بھارت میں مردم شماری، 2011ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت کی 15 ویں
مردم شماری
عمومی معلومات
ملک Flag of India.svg بھارت
تاریخ شماری 2010–2011
کل آبادی 1,210,193,422
فیصد تبدیلی Increase2.svg 17.70%[1]
سب سے زیادہ آباد ریاست اتر پردیش (199,812,341)
سب سے کم آباد ریاست سکم (610,577)

15ویں بھارتی مردم شماری دو مرحلوں میں منعقد کیا گئی تھی، خانہ شماری اور مردم شماری۔ خانہ (عمارت) شماری کا آغاز 1 اپریل 2010ء کو ہوا اور اس میں تمام عماراتوں کی معلومات جمع کی گئیں۔ معلومات برائے قومی آبادی رجسٹر پہلے مرحلے میں جمع کی گئیں، جو تمام مندرج بھارتی رہائشی شہریوں کو 12 ہندوسوں پر مشتمل آدھار (یو آئی ڈی اے آئی) شناختی کارڈ جاری کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں 9 سے 28 فروری 2011ء کے درمیان میں آبادی کی گنتی کی گئی۔ 1872ء کے بعد سے بھارت میں مردم شماریاں ہو رہی ہیں اور 2011ء میں پہلی بار بایو میٹرک معلومات جمع کی گئی تھیں۔ 31 مارچ 2011ء کو جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق، بھارت کی کل آبادی 121 کروڑ ہو چکی ہے جو ہر دس سال میں 17.64% بڑھ رہی ہے۔[2] آبادی میں شرح خواندگی 74.04% جس میں ہر سال میں 9.21% اضافہ ہو رہا ہے۔ مردم شماری 2011ء کا نعرہ تھا 'ہماری مردم شماری، ہمارا مستقبل'۔

مردم وخانہ شماری کا یہ عمل 28 ریاستوں[ا] اور 7 عملداریوں کے 640 اضلاع، 5,924 ذیلی اضلاع، 7,935 قصبوں اور 6 لاکھ سے زیادہ گاؤں پر پھیلا ہوا تھا۔ مجموعی طور پر 27 لاکھ اہلکاروں نے 7،935 شہروں میں گھروں کا دورہ کیا اور 6 لاکھ گاؤں، آبادی کی درجہ بندی جنس، مذہب، تعلیم اور پیشہ کے مطابق کی گئی۔[3] اس سارے عمل پر کل خرچ تقریباً 2200 کروڑ (امریکی $350 ملین)[4] – یہ فی فرد $0.50 سے کم خرچ بنتا ہے، باقی دنیا میں اس کام پر اندازہ $4.60 فی فرد خرچ ہوتا ہے۔[3] ہر 10 سال بعد ہونے والی بھارت کے وسیع علاقوں میں مردم شماری نے بھارت میں کئی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ ثقافتوں کا تنوع اور افرادی قوت نے اس میں مخالف کی ہے۔

ذاتوں کی معلومات کو مندرجہ ذیل حکمران اتحادی رہنماؤں کی طرف سے مردم شماری میں شامل کیا گیا بشمول لالو پرساد یادو، شرد یادو اور ملائم سنگھ یادو جن کو حزب مخالف کی جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی، شرومنی اکالی دل، شیو سینا اور انا دراود منیتر کڑگم کی حمایت بھی حاصل تھی۔[5] ذاتوں کی شماریات اس سے پہلے آخری بار برطانوی دور میں 1931ء میں جمع کی گئیں۔ ابتدا میں مردم شماری میں لوگوں نے اپنی سماجی حیثیت کے فروغ کے لیے ذات بتانے میں مبالغہ کیا البتہ اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ کئی لوگ ذات کو پست بتا کر حکومتی سہولیات حاصل کرتے ہیں۔[6] قیاس آرائی موجود تھی کہ 2011ء میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری ہو گی، 80 سال کے بعد (آخری بار 1931ء میں ہوئی)، جس سے بھارت میں "دیگر پسماندہ طبقات" کی درست ترین تعداد کا علم ہو سکے گا۔[7][8][9][10] بعد میں اس کو قبول کیا گیا تھا اور معاشرتی اقتصادی اور ذاتوں کی شماری بندی 2011ء منعقد کی گئی جس کے نتائج پہلی بار 3 جولائی 2015ء کو مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پیش کیے۔[11] 1980ء میں مینڈل کمیشن کے مطابق دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی 52% تھی، نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن نے اگرچہ (این ایس ایس او) 2006ء میں ایک سروے کے بعد دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی 41%بتائی تھی[12]

