بھارت چین تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت چین تعلقات
نقشہ مقام India اور China

بھارت

چین

بھارت چین تعلقات سے مراد بھارت اور چین کے درمیان میں دوطرفہ تعلقات ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں کے تعلقات دوستانہ ہیں مگر سرحدی جھگڑے ہمیشہ سے رہے ہیں۔ دونوں معشیاتی طور پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین جدید تعلقات کا آغاز 1950ء سے ہوتا ہے جب بھارت نے شروع میں ہی تائیوان سے تعلقات ختم کر کے پی آر سی کو برعظیم چین کی مستقل حکومت کے طور پر تسلیم کیا۔ چین اور بھارت دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک (فہرست ممالک بلحاظ آبادی ہیں اور سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرنے والے ممالک (فہرست ممالک بلحاظ خام ملکی پیداوار میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔ دونوں کے درمیان میں باہمی ڈپلومیٹک اور معاشیاتی رشتے مضبوط ہوئے ہیں۔ عہد قدیم سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان میں ثقافتی اور معاشیاتی رشتے رہے ہیں۔ شاہراہ ریشم نہ صرف ایک تجارتی راستہ تھا بلکہ مشرقی ایشیا میں بدھ مت کے پھیلنے کا اہم ذریعہ بھی بنا۔[1] 19ویں صدی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ افیون کی تجارت سے پہلی افیونی جنگ اور دوسری افیونی جنگ کا آغاز ہوا۔[2][3] دوسری جنگ عظیم میں بھارت اور چین دونوں نے مل کر سلطنت جاپان کے زور کو توڑنے اور اس کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔[4] عبوری دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات سرحدی تنازع کی نذر ہو گئے اور اب تک تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں؛ چین بھارت جنگ، 1967ء میں چولا واقعہ اور 1987ء چین بھارت کشمکش۔[5] 2017ء میں دونوں ممالک چین بھوٹان سرحد پر ڈوکلام پلاٹو کو لیکر آمے سامنے ہوئے۔[6] البتہ 1980ء کی دہائی کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے اقتصادی تعلقات کو استوار کیے ہیں۔ 2008ء میں چین بھارت کا سب سے بڑا اقتصادی پارٹنر بنا ساتھی دونوں ممالک نے اپنے حکمت عملی اور فوجی تعلقات بھی مضبوط کیے۔[7][8][9]تجارت اور معاشیات کے علاوہ بھی دونوں ملک کے تعلقات رہے ہیں اور عرصہ دراز تک دونوں ملک ایک دوسرے میں دلچسی لیتے رہے ہیں۔رضاء الکریم لشکر، بھارت کے ایک سیاست دان کے لفظوں میں “فی الحال دونوں ملک عالمی سطح پر تجارت، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی معاشیاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ دیگر میدانوں میں بھی ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں تاکہ مشترک مفاد کی تشہیر کی جاسکے۔“[10] تجارتی اور حکمت عملی تعلقات کے علاوہ ایسے کئی امور ہیں جن کا دونوں ملک ابھی تک کوئی صحیح حل نہیں نکال پائے ہیں مثلاً چین کو فائدہ پہونچانے کے لیے بھارت تجارتی توازن کھو رہا ہے۔ دونوں کے سرحدی معاملات بری طرح الجھے ہوئے ہیں اور ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ چین بھارتی زمین پر قبضہ کررہا ہے۔[11] دونوں ممالک نے سرحد پر اچھی خاصی فوج جمع کررکھی ہے۔[12][13] مزید یہ کہ بھارت پاک چین تعلقات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے۔[14] وہیں بحیرہ جنوبی چین میں بھارتی کی تجارتی آمد و رفت سے چین پریشان ہے۔[15] جون 2012ءچین نے اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “بھارت چین تعلقات“ “اس صدی کی سب سے اہم دوطرفہ تعلقات“ ثابت ہوں گے۔[16] اسی ماہ وزیر اعظم چین وین جیا باو اور وزیر اعظم بھارت منموہن سنگھدونوں ملکوں نے درمیان میں عالمی تجارت کو 2015ء تک 100 بلین امریکی ڈالر تک پہونچانے کا ہقدف بنایا۔[17] 2017-2018ء تک بھارت اور چین کے مابین تجارتی لین دین 89.6 بلین امریکی ڈالر تک پہونچ گیا،[18] لیکن اس میں بھارت کو 62.9 امریکی ڈالر کا تجارتی خسارہ جھیلنا پڑا جس کا سیدھا فائدہ چین کو ہوا۔[19] ہانگ کانگ کے ساتھ بھارت کا لین دین 34 بلین امریکی ڈالر کا تھا۔[20] برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی ) کے مطابق ایک سروے میں پایا گیا کہ 33 فیصد بھارتی چین کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ 35 فیصد بھارتی چین کو بھارت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ وہیں 27 فیصد چینی عوام بھارت کا اچھا مانتی ہے جبکہ 35 فیصد عوام بھارت کو پسند نہیں کرتی ہے۔[21] پیو ریسرچ سینٹر نے 2014ء میں ایک سروے کیا جس میں پتہ چلا کہ 72 فیصد بھارتی مانتے ہیں بھارت اور چین کے درمیان میں سرحدی تنازع جنگ کی صورت حال اختیار کرلے گی۔[22]

