بھارت کے اہم گھوٹالوں کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سنہ 1947ء یعنی بھارت کی آزادی سے اب تک اس ملک میں خاصے بڑے گھوٹالے سامنے آئے ہیں، ذیل میں بھارت کے ان بڑے گھوٹالوں کی مختصر فہرست درج ہے۔ گھوٹالوں کی اس فہرست میں سیاسی، معاشی، تجارتی وغیرہ ہر طرح کے گھوٹالے شامل ہیں۔ فہرست میں ان کے اندراج سنہ وار کیے گئے ہیں اور جو سنہ درج کیا گیا ہے اس سے مراد وہ سال ہے جس میں گھوٹالا منظر عام پر آیا اور لوگوں کو اس کی خبر ہوئی۔

جیپ خریدی (1948ء)

آزادی کے بعد ہندوستان کی حکومت نے لندن کی ایک کمپنی سے 2000 جیپوں کا سودا کیا۔ یہ سودا 80 لاکھ روپوں میں طے ہوا تھا۔ لیکن صرف 155 جیپیں ہی مل پائیں۔ گھوٹالے میں برطانیہ میں موجود اس وقت کے بھارتی ہائی کمشنر وی کے کرشن مینن کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آئی۔ لیکن سنہ 1955ء میں اس کی تفتیش روک کر معاملہ ختم کر دیا گیا اور جلد ہی کرشنن مینن نہرو كابینہ میں شامل ہو گئے۔

سائیکل درآمد (1951ء)

اس وقت تجارت اور صنعت کی وزارت کے معتمد ایس اے وینکٹ رامن نے ایک کمپنی کو سائیکل درآمد کا کوٹا دیے جانے کے بدلے میں رشوت لی۔ تاہم بعد ازاں اس رشوت کے لیے انہیں جیل جانا پڑا۔

مُنْدھرا میس (1958ء)

هری داس مندھرا کی طرف سے قائم چھ کمپنیوں میں لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا کے 1.2 کروڑ روپیے سے متعلق معاملہ سامنے آیا۔ اس میں اس وقت کے وزیر خزانہ ٹی ٹی کرشنامچاری، معتمد خزانہ ایچ ایم پٹیل، ایل آئی سی چیئرمین ایل ایس ویدياناتھن کا نام سامنے آیا۔ اور کرشنامچاری کو استعفا اور مندھرا کو جیل جانا پڑا۔

تیجا قرض

1960ء میں ایک تجارت پیشہ شخص دھرم تیجا نے ایک شپنگ کمپنی شروع کرنے کے لیے حکومت سے 22 کروڑ روپے کا قرض لیا۔ لیکن بعد میں ان پیسوں کو ملک سے باہر بھیج دیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد اس شخص کو یورپ میں گرفتار کیا گیا اور اسے چھ سال کی قید ہوئی۔

پٹنائک معاملہ

1965ء میں اڑیسہ کے وزیر اعلٰی بیجو پٹنائک کو استعفی دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔ ان پر انہی کی زیر ملکیت کمپنی 'كلگ ٹیوبس' کو ایک سرکاری کنٹریکٹ دلانے کے لیے مدد کرنے کا الزام تھا۔

ماروتی گھوٹالا

ماروتی کمپنی بننے سے پہلے یہاں ایک گھوٹالا ہوا جس میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کا نام سامنے آیا۔ اس معاملے میں مسافر کار بنانے کا اجازت نامہ دینے کے لیے سنجے گاندھی کی مدد کی گئی تھی۔

تیل کے کنوؤں کا معاملہ

1976ء میں تیل کے گرتے داموں کے مد نظر انڈین آئیل کارپوریشن نے ہانگ کانگ کی ایک فرضی کمپنی سے تیل معاملت طے کی۔ اس میں بھارتی حکومت کو 13 کروڑ کا نقصان ہوا۔ خیال ہے کہ اس معاملے میں اندرا اور سنجے گاندھی کا بھی ہاتھ تھا۔

انتولے ٹرسٹ

1981ء میں مہاراشٹر میں سیمنٹ گھوٹالا ہوا۔ اس وقت مہاراشٹر کے وزیر اعلی عبدالرحمان انتولے پر الزام لگا کہ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیے جانے والا سیمنٹ کو پرائیویٹ بلڈروں کو دے رہے ہیں۔

ایچ ڈی ڈبلیو دلالی (1987ء)

