بھارت میں اردو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھارت میں اردو : اردو کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی۔ جب پیدا ہوئی تو ملک بہت ہی وسیع تھا۔ شمالی مغرب میں ایران تو شمالی مشرق میں تھائی لینڈ اس کے حدود تھے۔ رفتہ رفتہ یہ حدود سکڑتے گئے۔ 1947 تقسیمِ ہند کے بعد تو بھارت آج کی شکل کا ہوا ہے۔ پھر بھی یہ ملک اتنا وسیع ہے کہ اس کو آج بھی بر صغیر کا بڑا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس وسیع ملک میں لسانی اعتبار سے مختلف طبقات ہیں۔ یہاں کی سرکاری زبان تو ہندی ہے مگر اس کے ساتھ انگریزی بھی دفتری زبان ہے۔ اردو بھارت کی بعض ریاستوں کی سرکاری زبان ہے۔ کل 29 ریاستیں ہیں، ان ریاستوں میں 22 سرکاری زبانیں ہیں۔ر

اردو سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کے لئے یہ خبر تشویش  کا باعث ہوگی  کہ  پہلی مرتبہ ہندوستان میں اردو کو اپنی مادری زبان درج کرانے  والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔جہاں ملک کی آبادی لگاتار بڑھ رہی ہے اور تمام بڑی زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو اہے،اردو  کے اعداد و شمار ایک الگ ہی داستان بیان کر رہے ہیں۔پہلی بات یہ کہ نہ صرف اردو کو اپنی مادری زبان درج کرانے والوں کے  فیصد میں کمی آئی ہے، بلکہ تعدادمیں بھی قابل لحاظ کمی ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد ہر دہائی میں اردو بولنے والوں کی تعداد بدتریج بڑھتی رہی ہے۔

1971 کی مردم شماری رپورٹ میں یہ تعداد2 کروڑ 86 لاکھ تھی، جو دس سال بعد 1981 میں ساڑھے 3 کروڑ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد1991 میں یہ 4 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس صدی کی پہلی مردم شماری یعنی 2001 میں یہ 5 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔مگر2011 کی مردم شماری، جس کی رپورٹس کافی بعد میں آیئں، اور جس میں زبانوں کے اعداد و شمار کے تجزیہ کی رپورٹ اب جاری کی گئی ہے، یہ تعداد بڑھی نہیں بلکہ کم ہوئی ہے۔ یعنی اب اردو ہندوستان میں سرکاری اعداد و شمار کی حیثیت سے ساڑھے چار فیصد سے بھی کم لوگوں کی زبان ہے۔

آپ لاکھ کہیں کہ اردو بولنے والوں کی تعداد اس سے گئی گنا زیادہ ہے مگر اعداد و شمار کے حساب سے اردو کا کمزور ہونا، زبان کے لیے نیک فال نہیں ہے۔کچھ لوگوں کورپورٹس پر شک  ہونے لگتا ہےااور  اس  کمی کے پیچھے بھی سازش نظر آتی ہے مگر حقیقت تلخ ہے۔یہ سچ ہے کہ زبان کسی مذہب کی نہیں ہوتی مگر یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ہندوستان میں عام طور پرمسلمان  ہی اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر درج کرواتا ہے۔اور گزشتہ کچھ دہائیوں کی مردم شماری  سے ظاہر ہو رہا تھا کہ حالات بگڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

