بھارت کی ریاستیں اور یونین علاقے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بھارت کی ذیلی تقسیم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
بھارت کی ریاستیں اور یونین علاقے


<maplink>: Couldn't parse JSON: نحوی غلطی
زمرہ وفاقی ریاستs
مقام بھارت
تعداد 29 States
7 Union territories
آبادی States: سکم – 610,577 (lowest); اتر پردیش – 199,812,341(highest)
Union Territories: لکشادیپ – 64,473 (lowest); دہلی – 16,787,941 (highest)
رقبہ States: 3,702 کلومیٹر2 (1,429 مربع میل) گوا – 342,269 کلومیٹر2 (132,151 مربع میل) راجستھان
Union territories: 32 کلومیٹر2 (12 مربع میل) لکشادیپ – 8,249 کلومیٹر2 (3,185 مربع میل) جزائر انڈمان و نکوبار
حکومت State governments, حکومت ہند (Union territories)
ذیلی تقسیمات ضلع، بھارت کی انتظامی تقسیم

بھارت ایک فیڈرل اتحاد ہے جس میں کل 29 وفاقی ریاستیں اور 7 یونینو علاقے ہیں۔ اس طرح کل تعداد 36 ہوئی۔ یہ ریاستیں اور یونین علاقے ضلعوں میں منقسم ہوتے ہیں اور اس طرح بھارت کی انتطامی تنقسیم بنتی چلی جاتی ہے۔

ذمہ داریاں اور حکام[ترمیم]

آئین ہند تمام ریاستوں اور یونین علاقوں میں انتظامی اور قانونی اختیارات تقسیم کرتا ہے اور مرکز اور ریاست کے مابین منقسم ہوتے ہیں۔[1]

تاریخ[ترمیم]

ماقبل آزادی[ترمیم]

برصغیر پر مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ کئی خاندانوں نے حکومت کی ہے اور ہندوستان کی تاریخ نے متعدد عظیم الشان سلطنتیں دیکھی ہیں۔ ہر حکومت نے اپنی الگ پالیسی اپنائی اور اپنے حساب سے ملک کی انظامی تقسیم کی۔[2][3][4][5][6][7][8][9][10][11][12]سانچہ:Overcite برطانوی راج میں انتظامی تقسیم کے ساتھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی اور ملک کو نوابی ریاستوں میں منقسم ہرنے دیا جنہیں وہ پروونس یا ریاست کہتے تھے۔ یہ تمام ریاستیں براہ راست حکومت برطانیہ کے زیر نگیں تھے۔

1947ء-1950ء[ترمیم]

آزادی کے بعد 1950ء تک زیادہ تر نوابی ریاستیں بھارت میں ضم کرلی گئیں۔ کئی پہلے کی ریاستیں اہنے جغرافیائی حالت پر بحال رہیں جبکہ کچھ نئی ریاستیں یا صوبے بنائے گئے جیسے راجپوتانہ، ہماچل پردیش، مدھیہ بھارت اور وندھیا پردیش۔ ان کو مزید ریاستوں میں منقسم کیا گیا۔ کچھ نوابی ریاستیں مستقل ریاست بن گئی جیسے ریاست میسور، ریاست حیدراباد، ریاست بھوپال اور ریاست بلاس پور۔

نیا آئین ہند 26 جنوری 1950ء کو نافذ العمل ہوا جس میں بھارت کو آزاد، جمہوری ملک قرار دیا گیا۔ نیا جمہوری ملک ریاستوں کا اتحاد قرار پایا۔[13] نئے آئین میں تین طرح کی ریاستوں کے درمیان میں تفریق کی گئی ہے۔

1951ء-1956ء[ترمیم]

1954ء میں فرانسیسی علاقہ پدوچیری ضلع کو پدوچیری یونین علاقہ بنایا گیا۔ اس میں کاراتکال اور ماہے کو بھی ضم کیا گیا۔[14] 1 اکتوبر 1953ء کو ریاست مدراس کے تیلگو زبان کے علاقوں پر مشتمل آندھرا پردیش بنایا گیا۔[15] اس کے بعد حکومت ہند نے 1956ء میں ایک ایکٹ منظور کیا جس کے رو سے کئی نئی ریاستیں وجود میں آئیں اور متعدد کی سرحدیں تبدیل ہوئیں۔[16] [17]

بھارت کی ریاستیں[ترمیم]