آزادی کے بعد، ذات شماری کی یہ پہلی مثال ہے۔ آزادی کے بعد انفرادی طور پر صرف ریاست کیرلا میں 1968ء میں ای ایم ایس نمبوتیری پاڈ نے مختلف سماجی و معاشی کمزور ذاتوں سے متعلق ایک سروے کروایا تھا اور یہ کیرلا سماجی و اقتصادی جائزہ 1968ء میں مکمل ہوا اور اور 1971ء میں کیرلا گزیٹر میں اس کے نتائج شائع ہوئے۔۔[13]

مردم شماری[ترمیم]

سی چندرامولی رجسٹرار جنرل اور 2011ہ بھارت مردم شماری کے مردم شماری کمشنر تھے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کو 16 زبانوں میں جمع کیا گیا تھا اور تربیتی نصاب 18 زبانوں میں تیار کیا گیا تھا۔ 2011ء میں، بھارت اور بنگلہ دیش نے اپنی سرحدوں سے ملحقہ علاقوں میں مل کر پہلی بار مردم شماری کی۔[14][15] مردم شماری دو مرحلے میں منعقد کی گئی تھی۔ پہلے میں خانہ شماری ہوئی، جو 1 اپریل 2010ء کو شروع ہوئی اور تمام عمارتوں اور آباد مکانات سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے گئے۔[16] پہلے مرحلے میں قومی آبادی رجسٹر بھی جمع کیا گیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں، ملکبھر کی آبادی کی شمار بندی ہوئی، یہ کام 9 سے 28 فروری 2011ء کے دوران میں ہوا۔

معلومات[ترمیم]

اندراج تعمیرات[ترمیم]

گھر (یا تعمیر کوئی بھی) کے لیے 35 سوال تھے۔[17]

Building number
Census house number
Predominant material of floor, wall and roof of the census house
Ascertain use of actual house
Condition of the census house
Household number
Total number of persons in the household
Name of the head of the household
Sex of the head
Caste status (SC or ST or others)
Ownership status of the house
Number of dwelling rooms
Number of married couple the household
Main source of drinking water
Availability of drinking water source
Main source of lighting
Latrine within the premises
Type of latrine facility
Waste water outlet connection
Bathing facility within the premises
باورچی خانے کی دستیابی
کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن
ریڈیو/ٹرانسسٹر
ٹیلی ویژن
کمپیوٹر/لیپ ٹاپ
ٹیلی فون/موبائل فون
بائیسکل
سکوٹر/موٹر سائیکل/موپڈ
کار/جیپ/وین
بینک خدمات لینے کی معلومات۔

آبادی کی گنتی[ترمیم]

آبادی کی گنلتی کے رجسٹر میں کل 30 سوالات تھے۔[18][19]

فرد کا نام
سربراہ سے رشتہ
جنس
تاریخ پیدائش اور عمر
موجودہ ازدواجی حیثیت
شادی کی عمر
مذہب
ذات/درج قبیلہ
معذوری
مادری زبان
جو دیگر زبانیں جانتا ہے
تعلیمی حیثیت
حاضری کی کیفیت (تعلیم)
اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت
گزشتہ سالوں کے دوران میں جو کام کیا
معاشی سرگرمیوں کا زمرہ
کاروبار کی نوعیت
تجارت یا خدمت
مزدور کی کلاس
غیر معاشی سرگرمی
حصول یا کام کے لیے دستیاب
کام کے مقام کا فاصلہ
مقام پیدائش
گزشتہ رہائش گاہ کا مقام
منتقلی کی وجہ
منتقلی کی جگہ میں قیام کی مدت
زندہ بچے
ابک تک پیدا ہونے والے بچے
آخری سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد

قومی آبادی رجسٹر[ترمیم]

قومی آبادی کے رجسٹر میں رہائشیوں سے 9 سوالات کیے گئے تھے۔[20]