اتر پردیش کو اردو کا ہوم لینڈ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً پونے 4 کروڑ مسلمان رہتے ہیں مگر بمشکل 1 کروڑ 8 لاکھ نے اردو کو مادری زبان درج کروایا۔یہ ٹرینڈ آج سے بیس پچیس سال پہلے شروع ہو گیا تھا، تب مسلمانوں کی آبادی اور اردو آبادی کا تناسب50فیصدی تھا، جو بگڑتے بگڑتے28 فیصد ی پر آ گیا ہے۔ یعنی یہاں 100 میں سے صرف 28 مسلمان اردو کو مادری زبان درج کروا رہے ہیں۔ظاہر ہے، وہ نسلیں جن کو اردو سے جذباتی لگاؤ تھا، ختم ہو رہی ہیں۔ یہی حال راجستھان، مدھیہ پردیش اورشمال کے دوسرے صوبوں کا ہے ۔یہ وہ صوبے ہیں جہاں مسلمان عام طور پر اردو کو اپنی زبان سمجھتا تھا –بہار کی صورتحال اتر پردیش سے بہتر ہے مگر وہاں بھی حالات تسلی بخش نہیں ہے-وہاں مسلم آبادی پونے 2 کروڑ ہے اور اردو گو آبادی ساڑھے 87 لاکھ۔

جنوبی ہنداورمہاراشٹر کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ یہاں مسلم آبادی اور اردو گو آبادی میں بہت کم فرق ہے۔ تلنگانہ-آندھرا پردیش میں 81 لاکھ مسلمان ہیں اور اردو بولنے والے 75لاکھ—یعنی 90 فیصد مسلمان اردو کواپنی مادری زبان لکھوا رہے ہیں، جبکہ شمال کے صوبوں میں یہ تعدادتیس اور بیس فیصد سے بھی کم ہے۔کرناٹک بھی ایسا ہی صوبہ ہے جہاں اردو بے حد مضبوط نظر آتی ہے۔حد تویہ ہے کہ تمل ناڈو میں بھی اردو بولنے والوں کی تعدادراجستھان اور مدھیہ پردیش کے مقابلہ زیادہ ہے۔گجرات، آسام اور بنگال میں مسلمان کی زبان عام طور پر گجراتی، بنگلہ اور آسامی رہی  ہے مگر شمال کی ان ریاستوں میں تو مسلم معاشرہ میں اردو کا ہی رواج تھا۔

ہم  د ل بہلانے کے لیےیہ  کہہ سکتے ہیں کہ  اردو جاننا اور اردو کو اپنی زبان لکھوانے میں فرق ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ شمال میں ایک بڑی اردو گو آبادی ایسی ہے  جو اردو اور ہندی میں کوئی خاص فرق نہیں سمجھتی اور یہ اعداد و شمار اسی رجحان کا مظہر ہیں۔ہندی ملک کی سب سے بڑی اور سرکاری زبان ہے۔ ہندی اور اردو دونوں کی بقا  ضروری ہے۔ہندی بولنے والوں کے تعداد میں دس سال میں 10کروڑ کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ 42 کروڑ سے بڑھ کر یہ تعداد اب 52 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔آٹھویں شیڈیول میں شامل 22 زبانوں میں صرف اردو اور کونکنی کے بولنے والے کم ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں صاف نظر آتا ہے کہ شمالی ہندوستان میں اردو سے جذباتی وابستگی کم ہوتی جا رہی ہے اورمردم شماری کے وقت  لوگ اس بات پر غالباً ر توجہ نہیں دیتے کہ مادری زبان کے خانے میں اردو ہی لکھوانا ہے۔شمال کے کچھ صوبوں اور اضلاع میں تو یہ حال ہے کہ اگر لوگ ابھی نہ جاگے توان ٹرینڈس کے حساب سے آگے چل کر  اتنے کم بولنے والے رہ جائیں گے کہ وہاں  اردو  کی حیثیت ایک بولی جیسی ہو جائے گی۔ اردو اب ساتویں نمبر پر کھسک گئی ہے اور گجراتی بولنے والوں کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہو گئی ہے۔