بھارت کی ریاستیں
نام آیزو 3166-2:IN[18] آبادی علاقہ
(km2)
دفتری
زبان
پایۂ تخت عظیم ترین شہر
(پایۂ تخت کے علاوہ)
کثافتِ آبادی شرحِ خواندگی(%) کل آبادی کے مطابق شہری آبادی کا تناسب شرحِ جنس
آندھرا پردیش AP 84,665,533 275,045 تیلگو، اردو، انگریزی حیدر آباد دکن 308 67.66 27.3 992
اروناچل پردیش AR 1,382,611 83,743 انگریزی اٹانگر 17 66.95 20.8 920
آسام AS 31,169,272 78,550 آسامی، بوڈو (علاقائی)، کربی زبان دسپور گوہاٹی 397 73.18 12.9 954
بہار BR 103,804,637 99,200 اردو، ہندی، میتھلی، مگدھی پٹنہ 1102 63.82 10.5 916[19]
چھتیس گڑھ CT 25,540,196 135,194 چھتیس گڑھی، اردو، ہندی رائے پور 189 71.04 20.1 991
گوا GA 1,457,723 3,702 کونکنی پناجی واسکو دا گاما 394 87.40 62.2 968
گجرات GJ 60,383,628 196,024 گجراتی، ہندی، انگریزی گاندھی نگر احمد آباد 308 79.31 37.4 918
ہریانہ HR 25,353,081 44,212 ہندی، ہریانوی (علاقائی) چندی گڑھ
(شراکت شدہ، متحدہ عملداری)
فرید آباد 573 76.64 28.9 877
ہماچل پردیش HP 6,856,509 55,673 ہندی شملہ 123 83.78 9.8 920
جموں و کشمیر JK 12,548,926 222,236 اردو ،[20] کشمیری، ڈوگری سری نگر (گرما)
جموں (سرما)
124 68.74 24.8 883
جھارکھنڈ JH 32,966,238 74,677 اردو، ہندی رانچی جمشید پور 414 67.63 22.2 947
کرناٹک KA 61,130,704 191,791 اردو، کنڑا بنگلور 319 75.60 34.0 968
کیرالا KL 33,387,677 38,863 ملیالم، انگریزی ترواننت پورم 859 93.91 26.0 1,084
مدھیہ پردیش MP 72,597,565 308,252 اردو، ہندی بھوپال اندور 236 70.63 26.5 930
مہاراشٹر MH 112,372,972 307,713 مراٹھی، اردو ممبئی 365 82.91 42.4 925
منی پور MN 2,721,756 22,347 منی پوری امپھال 122 79.85 25.1 987
میگھالیہ ML 2,964,007 22,720 کھاسی، پنار زبان، گارو، ہندی، انگریزی شلونگ 132 75.48 19.6 986
میزورم MZ 1,091,014 21,081 میزو آئیزول 52 91.58 49.6 975
ناگالینڈ NL 1,980,602 16,579 انگریزی کوہیما دیماپور 119 80.11 17.2 931
اوڈیشا [21] OR 41,947,358 155,820 اڑیہ بھوبنیشور 269 73.45 15.0 978
پنجاب (بھارت) PB 27,704,236 50,362 پنجابی، ہندی چندی گڑھ
(شراکت شدہ، متحدہ عملداری)
لدھیانہ 550 76.68 33.9 893
راجستھان RJ 68,621,012 342,269 ہندی جے پور 201 67.06 23.4 926
سکم SK 607,688 7,096 Nepali، سکمی زبان، Lepcha، Limbu، نیواڑی زبان، Kulung،[حوالہ درکار] Gurung، Manggar، Sherpa، Tamang، Sunwar گنگٹوک 86 82.20 11.1 889
تمل ناڈو TN 72,138,958 130,058 تمل چینائی 480 80.33 44.0 995
تریپورہ TR 3,671,032 10,491.69 بنگالی، تری پوری اگرتلا 555 87.75 17.1 961
اتر پردیش UP 199,581,477 243,286 اردو، ہندی[22] لکھنؤ کانپور 828 69.72 20.8 908
اتراکھنڈ UT 10,116,752 53,566 ہندی، سنسکرت دہرادون (interim) 189 79.63 25.7 963
مغربی بنگال WB 91,347,736 88,752 بنگالی، انگریزی کولکاتا 1,029 77.08 28.0 947
متحدہ عملداریاں
نام آیزو 3166-2:IN[18] آبادی دفتری
زبان
پایۂ تخت عظیم ترین شہر گاؤں کے اعداد شہر کے اعداد کچافتِ آبادی شرحِ خواندگی(%) کل آبادی پر شہری آبادی کا تناسب شرحِ جنس
جزائر انڈمان و نکوبار AN 379,944 ہندی، تمل، تیلگو، انگریزی پورٹ بلیئر 547 3 46 86.27 32.6 878
چندی گڑھ CH 1,054,686 ہندی، انگریزی، پنجابی چندی گڑھ 24 1 9,252 86.43 89.8 818
دادرا اور نگر حویلی DN 342,853 ہندی، گجراتی، انگریزی سلواسا 70 2 698 77.65 22.9 775
دمن و دیو DD 242,911 مراٹھی، گجراتی، انگریزی، ہندی دمن 23 2 2169 87.07 36.2 618
لکشادیپ LD 64,429 ملیالم، انگریزی کواراتی آندروت 24 3 2013 92.28 44.5 946
قومی دارالحکومتی عملداری دہلی DL 16,753,235 دہلی 165 62 11,297 86.34 93.2 866
پونڈیچری PY 1,244,464 فرانسیسی، تمل تیلوگو (علاقائی)، ملیالم (علاقائی) پونڈیچیری 92 6 2,598 86.55 66.6 1,038

