہ 8 میں شہریت کو چھوڑنے کے بارے بتایا گیا ہے۔ اگر کوئی بالغ بھارتی شہریت کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لے تو بھارتی شہریت ختم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کے نابالغ بچے بھی اسی تاریخ سے شہریت سے محروم ہو جائیں گے۔ جب بچہ 18 سال کی عمر کو پہنچے تو اس کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنی بھارتی شہریت کو واپس لے سکے۔ تاہم بھارتی شہریت کو چھوڑنے کے لیے لازمی ہے کہ اعلان کرتے وقت متعلقہ فرد بالغ اور عاقل ہو۔

بھارتی شہریت ختم ہونے کے بارے 1955ء کی شہریت کے حق کی دفعہ 9 میں بتایا گیا ہے۔ تاہم اس کی شرائط بھارتی شہریت چھوڑنے کی شرائط سے فرق ہیں۔ دفعہ 9 (1) کے تحت کوئی بھی شہری جو نیچرلائزیشن کے تحت کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرے تو اس کی بھارتی شہریت ختم ہو جائے گی۔ شہریت ختم کرنے کا عمل شہریت چھوڑنے سے اس لیے مختلف ہے کہ اس میں متعلقہ شہری کا بالغ ہونا لازم ہے۔ یعنی اٹھارہ سال سے کم عمر بچے جن کی پیدائشی شہریت بھارت کی ہو مگر وہ کسی اور ملک کی شہریت اختیار کر لیں تو ان کی بھارتی شہریت خودبخود ختم ہو جائے گی چاہے ان کی دوسرے ملک کی شہریت ان کے والدین کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔

1956ء کی شہریت کے قوانین کے مطابق کسی دوسرے ملک کے پاس پورٹ کے حصول کو بھی اس ملک کی شہریت اختیار کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔قانون شہریت کے قوانین میں قانون نمبر تین کی دفعہ 3 کے تحت واضح بتایا گیا ہے کہ ‘جب بھی کوئی بھارتی شہری کبھی بھی کسی دوسری حکومت سے پاس پورٹ کو قبول کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ پاس پورٹ کے حصول سے قبل اس فرد نے متعلقہ ملکی شہریت اختیار کر لی ہے‘۔ یہ اصول ان بچوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن کے والدین نے متعلقہ ملکی قوانین کے تحت اپنے بچے کے لیے اُس ملک کا پاس پورٹ حاصل کیا ہو تاکہ متعلقہ ملک کے قوانین کی پاسداری کی جا سکے (جیسا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے خودبخود امریکی شہری شمار ہوتے ہیں اور انہیں امریکہ چھوڑنے اور اس میں داخل ہونے کے لیے امریکی پاس پورٹ درکار ہوتا ہے)۔اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ متعلقہ فرد بھارتی پاس پورٹ اپنے رکھے۔ یہ اصول پیدائش کے تحت ملنے والی شہریت اور بعد میں اپنی مرضی سے اختیار کی جانے والی شہریت میں فرق نہیں روا رکھتا۔ جس تاریخ کو دوسرے ملک کی شہریت لی جائے، اس تاریخ سے بھارتی شہریت منسوخ شمار ہوگی۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں بھارتی سفارتی کاروں کا یہ معمول ہے کہ برطانوی پاس پورٹ حاصل کرنے والے بھارتی شہریوں کے پاس پورٹ کو ضبط کر کے وہ بھارتی حکام کو بھیج دیتے ہیں۔[12]

گوا، دمان اور دیو کے شہریوں کے لیے خصوصی قوانین ہیں۔ شہریت کے 1956ء کے قانون کی دفعہ 3 الف کی ذیلی دفعہ 3 کے تحت واضح درج ہے کہ 'گوا، دمان اور دیو کے شہری 1962ء کے شہریت کے قانون کے مطابق یا دادرا اور نگر حویلی کے قانون 1962ء جو کہ 1955ء کے شہریت کے قانون کی دفعہ 7 کے تحت 19 جنوری 1963ء تک اپنے غیر ملکی پاس پورٹ کو واپس نہ کریں تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ افراد اپنی مرضی سے دوسرے ملک کے شہری بن گئے ہیں‘۔

16 فروری 1962ء کو بھارتی عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ نے اظہار احمد خان بمقابلہ یونین آف انڈیا کے حوالے سے فیصلہ دیا کہ ‘اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ کوئی فرد اپنی مرضی سے نیچرلائزیشن یا رجسٹریشن کی وجہ سے کسی دوسرے ملک کا شہری بن گیا ہے تو وہ بھارتی شہری نہیں شمار ہوگا‘۔

بیرون ملک بھارتی شہریت[ترمیم]