پھر بھی اگر 5 کروڑ  سے کچھ زیادہ لوگ اردو کو اپنی زبان لکھواتے ہیں تو اس کے لیے جنوبی ہندوستان کے اردو معاشرے کا سب سے اہم کردار ہے۔ جن صوبوں میں ہندی ریاستی زبان نہیں ہے، وہاں اردو ابھی بھی مسلم شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پھر سے زبان کامرثیہ لکھنا شروع کر دیں اور ‘اردو مر رہی ہے’،  جیسےجملوں کی گردان شروع کر دیں۔بہر حال مہاراشٹر، دکن  اور جنوبی ہندوستان کے اردو  بولنے والے اس بات پر بجا فخر کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ہی اس زبان سے محبت کا حق ادا کیا ہے۔ بے شک اورنگ آباد سے گلبرگہ  اور حیدرآباد سے ویلور تک کا علاقہ اردو کا مستقر بن گیا ہے۔جنوب کے اردو والے کہہ  سکتے ہیں کہ ان کو اردو کے تیئں محبت کے ثبوت  دینے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اس کا عملی ثبوت پیش کر چکے ہیں۔

صدیوں سے یہ اردو کا علاقہ رہا ہے اور آج بھی یہ اردو کا مضبوط قلعہ ہے۔ شمال، خصوصاً اتر پردیش، جو آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کا اور اردو بولنے والوں کا بھی سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں اردو داں طبقہ کو اس سے سیکھ لینے کی ضرورت ہے۔

اردو بحیثیت سرکاری زبان[ترمیم]

ان ریاستوں کے علاوہ بہت ساری ریاستوں میں اچھے خاصے اردو بولنے والوں کی تعداد ہے۔ مثلاً دہلی، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، کرناٹک، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ وغیرہ ریاستیں۔

اردو کے اہم شہر[ترمیم]

بھارت کے درجنوں شہر ایسے ہیں جہاں بڑی تعداد میں اردو بولی جاتی ہے۔ وہ شہر جو کبھی نوابوں کے دار الخلافہ رہ چکے ہیں انہیں اردو کا گہوارہ کہا جاسکتا ہے۔ ایسے شہروں میں ذیل کے شہر اہم ہیں۔

کچھ ایسے شہر جو ثقافتی اعتبار سے ہندی اور اردو بولنے والے یکساں ملتے ہیں، ذیل کے شہر ہیں۔

دور جدید میں بھارت میں اردو کوسموپولس اور میٹرو شہروں میں کافی پھلی پھولی ہے۔ اس کی وجہ اردو بولنے والے احباب شہروں کی طرف منتقل ہوجانا ہے۔ ایسے شہر ذیل کے ہیں۔

اردو فونٹس[ترمیم]

بھارت سرکار کی وزارت انسانی وسائل و بہبود اور انفورمیشن ٹیکنولوجی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان مل کر مشترکہ طور پر اردو فونٹس کو ترقی دینے کی ذمھ دار ہے تاکہ اردو دیگر اداروں پر انحصار سے باہر نکل آئے۔[1]

اردو اور دیگر زبانوں میں لغات[ترمیم]

بھارت کے کئی زبانوں میں اردو کے مشترکہ لغات ہیں۔ جیسے اردو-تیلگو لغات، اردو-ہندی لغات، اردو-مراٹھی لغات، اردو-بنگالی لغات، اردو-کنڑی لغات وغیرہ۔

مثال کے طور پر 1938 میں ورنگل کے عثمانیہ کالیج کے وظیفہ یاب عربی پروفیسر آئی۔ کونڈالا راؤ نے اردو-تیلگو لغات کی تالیف کی۔ پھر اس کے بعد 2009 میں آندھرا پردیش سرکاری تنظیم لسانیات کے صدر اے۔ بی۔ کے۔ پرساد کی نگرانی میں 862 صفحات والی اردو-تیلگو لغات شایع ہوئی۔

اردو میں تراجم ہندو مت کی کتابیں[ترمیم]