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Article 73 broadly stated, provides that the executive power of the Union shall extend to the matters with respect to which Parliament has power to make laws. Article 162 similarly provides that the executive power of a State shall extend to the matters with respect to which the Legislature of a State has power to make laws. The Supreme Court has reiterated this position when it ruled in the Ramanaiah case that the executive power of the Union or of the State broadly speaking, is coextensive and coterminous with its respective legislative power." Territoriality of executive powers of states in India، Balwant Singh Malik, Constitutional Law، 1998
  2. Krishna Reddy۔ Indian History۔ New Delhi: Tata McGraw Hill۔ آئی ایس بی این 978-0-07-048369-9۔
  3. Ramesh Chandra Majumdar۔ Ancient India۔ Motilal Banarsidass Publishers۔ آئی ایس بی این 978-81-208-0436-4۔
  4. Romila Thapar۔ A History of India: Part 1۔
  5. V.D. Mahajan۔ History of medieval India (اشاعت 10th۔)۔ New Delhi: S Chand۔ صفحات 121, 122۔ آئی ایس بی این 978-8121903646۔
  6. K.A. Antonova؛ G. Bongard-Levin؛ G. Kotovsky۔ A History of India Volume 1۔ Moscow, USSR: Progress Publishers۔
  7. Gupta Dynasty – MSN Encarta۔ مورخہ 1 نومبر 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  8. "India – Historical Setting – The Classical Age – Gupta and Harsha"۔ Historymedren.about.com۔ 2 نومبر 2009۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2010۔
  9. K.A. Nilakanta Sastri۔ A history of South India from prehistoric times to the fall of Vijayanagar۔ New Delhi: Indian Branch, Oxford University Press۔ صفحہ 239۔ آئی ایس بی این 978-0-19-560686-7۔
  10. Satish Chandra۔ Medieval India: From Sultanate To The Mughals۔ صفحہ 202۔
  11. "Regional states, c. 1700–1850"۔ Encyclopædia Britannica, Inc.۔
  12. J. S. Grewal۔ "Chapter 6: The Sikh empire (1799–1849)"۔ The Sikh empire (1799–1849)۔ The New Cambridge History of India۔ Cambridge University Press۔
  13. "Article 1"۔ Constitution of India۔ مورخہ 2 اپریل 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  14. "Reorganisation of states" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Economic Weekly۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2015۔
  15. "Map of Madras Presidency in 1909"۔ 2011-03-28۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اکتوبر 2013۔
  16. en:States Reorganisation Act, 1956
  17. https://indiankanoon.org/doc/1211891/
  18. ^ ا ب "Code List: 3229"۔ UN/EDIFACT۔ GEFEG۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2012۔
  19. http://censusindia.gov.in/2011-prov-results/data_files/bihar/Provisional%20Population%20Totals%202011-Bihar.pdf
  20. About Republic Day of India (26 جنوری)
  21. "Orissa's new name is Odisha"۔ The Times Of India۔ 24 مارچ 2011۔
  22. http://uplegassembly.nic.in/UPLL.HTML