بھارت کے دیگر نام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
"قدیم ہندوستانی مملکتوں کا نقشہ" اتیہاسوں کا دور۔

بھارت کے دیگر نام یا ہندوستان کے نام : جدید بھارت کے قدیم نام ہندوستان کے چار نام ہیں۔

  • پہلیا نام جمبُو دویپ (جمبو دیپ)۔ یہ نام ویدوں میں مذکور ہے۔

یہ نام آج بھی ہندو مت کے منتروں اور دعاؤں میں پڑھا جاتا ہے (مثلاً : جمبو دویپے، میرو دکھشن بھاگے، شریشیلا اترا بھاگے، کرشن گوداوری مدھیہ ستھانے۔۔۔۔)۔ جمبو کے معنی جامن پھل کے ہیں، اس ملک میں جامن زیادہ پائے جاتے ہیں اس لیے یہ نام مروج ہے۔

  • اس کے بعد دیا گیا نام بھارتادیشم (بھارت دیش) یا بھرت ورشم (بھرت ورش)، اس کی وجہ اُس دور کے راجا بھرت کا نام۔ بھرت، وشوامتر اور میناکا کی بیتی شکنتلا کے بیٹے تھے۔
  • پھر اُس کے بعد دیاگیا نام ہندوستان، یہ نام دریائے سندھ سے موسوم ہے۔ قدیم فارسی لوگ، یونانی لوگ، دریائے سندھ کے اُس پار والے ملک کی بنا پر ہندوستان یا ہند پکارتے تھے۔
  • اُس کے بعد کے دور میں ہندوستان یا ہند یا ہندودیش کئی مراحل سے گزرا اورانڈیا نام پایا۔ برطانوی تجار اور حکومت برطانیہ میں یہ نام خاص طور سے مروج ہو گیا۔

انڈیا[ترمیم]

یہ انگریزی لفظ ہے، جو یونانی لفظ Ἰνδία, لاطینی لفظ انڈیا. Ἰνδία بازنطینی زبان میں دریائے سندھ (Ἰνδός) کے اُس پار والا ملک کہاجاتا تھا۔ 5ویں صدی ق۔ م۔ میں ہیروڈوٹس پالیٹونک زبان میں انڈیان لینڈ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ (ἡ Ἰνδική χώρη) اویستن میں ہندُس (دریائے سندھ کو ظاہر کرتا ہے) اور داریوش نے بھی ہندُس لفظ استعمال کیا۔ سنسکرت زبان میں سندھو (دریائے سندھ کا نام) استعمال کیا گیا۔ آخر کار سنسکرت زبان کا لفظ سندھ اور لاطینی لفظ انڈیا قرار پائے گئے۔[1] سنسکرت لفظ اندو، جو چاند کا نام ہے، اس نام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

بھارت[ترمیم]

جغرافیائی علاقہ، اس میں بھارت-بر صغیر کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ویدک تہذیب سے متعلق آریہ ورت لوہے کے دور میں۔

نام بھارت، دستور ہند کے دفعہ ایک تحت ریاستہائے بھارت، بھارت ریپبلک (بھارت جمہوریہ یا جمہوریہ بھارت)، سنسکرت سے ماخوذ سرکاری نام ہے۔

سنسکرت لفظ بھاراتا سے بھارت اخذ کیا گیا ہے۔

وشنو پوران (2.3.1) سے [1][2]

اتارم یتسمدرسیہ ہمادرسچیئو دکشنم
ورش تد بھارتم نام بھارتی یتر سنتتیہ
uttaraṃ yatsamudrasya himādreścaiva dakṣiṇam
varṣaṃ tadbhārataṃ nāma bhāratī yatra santatiḥ
उत्तरं यत्समुद्रस्य हिमाद्रश्चैव दक्षिणम् ।
वर्षं तद् भारतं नाम भारती यत्र संततीः ।।

ورشم (ملک) بحر کے شمال میں، برفیلے پہاڑوں کے جنوب میں واقع، جسے بھارتم کہا جاتا ہے، یہاں بھارتی قوم بستی ہے۔ سنسکرت ادب سے لیا گیا، جمہوریہ بھارت کا نام بھاراتا دیشم، صرف بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے علاوہ افغانستان کے کئی علاقوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ، 304 ق۔ م۔ میں موریا سلطنت اور 16ویں صدی عیسوی کے مغلیہ سلطنت، مراٹھا سلطنت اور برطانوی حکومت کے ادوار میں بھی استعمال کیا گیا۔

ہندوستان اور ہند[ترمیم]

اشوک، موریا سلطنت کے دور کے فرمانیں، [2] یونانی ارامی زبانوں میں کندہ کیے گئے ہین، جو ائی قونم تک دیکھے جاسکتے ہیں۔

لفظ یا نام ہند فارسی زبان سے ماخوذ ہے، اس کا مترادف لفظ ہند آریائی زبانوں میں سندھ اور اویستن زبان کا لفظ ستھان ملک یا رہائش کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