فرد کا نام اور رہائشی کیفیت
آبادی کے رجسٹر میں درج ہونے والے شخص کا نام
سرپرست سے رشتہ
جنس
تاریخ پیدائش
ازدواجی حیثیت
تعلیمی قابلیت
کاروبار / سرگرمی
باپ، ماں اور بیوی کا نام

پوروں کے نشانات لینے اور تصاویر یہ معلومات ایک بار جمع ہو جانے کے بعد، ملک کے تمام شہریوں کو ایک 12 ہندسوں کا شناختی کارڈ جسے آدھار کارڈ کہا گیا ہے جاری کیا جائے گا، پہلا کارڈ 2011ء میں جاری کیا گیا تھا۔[21][22][23]

مردم شماری رپورٹ[ترمیم]

دہائیوں کے حساب سے بھارتی آبادی میں اصافہ (1901ء–2011ء)۔

Prعارضی معلومات (ڈیٹا) 31 مارچ 2011ء کو جاری کی گئیں (اور 20 مئی 2013ء کو ان کو تازہ/اپڈیٹ کیا گیا)۔[24][25][26][27][28] 2011ء میں پہلی بار کی مخنث آبادی کو شمار کیا گیا۔[29][30] 2011ء میں آبادی کا مجموعی جنسی تناسب ہر 1،000 مردوں کے مقابل 943 خواتین ہیں۔[31] بھارت میں تیسری جنس کی سرکاری تعداد 4.9 لاکھ ہے۔[32]

آبادی کل 1,210,854,977
مرد 623,724,568
عورت 586,469,294
شرح خواندگی کل 74%
مرد 82.10%
خواتین 65.50%
کثافت آبادی فی کلو میٹر2 382
جنسی تناسب فی 1000 مرد 943 عورتیں
بچوں میں جنسی تناسب (0–6 عمر کی حد) فی 1000 مرد 919

آبادی[ترمیم]

2011ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت کی کل آبادی 1,210,193,422 تھی۔[33] 2001ء سے 2011ء کے درمیآن میں بھارتی آبادی میں 181.5 ملین کا اضافہ ہوا، جو برازیل کی آبادی سے تھوڑا سا کم ہے۔ بھارت، دنیا کے 2.4% زمینی رقبے پر 17.5% آبادی والا ملک ہے۔ اترپردیش 200 ملین آبادی کے ساتھ سب سے بڑی ہے۔ کل آبادی کی نصف آبادی 6 ریاستوں اترپردیش، مہارشٹر، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور مدھیہ پردیش میں ہے۔[34] 121 کروڑ بھارتیوں میں سے، 83.3 کروڑ (68.84%) دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جب کہ 37.7 کروڑ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔[35][36] بھارت میں 45.36 کروڑ لوگ تارکین وطن ہیں، جو مجموعی آبادی کا 37.8 فیصد ہے۔[37][38][39]

بھارت کئی بڑے مذاہب جیسے ہندومت، بدھ مت، سکھ مت اور جین مت کے مقام پیدائش کی حیثیت رکھتا ہے،،جب کہ کئی دیسی عقائد اور قبائلی مذاہب ایسے بھی ہیں جو بڑے مذاہب کی صدیوں کی عملداری کے باموجود اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔مردم شماری کے بعد، مردم شماری میں مذہب سے متعلق لوگوں سے لی گئی معلومات کو جاری کیا گيا ہے۔