ہندو دھرم کی کئی دھارمک کتابیں مترجم ہوئیں، ان میں سے ذیل کی اہم ہیں۔

  • راماین - (مغل سلطان اکبر کے دور میں)
  • مہا بھارت - رزم نامہ (مغل سلطان اکبر کے دور میں)
  • بھگوت گیتا - نغمئہ یزدانی۔ الہ آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اجے مالوی نے گیتا کو سنسکتر سے اردو میں ترجمہ کیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس طرح کے تراجم سے دو مذہبوں کے پیروکاریں کے درمیان اچھے رشتے قائم ہوں گے اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔[2]
  • گلے بکاولی

تقابلی امتحانات بذریعے اردو[ترمیم]

حکومت ہند کے ماتحت مختلف اداروں کے ذریعے دیگر زبانوں کے ساتھ اردو میں بھی مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں۔

اردو ادب[ترمیم]

دورِ حاضر میں اردو بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ ایسے میں، عربی مدارس، اردو مدارس، اردو فروغ ادارے، اردو اخبار، اردو ٹی۔ وی۔ چینلز، مشاعرے، کتب خانے، اردو زبان کے ورثہ کو بچانے میں کوشاں ہیں۔ سیاسی حلقے بھی اردو سیمینار، اردو مشاعرے انعقاد کرنے میں کافی دلچسپی دکھاتے ہیں۔

اردو ادیب[ترمیم]

کلاسیکل اردو ادب کے تمام ادبا ہندوستان کے رہنے والے تھے۔

اردو شعرا[ترمیم]

عصری شعرا میں نامور، جاوید اختر، گلزار زتشی، وسیم بریلوی، منور رانا، راحت اندوری، نامور شعرا ہیں۔

بھارت میں اہم اردو اخبار[ترمیم]

مختلف شہروں سے شایع ہونے والے روزنامے

دہلی[ترمیم]

لکھنؤ[ترمیم]

کانپور[ترمیم]

کولکتہ[ترمیم]

بھوپال[ترمیم]

ممبئی[ترمیم]

حیدرآباد[ترمیم]

بنگلور[ترمیم]

دربھنگہ[ترمیم]

پٹنہ[ترمیم]

چینائی[ترمیم]

بھارت میں جامعیات[ترمیم]

بھارت میں وہ جامعیات جو یا تو مکمل طور پر اردو کی ہیں یا اردو کے شعبہ جات ہیں۔

اترپردیش[ترمیم]

بہار[ترمیم]

مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی پٹنہ بہار [www.mmhapu.com]

مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی محلہ-چندن پٹٹی ضلع-دربھنگہ [www.manuu.ac.in]

مغربی بنگال[ترمیم]

مدھیہ پردیش[ترمیم]

مہاراشٹر[ترمیم]

کرناٹک[ترمیم]

تلنگانہ میں اردو جامعیات[ترمیم]

آندھرا پردیش کے جامعیات جہاں اردو شعبہ جات ہیں[ترمیم]

تامل ناڈو[ترمیم]

کیرلا[ترمیم]

  • شری شنکراچاریہ سنسکرت یونی ورسٹی (اردو شعبہ)

بھارت میں اردو جامعات[ترمیم]

فروغ اردو کے لیے کوشاں ادارے[ترمیم]

بھارت میں اردو ٹی۔ وی۔ چینل[ترمیم]

بھارت میں اردو ریڈیو اسٹیشنس[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Urdu language: India develops Urdu font, ‘dumps’ Pakistan's | Gadgets Now
  2. دسمبر 26، 2008[مردہ ربط]
  3. The Siasat Daily: Breaking News, Hyderabad, India, Islamic, World
  4. [1]
  5. "etemaad.com". 03 اپریل 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 نومبر 2014. 
  6. "آرکائیو کاپی". 21 مارچ 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 نومبر 2014. 
  7. The Daily Milap
  8. http://musalman.100hands.net/ The Last Calligraphers, A film by Premjit Ramachandran
  9. :: Maulana Azad National Urdu University ::
  10. Central Institute of Indian Languages
  11. National Council for Promotion of Urdu Language
  12. [http://www.aponline.gov.in/apportal/departments/departments.asp آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ aponline.gov.in [Error: unknown archive URL]?