بھارتی 1 پیسے کا سکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایک پیسہ
بھارت
قدر1Indian Paisa symbol.svg (1100)
کمیت1.48 گرام (0.048 troy oz)
قطر16 ملی میٹر (0.063 انچ)
موٹائی1.01 ملی میٹر (0.04 انچ)
کنارہہموار
جزو ترکیبیNickel-brass (1964)
ایلومینیم (1965–1971)
سالہائے ڈھلائی سازی1964ء (1964ء)–1981 (1981)
ڈھلائی2,235,853,025
نشان ہائے ڈھلائی سازیMumbai = ♦
Mumbai Proof issues = B
Hyderabad = *
Noida = °
Kolkata = No mint-mark
گردشاسقاط زر
کیٹلاگ نمبرKM#9 & KM#10
چت
پٹ

بھارتی 1 پیسے کا سکہ (ہندی पैसा) بھارتی روپیہ کی ایک سابقہ اکائی ہے۔ ایک Indian Paisa symbol.svg بھارتی پیسہ، بھارتی روپیے کا 1⁄100 (سواں) حصہ ہے۔ ایک پیسے کی Indian Paisa symbol.svg علامت ہے۔ 1955ء میں، بھارت نے سکون کے لیے میٹرک نظام اپنایا اور اپنے سکوں کے قانون میں ترمیم کی۔ اس کے بعد، 1 اپریل 1957ء کو ایک پیسے کے سکے متعارف کروائے گئے۔ سن 1957ء سے لے کر 1964ء تک، ایک پیسے کے سکے کو "نیا پیسہ" (ہندی: नया पैसा) کہا گیا اور 1 جون 1964ء کو، "نیا" کی اصطلاح ختم کردی گئی اور اس اکائی کو "ایک پیسہ" کہا گیا۔ ایک پیسے کے سکے کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب یہ سکہ زر قانونی نہیں ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1957ء سے پہلے تک، بھارتی روپیہ اعشاری نظام میں نہیں ڈھالا گیا تھا۔ 1835ء سے 1957ء تک اس کو 16 آنے میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر آنہ کو مزید چار ہندوستانی ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر ٹکڑے کو 1947ء تک تین ہندوستانی پائیوں میں تقسیم کیا گیا، 1947ء میں پائی کو زرقانونی سے خارج کردیا گیا۔ 1955ء میں، بھارت نے سکون کے لیے میٹرک نظام اپنایا اور اپنے سکوں کے قانون میں ترمیم کی۔ 1957ء کو ایک پیسے کے سکے متعارف کروائے گئے۔ سن 1957ء سے لے کر 1964ء تک، ایک پیسے کے سکے کو "نیا پیسہ" (ہندی: नया पैसा) کہا گیا اور 1 جون 1964ء کو، "نیا" کی اصطلاح ختم کردی گئی اور اس اکائی کو "ایک پیسہ" کہا گیا۔ 1، 2، 3، 5، 10 اور 25 پیسے تک کے سکے جاری کیے گئے تھے۔ ایک پیسہ کا سکہ گردش میں نہیں رہا اور 30 جون 2011ء کو اس سکے کی قانونی حیثیت ختم کر دی گئی۔

متغیرات[ترمیم]

1957ء سے 1961ء تک یہ سکے، 1۔5 گرام کی کانسی سے ڈھلائی کیے جاتے تھے، جن پر سیدھی سمت میں، بھارت کا ریاستی نشان اور الٹی سمت میں، پیسے کا سال ڈھلائی اور قدر ہوتی تھی، 1964ہ میں اس کا وزن 1۔48 گرام کر دیا گیا اور اب یہ نکل و پیتل سے بنائے گئے، جو اسی سال متروک قرار دیئے گئے، پھر 1965ء سے 1981ء تک سکے کا وزن مزید کم کر کے، 0.75 گرام کر دیا گیا اور ان کو ایلومینیم سے بنایا گیا۔

متغیرات (1964–1981)۔
تصویر قدر تکنیکی پیرامیٹرز تفصیل ٹکسال کا سال مالیاتی
حیثیت
سیدھی سمت الٹی سمت وزن قطر موٹائی دھات کنارے سیدھی سمت الٹی سمت اول آخر
1 Naya paisa (Obverse).jpg 1 Naya paisa (Reverse).jpg 1 پیسہ 1.5 گرام 16 ملی میٹر 1 ملی میٹر کانسی ہموار بھارت کا ریاستی نشان اور ملک کا نام
ہندی اور انگریزی میں۔
چہرہ قدر اور سال۔ 1957 1961
1 Indian paisa (Obverse) 1964.jpg 1 Indian paisa (Reverse) 1964.jpg 1 پیسہ 1.48 گرام 16 ملی میٹر 1.01 ملی میٹر نکل پیتل ہموار بھارت کا ریاستی نشان اور ملک کا نام
ہندی اور انگریزی میں۔
چہرہ قدر اور سال۔ 1964 1964 اسقاط زر۔[1]
1 Indian paisa (Obverse).jpg 1 Indian paisa (Reverse).jpg 1پیسہ 0.75 گرام 17 ملی میٹر 1.72 ملی میٹر ایلومینیم 1965 1981 اسقاط زر۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "1964 Indian paisa". Numista. اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2016. 
  2. "1965 Indian paisa". Numista. اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2016.