بھارت کی آبادی بلحاظ ریاست
درجہ ریاست (ی وٹی) قسم آبادی[40] آبادی ک ا%[41] مرد عورتیں جنسی تناسب
[42]
شرح خواندگی (%) شہری[43]
آبادی
دیہی[43]
آبادی
رقبہ[44]
(km²)
کثافت
(/km²)
دس سالہ اضافہ% (2001–2011)
1 اتر پردیش ریاست 199,812,341 16.5 104,480,510 95,331,831 930 67.68 155,111,022 44,470,455 240,928 828 20.1%
2 مہاراشٹر ریاست 112,374,333 9.28 58,243,056 54,131,277 929 82.34 61,545,441 50,827,531 307,713 365 16.0%
3 بہار (بھارت) ریاست 104,099,452 8.6 54,278,157 49,821,295 918 61.80 92,075,028 11,729,609 94,163 1,102 25.1%
4 مغربی بنگال ریاست 91,276,115 7.54 46,809,027 44,467,088 950 76.26 62,213,676 29,134,060 88,752 1,030 13.9%
5 آندھرا پردیش[ا] ریاست 84,580,777 6.99 42,442,146 42,138,631 993 67.02 56,361,702 28,219,075 275,045 308 11.1%
6 مدھیہ پردیش ریاست 72,626,809 6.00 37,612,306 35,014,503 931 69.32 52,537,899 20,059,666 308,245 236 20.3%
7 تمل ناڈو ریاست 72,147,030 5.96 36,137,975 36,009,055 996 80.09 37,189,229 34,949,729 130,058 555 15.6%
8 راجستھان ریاست 68,548,437 5.66 35,550,997 32,997,440 928 66.11 51,540,236 17,080,776 342,239 201 21.4%
9 کرناٹک ریاست 61,095,297 5.05 30,966,657 30,128,640 973 75.36 37,552,529 23,578,175 191,791 319 15.7%
10 گجرات ریاست 60,439,692 4.99 31,491,260 28,948,432 919 78.03 34,670,817 25,712,811 196,024 308 19.2%
11 اوڈیشا ریاست 41,974,218 3.47 21,212,136 20,762,082 979 72.87 34,951,234 6,996,124 155,707 269 14.0%
12 کیرلا ریاست 33,406,061 2.76 16,027,412 17,378,649 1,084 94.00 17,445,506 15,932,171 38,863 859 4.9%
13 جھارکھنڈ ریاست 32,988,134 2.72 16,930,315 16,057,819 948 66.41 25,036,946 7,929,292 79,714 414 22.3%
14 آسام ریاست 31,205,576 2.58 15,939,443 15,266,133 958 72.19 26,780,526 4,388,756 78,438 397 16.9%
15 پنجاب ریاست 27,743,338 2.29 14,639,465 13,103,873 895 75.84 17,316,800 10,387,436 50,362 550 13.7%
16 چھتیس گڑھ ریاست 25,545,198 2.11 12,832,895 12,712,303 991 70.28 19,603,658 5,936,538 135,191 189 22.6%
17 ہریانہ ریاست 25,351,462 2.09 13,494,734 11,856,728 879 75.55 16,531,493 8,821,588 44,212 573 19.9%
18 دہلی یوٹی 16,787,941 1.39 8,887,326 7,800,615 868 86.21 944,727 12,905,780 1,484 11,297 21%
19 جموں و کشمیر ریاست 12,541,302 1.04 6,640,662 5,900,640 889 67.16 9,134,820 3,414,106 222,236 56 23.7%
20 اتراکھنڈ ریاست 10,086,292 0.83 5,137,773 4,948,519 963 79.63 7,025,583 3,091,169 53,483 189 19.2%
21 ہماچل پردیش ریاست 6,864,602 0.57 3,481,873 3,382,729 972 82.80 6,167,805 688,704 55,673 123 12.8%
22 تریپورہ ریاست 3,673,917 0.30 1,874,376 1,799,541 960 87.22 2,710,051 960,981 10,486 350 14.7%
23 میگھالیہ ریاست 2,966,889 0.25 1,491,832 1,475,057 989 74.43 2,368,971 595,036 22,429 132 27.8%
24 منی پور ریاست 2,721,756 0.21 1,290,171 1,280,219 992 79.21 1,899,624 822,132 22,327 122 18.7%
25 ناگالینڈ ریاست 1,978,502 0.16 1,024,649 953,853 931 79.55 1,406,861 573,741 16,579 119 -0.5%
26 گوا ریاست 1,458,545 0.12 739,140 719,405 973 88.70 551,414 906,309 3,702 394 8.2%
27 اروناچل پردیش ریاست 1,383,727 0.11 713,912 669,815 938 65.38 1,069,165 313,446 83,743 17 25.9%
28 پدوچیری یوٹی 1,247,953 0.10 612,511 635,442 1,037 85.85 394,341 850,123 479 2,598 27.7%
29 میزورم ریاست 1,097,206 0.09 555,339 541,867 976 91.33 529,037 561,997 21,081 52 22.8%
30 چندی گڑھ یوٹی 1,055,450 0.09 580,663 474,787 818 86.05 29,004 1,025,682 114 9,252 17.1%
31 سکم ریاست 610,577 0.05 323,070 287,507 890 81.42 455,962 151,726 7,096 86 12.4%
32 جزائر انڈمان و نکوبار یوٹی 380,581 0.03 202,871 177,710 876 86.63 244,411 135,533 8,249 46 6.7%
33 دادرا و نگر حویلی یوٹی 343,709 0.03 193,760 149,949 774 76.24 183,024 159,829 491 698 55.5%
34 دمن و دیو یوٹی 243,247 0.02 150,301 92,946 618 87.10 60,331 182,580 112 2,169 53.5%
35 لکشادیپ یوٹی 64,473 0.01 33,123 31,350 946 91.85 14,121 50,308 32 2,013 6.2%
کل بھارت 35 1,210,854,977 100 623,724,248 586,469,174 943 73.00 833,087,662 377,105,760 3,287,240 382 17.64%