بھارت کو فارسی زبان میں ہندوستان اور عربی زبان میں الہند ہے (جئے ہند میں ہند کی طرح)

ہند اور ہندوستان نام جو عربی اور فارسی کے ہیں، 11ویں صدی سنہ عیسوی سے، مسلم سلاطین کے دور سے رائج ہے۔ سلطنت مملوک ور مغلیہ دور میں یہ دو نام کافی مشہور اور عام استعمال کے تھے۔

سنسکرت لفظ ہندو اور فارسی لفظ ہندو دونوں مترادف ہیں۔

لفظ ہند، اردو، فارسی، سنسکرت اور ہندی میں عام ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان زبانوں کی ہم آہنگی اور عوامی زبانوں کا اشتراک ایک اچھی خوبی ہے۔

آریہ دیش[ترمیم]

ہندو مت کی کتبیں مچلاً منو سمروتی اور بدھ مت کی چند کتابوں میں آریہ دیش لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں ہندوستان کو آریہ ورت اور آریہ ورتم کے نام سے پکارا گیا ہے۔ آریہ، آریہ دھرما، آرین وغیرہ الفاظ آریائی قبیلہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک تامل شاعر اپنی نظم میں بھارت کو آریا ناڑو کے نام سے ذکر کیا ہے۔[3] 'آریہ' کا مطلب افضل یا اشرف کے ہیں اور ناڑو کا مطلب علاقہ کے ہیں ِ۔

تاریخی وضاحتیں[ترمیم]

ق۔ م۔ 1500 سے بھی قدیم تاریخ وضاحتیں مندرجہ ذیل ہیں۔[4]

سال نام وسائل وضاحت
ق۔ م۔ 486 ہندوش نقس رستم داریوش بادشاہ یوں بیان کرتا ہے۔ اورمزد کے فضل سے، فارس کے اُس پار کی زمیں جس پر میں نے قبضہ کیا اور اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ہے۔ وہ میرے خراجی ممالک ہیں۔ اور میرے فرمانوں کو مانتے ہیں۔ میدیا، حرواتش، تتاغش، گنداریا اور ہدوش۔
ق۔ م۔ 440 انڈیا ہیروڈوٹس انڈیا، مشرق میں صحرا کے قریب میں ہیں۔ طلوع آفتاب کے علاقوں کے قریب ہیں۔
ق۔ م۔ 300 انڈیا / انڈکے (Indikē) میگاستھانیس انڈیا کے حدود میں، مشرق اور جنوب میں بحر ہے، شمال میں کوہستان اور مغرب میں بہت بڑا علاقہ، دریائے نیل کے اس جانب کی دریاؤں کا علاقہ۔
ق۔ م۔ 140. انڈوئی، انڈاؤ ارین "اس علاقے کے شمالی سرحد میں

ٹارس پہاڑیاں، یہ ٹارس پہاڑیوں پر بہت بحث ہوئی۔ مجموعی طور پر، یونانی تحریر کے مطابق، دریائے گنگا اور اس کے ارد گرد بسے شہر اور ان کے تذکرے دیکھنے پر یہ علاقہ انڈوئی اور انڈاؤ ثابت ہوا اور قرار پایا۔

320 CE یا اس کے بعد بھارتم وشنو پوران "उत्तरं यत्समुद्रस्य हिमाद्रेश्चैव दक्षिणम् ।

वर्षं तद् भारतं नाम भारती यत्र संततिः ।।"
"وہ دیش، جو سمندر (بحر) کے شمال میں، ہمالہ کے جنوب میں واقع ہے، وہی بھارت ہے؛ بھرت کے خاندان کا آبائی علاقہ۔"

