بھارت میں تعلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمہوریہ بھارت میں تعلیم
Emblem of India.svg
Indian Department of Education
قومی تعلیمی میزانیہ (2005–2012)
میزانیہ INR991 بلین (امریکی $16 بلین)
عام تفصیلات
پرائمری زبانیں ہندی، انگیریزی یا صوبائی زبانیں
طرز نظام فیڈرل، سٹیٹ اور پرائویٹ
Established
Compulsory Education
1 اپریل 2010
خواندگی (2011[1])
کل 74%[2]
مرد 82.2%
خواتین 65.5%
اندراج (2011[3])
کل (N/A)
ابتدائی 93%
ثانوی 69%
بعد ثانوی 25%
کامیابی
ثانوی ڈپلوما 40%[حوالہ درکار]
بعد ثانوی ڈپلوما 7%[حوالہ درکار]

بھارت میں تعلیم : حکومت اور پرائویٹ سیکٹر کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔ اس پر نگرانی تین سطحوں پر ہوتی ہے، 1۔ مرکزی حکومت، 2۔ صوبائی حکومت، 3۔ علاقائی حکومت۔ دستور ہند کے کئی دفعات کے تحت تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ بی الخصوص 6 تا 14 سال کے بچوں کے لیے۔

بھارت نے تحتانوی اور ثانوی تعلیم کافی ترقی کی۔ جس کی وجہ سے بھارت میں خواندگی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ 7 تا 10 سال کے بچوں کی تعداد کا تقریباً تین چوتھائی حصہ، 2011 تک خواندگی کے زمرہ میں آگیا۔[4] بھارت نے تعلیمی میدان میں قابل ترقی کرکے معاشی اور اقتصادی شعبہ جات می بھی ترقی کی ہے۔ تعلیمی شعبہ، بھارتی اقتصادی شعبہ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔[5] مختلف تعلیمی ادارے تعلیم، تدریس، تحقیق، سائنٹفک ریسرچ میں اپنا رول ادا کیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Estimate for India, from India, The Hindu
  2. "India Literacy Rate"۔ UNICEF۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2013۔
  3. "World Development Indicators: Participation in education"۔ World Bank۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2014۔
  4. "Education in India"۔ World Bank۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. India achieves 27% decline in poverty, Press Trust of India via Sify.com, 2008-09-12

بیرونی روابط[ترمیم]