مذہبی آبادیات[ترمیم]

2011ء کی مردم شماری کی مذہبی معلومات (ڈیٹا) حکومت بھارت نے 25 اگست 2015ء کو جاری کیں۔[45][46][47] اس کے مطابق بھارت میں 79.8% (966.3 ملین) ہندو[48] اور 14.23% (172.2 ملین) مسلمان ہیں۔[49][49][50][51] اور مسیحی 2.30% (28.7 ملین) ہیں۔ 2011ہ کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں 57,264 پارسی ہیں۔[52][53] پہلی بار، 2011ء کی مردم شماری میں "لا مذہب" کا خانہ رکھا گیا۔[54][55] اس مردم شماری کے مطابق 2.87 ملین بھارتیوں نے خود کو کسی مذہب سے وابستہ نہیں کیا۔[56][57] جو 1.21 بلین کی آبادی کا 0.24% بنتا ہے۔[58][59] مندرجہ ذیل کے جھول میں بھارت کی مذہبی آبادی ک وبلحاظ دہائی بیان کیا گیا ہے۔[60][61][62] Tبھارت میں 6 مذاہب کو "قومی اقلیت" کا درجہ کیا گیا ہے، اس میں– مسلم، مسیحی، سکھ، جین، بودھ اور پارسی شامل ہیں۔[63][64] سنی، شیعہ، بوہری، آغا خانی اور احمدیہ کو اسلام کے فرقے مانا گیا ہے۔[65][66][67] 2011 کی مردم شماری کے مطابق، چھ بڑے عقائد- ہندو، مسلم، مسیحی، سکھ، جین اور بدھ بھارت کی 121 کروڑ آبادی کا 99.4% ہیں، جبکہ “دوسرے مذاہب، عقائد” (او آر پی) کی تعداد 82 طے کی گئی۔ دیگر عقائد والوں میں،چھ عقائد- 49.57 لاکھ سرنا دھرم، 10.26 لاکھ گوند، 5.06 لاکھ ساڑی، ڈونیو پولو (3.02 لاکھ) ارونا چل پر دیش میں،ساناماہی (2.22 لاکھ) منی پور میں،کھاسی (1.38 لاکھ) کو میگھالیہ میں اکثریت حاصل ہے.[68] مہاراشٹر میں 9,652 لادین افراد ہیں، جو ملک بھر میں سب سے بڑی تعداد ہے، اس کے بعد میگھالیہ (9,089) اور کیرلا ہیں۔[69]

بھارت میں بڑے مذہبی گروہوں کی آبادی کے رجحانات (1951ء–2011ء)
مذہبی
گروہ
آبادی
% 1951
آبادی
% 1961
آبادی
% 1971
آبادی
% 1981
آبادی
% 1991
آبادی
% 2001
Population
% 2011[70]
ہندومت 84.1% 83.45% 82.73% 82.30% 81.53% 80.46% 79.80%
اسلام 9.8% 10.69% 11.21% 11.75% 12.61% 13.43% 14.23%
مسیحیت 2.3% 2.44% 2.60% 2.44% 2.32% 2.34% 2.30%
سکھ مت 1.79% 1.79% 1.89% 1.92% 1.94% 1.87% 1.72%
بدھ مت 0.74% 0.74% 0.70% 0.70% 0.77% 0.77% 0.70%
جین مت 0.46% 0.46% 0.48% 0.47% 0.40% 0.41% 0.37%
زرتشتیت 0.13% 0.09% 0.09% 0.09% 0.08% 0.06% n/a
دیگر مذاہب / لا مذہب 0.43% 0.43% 0.41% 0.42% 0.44% 0.72% 0.9%

