ہند پسندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بھارت پسندی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

ہند پسندی یا بھارت پسندی (انگریزی: Indomania یا Indophilia) سے مراد وہ گہری دل چسپی ہے جو بھارت / ہندوستان، بھارتیوں اور بھارت کی ثقافت میں مغربی دنیا میں پائی جاتی ہے۔ اس میں بھی بطور خاص بر صغیر کی تہذیب و تمدن میں جو دل چسپی جرمنی میں پائی جاتی ہے، وہ مراد ہوتی ہے۔[1] ابتدا میں جو برطانوی دل چسپی رہی تھی، وہ محض اپنے نو قبضہ شدہ علاقہ جات کی حکم رانی تھی۔ مگر اسی کی وجہ سے بہت سے بھارتی امور میں خصوصی دل چسپی دیکھنے میں آئی، بالخصوص یہاں کی ٹقافت اور قدیم تاریخ۔ آگے وہ لوگ جو بھارتی امور میں دل چسپی رکھتے تھے، انہیں ماہرین ہندیات کہا جانے لگا اور ان کے موضوع کو ہندیات کہا جانے لگا۔ اس کی ضد خوف ہند ہے۔

تاریخ[ترمیم]

تاریخی اعتبار سے بھارت کو کئی ثقافتوں کا ملک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اپنی قدیم تہذیب اور تمدن کی وجہ سے ایسی کئی روایات موجود ہیں کہ قابل ذکر لوگ اس ملک کا دورہ کر چکے ہیں اور اس ملک کا تبصرہ کرتے ہوئے کافی تعریف بھی کی۔

فیلوسٹراٹس اپنی کتاب لائف آف اپولونیئس آف تیانا میں یہ تسلیم کر چکا ہے کہ اپولونیئس کا بھارت میں کیا تجربہ رہا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں اپولونیئس نے یوں کہا:

ہندوستان میں میں نے فانیوں کی ایسی نسل کو پائی ہے جو زمین پر رہتی تو ہے، مگر اس سے جڑی نہیں ہے۔ یہ لوگ شہروں میں رہتے تو ہیں، مگر ان سے بندھے نہیں ہیں۔ یہ لوگ سب کچھ رکھتے ہیں، مگر کچھ بھی ان پر گرفت نہیں ہے۔[2]

دوسری صدی کے رومن فلسفی ارین نے بھارت کی تعریف کی اور کہا کہ بھارت آزاد لوگوں کا ملک ہے۔ اس نے یہ حوالہ دیا کہ اس نے بھارت میں کوئی غلام نہیں دیکھا[3] اور اس نے یہ بھی مزید کہا:

کوئی بھی ہندوستانی اپنے ملک کے باہر جنگجویانہ مہم پر روانہ نہیں ہوا، یہ لوگ ایسے راست باز ہیں۔[4]

اٹھارہویں اور انیسویں صدیاں[ترمیم]

ہندوستانی تاریخ و ثقافت سے متعلق یورپیوں کی سوچ اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں کے بیچ دو انتہا پسندیوں میں پھنسی تھی۔ حالاں کہانیسویں صدی کے پورپی محققین یہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان ثقافت کا گہوارہ تھا، ان کی یہ عشق پسندی "خوف ہند" سے بدل گئی جو ہندوستان کی تاریخ و تمدن کو حاشیے پر چھوڑنے لگی تھی۔[5][صفحہ درکار]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Douglas T. McGetchin (2009), Indology, Indomania, and Orientalism: Ancient India's Rebirth in Modern Germany, Fairleigh Dickinson Univ Press, p.17
  2. "Brand New World: How Paupers, Pirates, and Oligarchs are Reshaping Business", .74, by Max Lenderman
  3. "Slavery", by Richard Oluseyi Asaolu
  4. "The Origins of the Europeans: Classical Observations in Culture and Personality", p. 133 by William S. Shelley
  5. تھامس ٹراٹمین 1997, Aryans and British India. Berkeley: University of California Press., Bryant 2001.