جرمنی کی آبدوز تعمیر کرنے والی کمپنی ایچ ڈی ڈبلیو کو سیاہ فہرست میں ڈال دیا گیا۔ معاملہ یہ تھا کہ اس نے 20 کروڑ روپیے بطور کمیشن دیے تھے۔ 2005ء میں کیس بند کر دیا گیا اور فیصلہ ایچ ڈی ڈبلیو کے حق میں رہا۔

بوفورس گھوٹالا

1987ء میں سویڈن کی ایک کمپنی بوفورس اے بی،سے رشوت لینے کے معاملے میں راجیو گاندھی سمیت کئی بڑے رہنما ملوث تھے۔ معاملہ یہ تھا کہ ہندوستانی 155 ملی میٹر کے میدان لے ہاویٹزر کی بولی میں رہنماؤں نے تقریبا 64 کروڑ روپے کا گھپلا کیا تھا۔

سیکورٹی گھوٹالا (ہرشد مہتا گھوٹالا)

1992ء میں ہرشد مہتا نے دھوكا دہی سے بینکوں کا پیسہ بازار حصص میں لگا دیا تھا، جس سے بازار حصص کے تقریباً 5000 کروڑ روپیے کا نقصان ہوا۔

انڈین بینک

1992ء میں بینک سے چھوٹے صنعتکاروں اور درآمدکنندوں نے انڈین بینک سے تقریبًا 13000 کروڑ روپے قرض لیے۔ لیکن یہ پیسے انہوں نے کبھی نہیں لوٹائے۔ اس وقت بینک کے چیئرمین ایم گوپالاكرشن تھے۔

چارہ گھوٹالا
1996ء میں بہار (بھارت) کے اس وقت کے وزیر اعلٰی لالو پرساد یادو اور دیگر رہنماؤں نے ریاست کے جانوروں کی افزائش نسل محکمے کو لے کر دھوكے بازی سے لیے گئے 950 کروڑ روپے مبینہ طور پر غبن کیے تھے۔
تہلکہ

آن لائن خبروں کے اس پورٹل نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے آفیسر اور سیاست دانوں کو رشوت لیتے ہوئے پکڑا۔ یہ بات سامنے آئی کہ حکومت کی طرف سے کی گئی 15 دفاعی معاملتوں میں خاصی گھپلے بازی ہوئی ہے اور اسرائیل سے کی جانے والی بارک میزائل معاملت بھی ان میں سے ایک ہے۔ رشوت کے ان معاملتوں میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے کابینی وزرا اور حتی کہ ان کی متبنیٰ بیٹی کے شوہر پر بھی اس گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام عائد ہوا تھا۔

بازار حصص

حصص کے دلال کیتن پاريكھ نے بازار حصص میں 1،15،000 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا۔ دسمبر 2002ء میں انہیں گرفتار کیا گیا۔

اسٹامپ کاغذات کا گھوٹالا

یہ کروڑوں روپیے کے فرضی اسٹامپ پیپر کا گھوٹالا تھا۔ اس گروہ کو چلانے والا شاطر دماغ عبد الکریم تیلگی تھا۔ الزام ہے کہ اس کے کئی سیاست دانوں سے روابط تھے جن میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلٰی اور سیاسی جماعت راشٹروادی کانگریس پارٹی کے حالیہ صدر شرد پوار بھی شامل تھے۔

ستیم گھوٹالا

2008ء میں ملک کی چوتھی بڑی سافٹ ویئر کمپنی ستیم کمپیوٹرز کے بانی صدر راملگا راجو کی جانب سے 8000 کروڑ روپیے کا گھوٹالہ کا معاملہ سامنے آیا۔ راجو نے مانا کہ گزشتہ سات برسوں سے وہ کمپنی کے کھاتوں میں ہیرا پھیری کر رہا تھا۔

دولت کا بے جا اسراف

2009ء میں بھارت کی نوتشکیل شدہ ریاستوں میں سے ایک ریاست جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلٰی مدھو کوڈا کے چار ہزار کروڑ روپیے کا غبن سامنے آیا۔ مدھو کوڑا کی اس جائداد میں ہوٹلیں، تین کمپنیاں، کلکتہ کی جائداد، تھائی لینڈ میں ایک ہوٹل اور لائبیریا میں کوئلے کی کان شامل تھی۔