مندرجات کا رخ کریں

بھارت کا فن تعمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کیلاش مندر, ایلورا is an example of Indian rock-cut architecture.
Tamil architecture of میناکشی مندر
Patwon ki Haveli, Jaisalmer. Rows of sandstone haveli in Rajasthan.
The تاج محل, Agra is the epitome of Mughal architecture.
بی بی ڈی باغ, built during British Raj period, is an example of the fusion of Indian and Renaissance architecture.
Padmanabhaswamy Temple in تروواننتاپورم, کیرلا

بھارت کا فن تعمیر دنیا کے قدیم ترین اور متنوع فن تعمیر میں سے ایک ہے، جو ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور مذہبی روایات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بھارت کی تعمیراتی روایات وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر موجودہ دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ فن تعمیر مذہبی، ثقافتی اور سیاسی اثرات کا عکاس ہے۔

تاریخ

[ترمیم]

وادی سندھ کی تہذیب

[ترمیم]

بھارت میں فن تعمیر کی ابتدا وادی سندھ کی تہذیب (تقریباً 3300–1300 قبل مسیح) سے ہوئی۔ اس دور کی عمارتیں منصوبہ بند شہروں کی شکل میں تھیں، جیسے موہنجو دڑو اور ہڑپہ۔ یہ شہر نکاسی آب، گلیوں کی ترتیب اور مضبوط اینٹوں کی تعمیر کے لیے مشہور ہیں۔[1]

موریا اور گپتا دور

[ترمیم]

موریا سلطنت (322–185 قبل مسیح) کے دور میں فن تعمیر نے ترقی کی۔ اشوک اعظم کے دور میں پتھر کے ستون اور ستوپے تعمیر کیے گئے، جو بدھ مت کے فن تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔[2] گپتا سلطنت (320–550 عیسوی) کے دور کو ہندوستانی فن تعمیر کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں مندروں اور غاروں کی تعمیر میں بہت ترقی ہوئی۔[3]

قرون وسطی اور مغلیہ دور

[ترمیم]

قرون وسطی کے دور میں ہندو مت اور بدھ مت کے مندروں کی تعمیر عروج پر تھی۔ مغلیہ سلطنت (1526–1857) کے دور میں اسلامی فن تعمیر نے بھارت میں اپنا اثر چھوڑا۔ تاج محل، فتح پور سیکری اور لال قلعہ جیسی عمارتیں مغلیہ فن تعمیر کی بہترین مثالیں ہیں۔[4]

جدید دور

[ترمیم]

جدید دور میں بھارت کے فن تعمیر نے نئے رجحانات اختیار کیے ہیں۔ جدید مواد اور تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے معماروں نے نئے انداز میں عمارتیں تعمیر کی ہیں۔ چندی گڑھ اور لوٹس ٹیمپل جیسی عمارتیں جدید ہندوستانی فن تعمیر کی عکاس ہیں۔[5]

اہم خصوصیات

[ترمیم]

بھارت کے فن تعمیر کی کئی اہم خصوصیات ہیں:

مذہبی تنوع: ہندو، بدھ، جین اور اسلامی فن تعمیر کے عناصر کا امتزاج۔

تفصیلات اور خوبصورتی: عمارتوں پر نفیس نقاشی اور کندہ کاری۔

مستحکم ڈھانچہ: پتھر اور اینٹوں کا استعمال۔

فطری ہم آہنگی: عمارتوں کا فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا۔[6]

اہم مقامات

[ترمیم]

تاج محل، آگرہ، بھارت

قطب مینار، دہلی، بھارت

کھجوراہو، مدھیہ پردیش، بھارت

ہمپی، کرناٹک، بھارت

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Harappa.com"۔ Harappa۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-10-10
  2. "Indian Architecture"۔ Encyclopedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-10-10
  3. Susan L. Huntington (1985)۔ The Art of Ancient India: Buddhist, Hindu, Jain۔ Weatherhill۔ ISBN:978-0-8348-0178-4 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت)
  4. "The Art of the Mughals after 1600"۔ The Metropolitan Museum of Art۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-10-10
  5. Jon T. Lang (2002)۔ "Modern Architecture in India"۔ Journal of Architectural Education۔ ج 55 شمارہ 4: 220–229۔ DOI:10.1162/104648802760095231
  6. Christopher Tadgell (1990)۔ The History of Architecture in India۔ Phaidon Press۔ ISBN:978-0-7148-2930-9 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت)

ماخذ

[ترمیم]

سانچہ:Indian art

مزید دیکھیے

[ترمیم]