مختلف ممالک بالخصوص شمالی امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں موجود بھارتی افراد کی طرف سے دوہری شہریت کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر ‘بیرونِ ملک بھارتی شہریت‘ یعنی او سی آئی متعارف کرائی گئی۔ یہ 1955ء کے شہریت کے قانون میں لائی گئی تبدیلی تھی۔ بھارتی حکام نے اس کی تشریح کچھ یوں کی ہے کہ کوئی بھی بھارتی شہری بھارتی پاس پورٹ کے ساتھ کسی دوسرے ملک کا پاس پورٹ نہیں رکھ سکتا اور اس ضمن میں بھارتی عدالتوں نے حکام کو وسیع اختیارات دیے ہیں۔[13] سو بیرونِ ملک بھارتی شہریت بھارت کی اصل شہریت نہیں ہے اور اس میں دہری شہریت کا سوال نہیں کھڑا ہو سکتا اور نہ ہی متعلقہ فرد کو او سی آئی حاصل کرنے کے بعد بھارتی شناختی کارڈ کے استعمال سے روکا جا سکتا ہے۔[14] اس کے علاوہ او آئی سی بھارتی ویزے کا متبادل نہیں اور تا حیات بھارتی ویزے والا پاس پورٹ بھی بھارت کے سفر میں اپنے ہمراہ رکھنا لازم ہے۔ [15] او سی آئی کارڈ پر اب U والا ویزہ سٹکر نہیں لگا ہوتا۔ اس مقصد کے لیے او آئی سی کارڈ ہی کافی ہے کہ اس پر ‘تاحیات ویزہ‘ لکھا ہوتا ہے۔یہ کارڈ کسی بھی کارآمد پاس پورٹ کے ساتھ کام کرے گا۔ تاہم بعض ممالک جیسا کہ برطانیہ بیرون ملک بھارتی شہریت کو دہری شہریت کا درجہ دیتے ہیں۔[16]

پرسنز آف انڈین اوریجن (پی آئی او) کارڈ[ترمیم]

یہ کارڈ ایسے افراد کو جاری کیا جاتا تھا جن کے پاس افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کے علاوہ کسی اور ملک کا پاس پورٹ ہو اور تین نسل قبل تک وہ اپنے اجداد کی بھارتی شہریت ثابت کر سکتے ہوں۔

2011ء کے اوائل میں وزیر اعظم بھارت من موہن سنگھ نے اعلان کیا کہ پی آئی او کارڈ کو[17] او سی آئی کارڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔[18] 9 جنوری 2015ء کو پی آئی او کارڈ والی سکیم مکمل طور پر ختم کر دی گئی اور تمام تر درخواست گزار اب او سی آئی کے لیے ہی درخواست دے سکتے ہیں۔ اب تک جاری شدہ تمام پی آئی او کارڈ کو او سی آئی کارڈ ہی سمجھا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے ان کے کارڈ پر 'تاحیات کار آمد' کی مہر لگنا کافی ہے۔[19]

دوہری شہریت[ترمیم]

عام طور پر قانون کے مطابق بھارتی شہری کا دوہری شہریت رکھنا بہت دشوار کام ہے کہ کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتے وقت بھارتی شہریت ختم ہو جاتی ہے اور بھارتی شہریت لیتے وقت دوسری شہریت ختم کرنا پڑتی ہے۔ تاہم اس کے علاوہ بھی کئی ذرائع ہیں کہ جن سے دہری شہریت رکھی جا سکتی ہے، بشمول:

  • غیر ملکی سفارتی عملے کے بچے جو بھارت میں پیدا ہوئے ہوں، کو ان کے والدین کی تعیناتی کے عرصے کے لیے شہریت دی جاتی ہے۔
  • ایسا نابالغ جس کے والدین نے دوسرے ملک کی شہریت اختیار کر لی ہو اور نتیجتاً اسے بھی غیر ملکی پاس پورٹ جاری ہو گیا ہو۔

6 جنوری 2015ء میں پرواسی بھارتیہ دیوس کے افتتاحی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بیرونِ ملک بھارتیوں کے لئے دوہری شہریت[20] کے لئے گجرات کی دارالحکومت گاندھی نگر میں ایک مقدمہ دائر کیا۔[21]

20 اپریل 2015ء کو بھارتی عدالت عظمیٰ نے یہ کہہ کر اسے خارج کر دیا کہ وینکت نرائن اس سے براہ راست متائثر ہونے والے فریق نہیں اور انہیں کسی دوسرے کی جانب سے یہ مقدمہ دائر کرنے کا حق نہیں۔[22]

ویزے کی شرائط[ترمیم]