جغرافیائی جائزہ[ترمیم]

مغربی اور جنوبی ایشیا کا نقشہ۔ بھارت اور چین کی سرحدیں اروناچل پردیش میں ملتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Maria Backus۔ Ancient China۔ Lorenz Educational Press, 2002۔ آئی ایس بی این 978-0-7877-0557-2۔
  2. Hunt Janin۔ The India-China opium trade in the nineteenth century۔ McFarland, 1999۔ آئی ایس بی این 978-0-7864-0715-6۔
  3. Tansen Sen۔ Buddhism, Diplomacy, and Trade: The Realignment of Sino-Indian Relations, 600-1400۔ University of Hawaii Press۔ آئی ایس بی این 978-0-8248-2593-5۔
  4. Barbara Williams۔ World War Two۔ Twenty-First Century Books, 2004۔ آئی ایس بی این 978-0-8225-0138-1۔
  5. "www.apcss.org/core/BIOS/malik/India-China_Relations.pdf" (پی‌ڈی‌ایف)۔[مردہ ربط]
  6. Manoj Joshi، Doklam: To start at the very beginning، Observer Research Foundation
  7. John Lancaster۔ "India, China Hoping to 'Reshape the World Order' Together"۔ The Washington Post۔ مورخہ 9 فروری 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "Why Indo-China ties will be more favourable than Sino-Pak"۔ Theworldreporter.com۔ مورخہ 19 اکتوبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. India-China trade surpasses target، The Hindu، 27 جنوری 2011.
  10. Laskar، Rejaul (دسمبر 2013). "Promoting National Interest Through Diplomacy". Extraordinary and Plenipotentiary Diplomatist 1 (9): 60. 
  11. Jeff M. Smith today's Wall Street Journal Asia۔ "The China-India Border Brawl"۔ WSJ۔ مورخہ 10 جولائی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2016۔
  12. Jeff M. Smith today's Wall Street Journal Asia۔ "The China-India Border Brawl"۔ WSJ۔ مورخہ 10 جولائی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2016۔
  13. AK Antony admits China incursion نسخہ محفوظہ 30 ستمبر 2011 در وے بیک مشین، DNA, 28 ستمبر 2011.
  14. "China-Pakistan military links upset India"۔ Financial Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2016۔
  15. China warns India on South China Sea exploration projects نسخہ محفوظہ 24 ستمبر 2011 در وے بیک مشین، The Hindu، 15 ستمبر 2011.
  16. "US, China woo India for control over Asia-Pacific"۔ The Times Of India۔
  17. "India-China bilateral trade set to hit $100 billion by 2015 – The Times of India"۔ The Times of India۔ مورخہ 24 جون 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اگست 2012۔
  18. "With US trade under a cloud, China opens to Indian pharma"۔
  19. https://economictimes.indiatimes.com/news/economy/foreign-trade/india-china-bilateral-trade-hits-historic-high-of-usd-84-44-bln-in-2017/articleshow/63203371.cms
  20. https://www.livemint.com/Politics/IiMAWzG8C7MRi85S9OSoUO/Hong-Kong-can-be-Indias-gateway-to-China-Gautam-Bambawale.html
  21. 2014 World Service Poll نسخہ محفوظہ 10 اپریل 2016 در وے بیک مشین برطانوی نشریاتی ادارہ
  22. "Chapter 4: How Asians View Each Other"۔ پیو ریسرچ سینٹر۔ مورخہ 15 اکتوبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2015۔