بھارت میں سکھ مت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت کے سکھ
Amritsar Golden Temple 3.JPG
ہرمندر صاحب امرتسر میں واقع ہے یہ سکھ مت کی مقدس ترین جگہ ہے۔
کل آبادی
20,833,116 (2011)[1]
بھارت کا چوتھا بڑا مذہب
گنجان آبادی والے علاقے

پنجاب، بھارت میں اکثریت۔

چندی گڑھ · ہماچل پردیش  · ہریانہ · دہلی · جموں و کشمیر · راجستھان · اتر پردیش · اتراکھنڈ میں بھی آباد ہیں
زبانیں
پنجابی زبان • سندھی زبان • ہندی زبان • کشمیری زبان • مراٹھی زبان • انگریزی زبان

سکھ مت بھارت کا چوتھا بڑا مذہب ہے۔ سکھ مت کے بانی گرو نانک دیو کی پیدائش سے لے کر اب تک اس مذہب کو 548 سال ہو گئے ہیں۔ سکھوں کی غالب اکثریت پنجاب میں آباد ہے لیکن کچھ بھارت کے دوسرے حصوں میں بھی رہتے ہیں۔ یہ دنیا کا نواں سب سے بڑا مذہب ہے[2][3] سال 2010ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد 25 ملین ہے۔[4]

اہم شخصیات[ترمیم]

اگرچہ سکھ مت بھارت میں ایک چھوٹی اقلیت ہے، لین سکھ برادری ملک میں اہم مقام رکھتی ہے۔ بھارت کے سابقہ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر اور سابقہ وزیر اعظم بھارت منموہن سنگھ[5] اسی طرح بھارت کے سابقہ صدر ذیل سنگھ سکھ ہیں۔ بھارت میں وزرا کے تقریباً ہر کونسل نے سکھ نمائندوں کو شامل کیا ہے۔ سکھ بھارتی افواج میں بھی نمایاں ہیں، انھوں نے برطانوی دور میں تلوار بازی کی تشکیل دی۔ فائیو اسٹار بھارتی جنرل، ارجن سنگھ سکھ تھے۔ سابقہ بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف جے جے سنگھ سکھ تھے اسی طرح سابقہ سربراہ بھارت فضائیہ، ایئر چیف مارشل دل باغ سنگھ بھی سکھ تھے۔ سکھ بھارتی کھیلوں میں بھی مشہور ہیں، اولمپکس میں پہلے انفرادی طلائی تمغا جیتنے والے ابھینیو بندرہ ایک سکھ ہیں۔

سکھ آبادی[ترمیم]

مختلف اضلاع کی مجموعی آبادی میں سکھ بلحاظ فی صد (مردم شماری 2011ء)
گولڈن ٹیمپل میں سکھ لوگ

2011ء کی مردم شماری کے مطابق، بھارت میں سکھ آبادی 2.08 کروڑ (20.8 ملین) ہے، یہ کل آبادی کا صرف 1.72% ہے[6] بھارت میں کل سکھ آبادی میں سے، 77% پنجاب میں رہتے ہیں۔ جہاں آبادی کا 58 فی صد سکھ ہیں، بھارتی ریاست پنجاب بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں سکھ مت اکثریتی مذہب ہے۔

دوسری ریاستیں جہاں سکھوں کی قابل ذکر آبادی ہے ان میں چندی گڑھ کا یو ٹی (13.11%)، نئی دہلی (5.4%)، ہریانہ (4.91%)، اتار کھنڈ (2.34%)، راجستھان (1.27%)، جموں اور کشمیر (1.87%) اورہماچل پردیش (1.16%) شامل ہیں۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Census 2011 Data: Sikhs Have Worst Male-Female Ratio, Christians Best – Aug 26,2015"۔ outlookindia.com۔ 24 اگست 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2015۔
  2. Ixia Johnson (26 مئی 2015)۔ "Highlander – Senate passes Sikh Genocide Resolution; elects new justice"۔ Highlander۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2015۔
  3. "Hill Langar Raises Awareness About Sikh Faith"۔ Hill Blotter۔ 4 اگست 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2015۔
  4. "The Future of World Religions: Population Growth Projections, 2010–2050"۔ Pew Research Center's Religion & Public Life Project۔ 2 اپریل 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2015۔
  5. "India Swears In 13th Prime Minister and First Sikh in Job"۔ The New York Times۔ 23 مئی 2004۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "مذہبی ڈیٹا – ہندو / مسلم/ سکھ/ مسیحی آبادی– مردم شماری 2011ء بھارت"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "بھارت میں سکھ آبادی"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Swarup, Ram: Hindu-Sikh Relationship. 1985. Whither Sikhism? 1991. New Delhi: Voice of India.
  • Elst, K. (2002)۔ Who is a Hindu?: Hindu revivalist views of Animism, Buddhism, Sikhism, and other offshoots of Hinduism. New Delhi: Voice of India. ISBN 978-8185990743
  • Fauja, S.، & Talib, Gurbachan Singh (1996)۔ Guru Tegh Bahadur: Martyr and teacher. Patiala: Punjabi University.

بیرونی روابط[ترمیم]

https://www.sikhiwiki.org (انگریزی) https://www.deutsches-informationszentrum-sikhreligion.de (جرمن اور انگریزی) https://www.sikhfoundation.org (انگریزی)