بھارتی شہریوں کے لیے ویزے کی شرائط ہر ملک کے لیے مختلف ہوتی ہیں جو متعلقہ ملک طے کرتا ہے۔ 13 فروری 2018ء کو بھارتی پاس پورٹ رکھنے والوں کے لیے 56 ممالک کا سفر بغیر ویزہ لیے کر سکتے ہیں۔ اس طرح بھارتی پاس پورٹ ہینلے ویزہ رسٹرکشن انڈیکس کے مطابق 81ویں نمبر ہے اور آئیوری کوسٹ، سینیگال اور ٹوگو کے پاس پورٹ اس کے مساوی ہیں۔[23]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "As Trump strikes at birthright citizenship, Americans – and Indians – look up 14th Amendment"۔
  2. legislation.gov.uk: "British Nationality and Status of Aliens Act 1914" (original as printed)
  3. "As Trump strikes at birthright citizenship, Americans – and Indians – look up 14th Amendment"۔
  4. For example, see attached regulations for the 1851 Research Fellowship for Indians, with reference to Indians from princely states as British protected persons (Current Science - Science Notes and News)
  5. For example, see attached regulations for the 1851 Research Fellowship for Indians, with reference to Indians from princely states as British protected persons (Current Science - Science Notes and News)
  6. Indians then residing in the states of the زیر حمایت عدن or in the states under the Persian Gulf Residency, and their wives and families, remained British protected persons. Both administrations had been previously transferred to the control of the British Foreign Office, the Aden Protectorate in 1917 and the Persian Gulf Residency in April 1947. Members of the Indian diaspora then resident in any other British protectorate or protected state also remained under British protection.
  7. "The Gazette of India - Extraordinary" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Press Information Bureau of India - Archive۔ مورخہ 27 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ (پی‌ڈی‌ایف)۔"The expression 'British subjects' shall be deemed to include the Ruler and subjects of any of the Acceding States."
  8. "The Gazette of India - Extraordinary" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Press Information Bureau of India - Archive۔ مورخہ 27 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ (پی‌ڈی‌ایف)۔"The expression 'British subjects' shall be deemed to include the Ruler and subjects of any of the Acceding States."
  9. "Delhi High Court Tikka Shatrujit Singh & Ors. vs Brig. Sukhjit Singh & Anr."۔ IndianKanoon.org۔ For instance..."The British paramountcy lapsed on 14th August, 1947 and Maharaja Jagatjit Singh entered into a merger agreement on 20th August, 1948 by virtue of which separate State of Patiala and East Punjab States Union (PEPSU) came into existence. Before this merger agreement was executed, a declaration was made by Maharaja Jagatjit Singh with regard to his private properties in which he mentioned that they are his exclusive properties. From the period 14th August, 1947 to 20th August, 1948, Maharaja Jagatjit Singh was sovereign absolute ruler of Kapurthala State."
  10. From 1 January 1949, the term British subject became interchangeable with Commonwealth citizen.
  11. Nationality and International Law in Asian Perspective - Google Books۔ Books.google.co.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-07-03۔
  12. 5 CCR 1001-10 APCD regulation no. 8 : federal maximum achievable control technology standards۔ Colorado Dept. of Public Health and Environment۔ 2009۔ او سی ایل سی 615644045۔
  13. "Passport alone no proof of citizenship: Bombay HC"۔ Times of India۔ 2013-10-29۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-07-03۔
  14. "Acquisition of Indian Citizenship (IC)"۔ Government of India - Ministry of Home Affairs - Foreigners Division۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-04-19۔
  15. "What is the Citizenship (Amendment) Bill 2016?"۔ India Today۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جنوری 2019۔
  16. "What is the Citizenship (Amendment) Bill, 2016?"۔ The Hindu۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جنوری 2019۔
  17. "JPC report on Citizenship Amendment Bill, 2016 tabled in Lok Sabha"۔ dd News۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جنوری 2019۔
  18. "Letter from British High Commission Nairobi" (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2018۔
  19. Overseas Citizenship of India (OCI); Ministry of Home Affairs, Government of India website نسخہ محفوظہ 26 September 2009 در وے بیک مشین, Diaspora Services: Overseas Citizenship of India Scheme نسخہ محفوظہ 4 May 2012 در وے بیک مشین
  20. "Flying to India? Carry old passport with OCI card - Rediff.com India News"۔ News.rediff.com۔ 2009-10-29۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-07-03۔
  21. "Flying to India? Carry old passport with OCI card - Rediff.com India News"۔ News.rediff.com۔ 2009-10-29۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-07-03۔
  22. "Nationality Instructions, Chapter 14, Annex H, Section 7.5" (پی‌ڈی‌ایف)۔ United Kingdom Border Agency۔
  23. "PM announces merging of OCI, PIO cards - Indian Express"۔ www.indianexpress.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2018۔

بیرونی روابط[ترمیم]