ء 590. ہند اسطقری بحر فارس کے مشرق میں (بحر ہند)، اسلامی ممالک کے مشرق اور جنوب میں، اس علاقے کے شمال میں چین ہے۔ اس ہند علاقے کا طول مکران سنے منصورا تک، بودھا اور تھوڑا سندھ علاقہ سے لے کر کنوج تک، تبت تک، چار مہینے کی مسافت، اس کی چوڑائی کنوج سے بحر ہند تک تین مہینے کی مسافت۔
ء 650 پانچ انڈیس زوآنزینگ پانچ انڈیس کا دائرہ تقریباً 90,000 لنک، تینوں جانب سمندر، شمال میں برفیلی پہاڑیاں۔ شمالی حصہ کے چوڑائی زیادہ، جنوبی حصہ دبلا اور نوکیلا اور اس کی شکل نصف چاند جیسی۔
ء 944 ہند، سندھ مسعودی سندھ اور ہند کے بادشاہوں اور زبانوں کے متعلق بحث کریں۔ سندھ زبان ہندی سے الگ ہے۔
ء 1020 ہند البرونی ہند، مشرق میں چن اور مچن، مغرب میں سندھ اور کابول اور جنوب میں سمندر۔
ء 1205 ہند حسن نظامی ہند کے متعلق مکمل ملک، شمال میں پیشاور سے لے کر، جنوب میں بحر ہند تک، مغرب میں شیوان سے لے کر مشرق میں چین سے علاہدہ کرنے والی پہاڑیوں تک بسا ہوا ملک۔
ء 1298 انڈیا دا گریٹر
انڈیا دا مائنر
مڈل انڈیا
مارکوپولو گریٹر انڈیا، مابار سے کیسماکوران (کورامانڈل)، کورامانڈل سے مکران تک اور اس میں 13 مشہور ریاستیں ہیں۔ چمپائی سے متفل (چین سے کرشنا ڈیلٹا تک)۔ حبش، یہ وسطی انڈیا میں ہے۔
ء 1328 انڈیا فرئیر جورڈانس کیسے بیان کروں؟، انڈیا کی خوبی قابل تعریف ہے، میں نے نہیں دیکھا مگر یہ کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا معروف ہے۔
ء 1404 انڈیا مائنر کلیویا اسی جمعرات کو ایک سفیر مشہور دریا (اوکسس دریا) کے پاس آیا، وہ لوگ اُس کنارے پار کر گئے۔ اسی دن۔۔۔۔ شام میں ترمز شہر کو آیا، یہ علاقہ اندیا مائنر سے تعلق نہیں رکھتا، لیکن وہ اب سمرقند سے تعلق رکھتا ہے، اسے تیمور بیگ نے فتح کیا۔

جمہوریہ بھارت[ترمیم]

سرکاری نام[ترمیم]

دور حاظر کے شہر دہلی میں وزارت خانہ، شمالی رخ، سرکاری دفتر،

دستور ہند کے دفعہ ایک کے مطابق، سرکاری یا حکومتی نام

انگریزی میں انڈیا، بھارت India; Bharat
ہندی میں بھارت भारत

آٹھویں شیڈیول کی زبانوں میں نام[ترمیم]

بھارتی قومی پرچم اور قومی علامت، شہر بنگلور کے ودھان سودھا پر۔

دستور ہند کے 8 ویں شیڈیول، 23 واں دفعہ میں مذکورہ سرکاری زبانوں میں بھارت کا نام اس طرح ہے۔[5]. ہندی، انگریزی اور دیگر سرکاری زبانیں [6]

زبان زبانی شکل مختصر شکل
آسامی ভাৰত গণৰাজ্য بھاروت گونوراجیو ভাৰত بھاروت
بنگالی ভারত গণরাজ্য بھاروت گونوراجیو ভারত بھاروت
بوڈو
ڈوگری
انگریزی [7] (Republic of India) انڈیا
گجراتی ભારતીય પ્રજાસત્તાક ભારત
ہندی भारत गणराज्य بھاراتا گناراجیہ भारत بھارت
کنڑ ಭಾರತ ಗಣರಾಜ್ಯ بھاراتا گناراجیہ ಭಾರತ بھارت
کشمیری
کونکنی भारोत गोणराज (بھاروت گوناراج) भारोत (بھاروت)
میتھلی
ملیالم ഭാരതം بھارتم ഭാരതം بھارتیم
منی پوری (اور مئیتھی) ভারত গণরাজ্য ভারত
مراٹھی भारतीय प्रजासत्ताक بھارتیہ پرجا ستاک भारत بھارت
نیپالی भारत गणराज्य بھارت گناراجیہ भारत بھارت
اڈیہ ଭାରତ بھاراتا
پنجابی زبان ਭਾਰਤ ਗਣਰਾਜ بھارت گناراج
ਭਾਰਤ ਗਣਤੰਤਰ بھارت گنا تنتر
سنسکرت زبان भारत गणराज्य بھاراتا گنا راجیا भारत بھارت
سنتھالی
سندھی
تامل பாரத கனரஜ்ய بھاراتا گنا راجیا பாரத بھاراتا
تیلوگو భారత్ గణరాజ్యము بھارت گنا راجیم بھارت భారత్
اردو جمہوریہ بھارت بھارت

دیگر نام[ترمیم]

جمبو دویپ (جمبو دیپ)[ترمیم]

قدیم ہندو مت، جین، بدھ دھارمک کتابوں کی کئی کہانیوں میں جمبو دویپ کا ذکر آتا ہے۔ یہ دویپ سات دیپ یا براعظموں میں سے ایک ہے۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. India Oxford English Dictionary, 2nd edition: 1989.
  2. Reference: "India: The Ancient Past" p.113, Burjor Avari, Routledge, ISBN 0-415-35615-6
  3. P. 88 A Comparative Study of Bharati and Vallathol By Cir̲pi
  4. Hobson Jobson Dictionary
  5. "Eighth Schedule"۔ [[:en:National Informatics Centre|]] (NIC)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-06-26۔
  6. "The Union: Official Language"۔ [[:en:National Informatics Centre|]] (NIC)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-06-24۔
  7. "CIA Factbook: India"۔ CIA۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-10۔
  8. Two Kinds of Faith

بیرونی روابط[ترمیم]