شرح خواندگی[ترمیم]

7 سال سے بڑی عمر کے ہر فرد کو جو کسی بھی زبان میں لکھنا اور پڑھنا جانتا تھا، اسے خواندہ شمار کیا گیا۔ 1991ء سے بقل کی مردم شماریون مین یہ حد 5 سال تک کے بچوں پر لاگو ہوتی تھی۔ پوری آبادی کی شرح خواندگی کو خام شرح خواندگی قرار دیا جاتا ہے، جب کہ 7 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی شرح خواندگی کو مؤثر شرح خواندگی قرار دیا جاتا ہے۔ مؤثر شرح خواندگی 74.04% تھی، جس میں سے مردوں میں شرح خواندگی 82.14% اور عورتوں میں 65.46% ہے۔[71]

شمار۔ سال مردم شماری (%) کل (%) مرد (%) عورتیں (%)
1 1901 5.35 9.83 0.60
2 1911 5.92 10.56 1.05
3 1921 7.16 12.21 1.81
4 1931 9.50 15.59 2.93
5 1941 16.10 24.90 7.30
6 1951 16.67 24.95 9.45
7 1961 24.02 34.44 12.95
8 1971 29.45 39.45 18.69
9 1981 36.23 46.89 24.82
10 1991 42.84 52.74 32.17
11 2001 64.83 75.26 53.67
12 2011 74.04 82.14 65.46
  • اس جدول میں بھارت کی 1901ء سے 2011ء تک خام شرح خواندگی دی کئی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

ملاحظات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Prior to the creation of Telangana.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Decadal Growth :www.censusindia.gov.in" (پی‌ڈی‌ایف)۔
  2. "India's population — 127,42,39,769 and growing"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. ^ ا ب C Chandramouli۔ "بھارت کی مردم شماری 2011 – اختراعات کی کہانی"۔ پریس انفارمیشن بیورو، حکومت ہند۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "کیا ہمیں واقعی مردم شماری کی ضرورت ہے؟"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Demand for caste census rocks Lok Sabha
  6. "Login"۔
  7. "OBC data not in 2011 Census, says Moily"۔ انڈین ایکسپریس۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2016۔
  8. "No data since 1931, will 2011 Census be all-caste inclusive? – دی ٹائم آف انڈیا"۔ دی ٹائم آف انڈیا۔
  9. "Caste in Census 2011: Is it necessary?"۔ دی ٹائم آف انڈیا۔
  10. "OBCs form 41% of population: Survey – دی ٹائم آف انڈیا"۔ دی ٹائم آف انڈیا۔
  11. "Govt releases socio-economic and caste census for better policy-making"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. "OBc count: 52 or 41%? – دی ٹائم آف انڈیا"۔ دی ٹائم آف انڈیا۔
  13. G.O.K 1971: Appendix XVIII
  14. "Bangladesh and India begin joint census of border areas"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  15. "Census in Indian and Bangladesh enclaves ends"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  16. Vinay Kumar۔ "House listing operations for Census 2011 progressing well"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2011۔
  17. "Census of India 2011; Houselisting and Housing Census Schedule"۔ Government of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2011۔
  18. "Census of India 2011; Household Schedule-Side A"۔ حکومت ہند۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2011۔
  19. "Census of India 2011; Household Schedule-Side B"۔ حکومت ہند۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2011۔
  20. "National population register; Household Schedule"۔ Government of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2011۔
  21. "Census operation in history kicks off"۔ The Hindu۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2010۔
  22. "India launches new biometric census"۔ Yahoo news۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2010۔ [مردہ ربط]
  23. "India launches biometric census"۔ بی بی سی۔ مورخہ 1 اپریل 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2010۔
  24. "India's total population is now 121 crore"۔ LiveMint۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2013۔
  25. "India at Glance – Population Census 2011"۔ Census Organisation of India. 2011۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جنوری 2014۔
  26. "It's official. We are the second most populous nation in the world at 1.2 billion"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  27. "India's total population is now 1.21 billion"۔
  28. "India's total population is 1.21 billion, final census reveals"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  29. "Pakistan counts transgender people in national census for first time"۔
  30. Over 70,000 transgenders in rural India, UP tops list: Census 2011
  31. "Sex ratio worsens in small families, improves with 3 or more children"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  32. "First count of third gender in census: 4.9 lakh"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  33. "Why activists are upset with Census disability numbers"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  34. "Indian States Census 2011"۔ Census Organization of India. 2011۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جنوری 2014۔
  35. "About 68.84 per cent Indians live in rural areas: Census report"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  36. "Rural Urban"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  37. "Every 3rd Indian migrant, most headed south"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  38. Migration in India still largely remains a social rather than an economic phenomenon
  39. Migration in India is slowly becoming more urban and driven by economic factors
  40. "ریاستوں کی فہرست بلحاظ آبادی، جنس تناسب اور خواندگی مردم شماری 2011ء"۔ 2011 Census of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2013۔
  41. "Ranking of States and Union territories by population size: 1991 and 2001" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Government of India (2001)۔ Census of India۔ صفحات 5–6۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2008۔
  42. "Population" (پی‌ڈی‌ایف)۔ حکومت ہند (2011)۔ بھارت کی مردم شماری۔ مورخہ 12 جنوری 2012 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  43. ^ ا ب "Provisional Population Totals"۔ حکومت ہند (2011)۔ Census of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جولائی 2011۔
  44. "Area of India/state/district"۔ حکومت ہند (2001)۔ Census of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اکتوبر 2008۔
  45. Abantika Ghosh, Vijaita Singh۔ "Census 2011: Muslims record decadal growth of 24.6 pc, Hindus 16.8 pc"۔ Indian Express۔ Indian Express۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 جنوری 2015۔
  46. "Hindus 79.8%، Muslims 14.2% of population: census data"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  47. "India Census 2011"۔ Censusindia.gov.in۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2015۔
  48. "India's religions by numbers"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  49. ^ ا ب "Muslim population growth slows"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  50. "Muslim representation on decline"۔ The Times of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2015۔
  51. Share on Twitter۔ "Muslim share of population up 0.8%، Hindus' down 0.7% between 2001 and 2011 – Times of India"۔ Timesofindia.indiatimes.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2016۔
  52. "Where we belong: The fight of Parsi women in interfaith marriages"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  53. "Parsi population dips by 22 per cent between 2001–2011: study"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  54. "The tradition of atheism in India goes back 2,000 years. I'm proud to be a part of that"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  55. "Why a Tinder date is better than 72 virgins in paradise"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  56. "Against All Gods: Meet the league of atheists from rural Uttar Pradesh"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  57. "People without religion have risen in Census 2011, but atheists have nothing to cheer about"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  58. "2.87 million Indians have no faith, census reveals for first time"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  59. "1.88 lakh people in Tamil Nadu state 'no religion' in 2011 census"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  60. "Muslim politics:At a crossroads"۔ livemint.com۔ Livemint۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2014۔
  61. Aariz Mohammed۔ "Demographic Dividend and Indian Muslims – i"۔ Milli Gazette۔ Milli Gazette۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2013۔
  62. Aariz Mohammed۔ "Demographic Dividend and Indian Muslims – i"۔ Milli Gazette۔ Milli Gazette۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2013۔
  63. "National minority status for Jains"۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  64. Jains become sixth minority community
  65. "Sunnis, Shias, Bohras, Agakhanis and Ahmadiyyas were identified as sects of Islam."۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  66. "Protest against inclusion of Ahmediyyas in Muslim census"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  67. "Minority in a minority"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  68. "Fewer minor faiths in India now, finds Census; number of their adherents up"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  69. "God versus Atheism, Bengal vouches for believers"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  70. "Population by religious community – 2011"۔ 2011 بھارت میں مردم شماری۔ Office of the Registrar General & Census Commissioner۔ مورخہ 25 اگست 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2015۔
  71. "Census Provional Population Totals"۔ The Registrar General & Census Commissioner، بھارت۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:بھارت میں مردم شماری