بھارت کے مفاد عامہ مقدمات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایک غیرسرکاری تنظیم "آواز" کی مفاد عامہ درخواست کے بعد خاموش علاقوں (Silence Zones) کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ تاہم مذہبی علاقوں کو ابتدائی اعلامیے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عدالتی احکام کے تحت مذہبی مقامات سے نکلنے والی آوازوں کو بھی بمبئی ہائی کورٹ کے روبرو رکھا گیا تھا۔ تصویر میں سمیرہ عبدالعلی ایک مذہبی مقام کے آگے آواز کی صدابندی کرتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں۔

مفاد عامہ کا مقدمہ بھارت کا وہ عدالت کا زیرتصفیہ معاملہ ہوتا ہے جس کا مقصد عوام الناس یا کسی مخصوص زمرے کے لوگوں کے مفاد کا تحفظ ہے جس کا راست تصادم کسی بھی بااثرورسوخ شخصیت کے قول وعمل سے کیا جائے جبکہ درخواست گزار شخص یا اشخاص خود ناخواندگی، ناواقفیت، عدیم الفرصتی اور مجبوری جیسے حالات کی وجہ سے پہل نہیں کرسکتے ہیں۔ اس زمرے کے عدالتی مقدموں میں عمومًا حسبِ ذیل باتیں دیکھنے میں آتی ہیں:

  • غریبوں یا بے سہارا لوگوں کے انسانی حقوق کی پامالی۔
  • حکومت کی کوئی پالیسی کی اپنی نوعیت یا اس کی عمل آوری۔
  • ارباب مجاز کو ان کے عوامی فرائض کی انجام دہی کے لیے زور دینا۔
  • بنیادی حقوق کی پامالی۔[1]

بھارت میں شہری حقوق کے تحفظ کے ضمن میں قوانین[ترمیم]

عموماً جس شخص کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں، وہ دستور کی دفعہ 32 یا 226 کے تحت، حسب اطلاق عدالت جاسکتا ہے۔ مگر مفاد عامہ کی استثنائی صورت حال یہ ہے کہ یہ خاص حالات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے تحت کوئی بھی عام شہری کی درخواست عدالت سماعت کے لیے قبول کر سکتی ہے، بھلے ہی کسی معاملے سے اس شخص کا براہِ راست تعلق ہو یا نہ ہو۔[1]

مفاد عامہ کی تاریخ[ترمیم]

بھارت میں مفاد عامہ کی تاریخ کا آغاز 1976 سے ہوتا ہے۔ پہلے اکھل بھارتیہ کرمچاری سنگھ بنام بھارت سرکار مقدمے جج کرشنا ایّر نے مفاد عامہ کا پہلی بار استعمال کیا۔ سنگھ، جو ایک غیرتسجیل شدہ مزدور انجمن تھی، اسے مفاد عامہ داخل کرنے کا موقع ملا تھا۔ ایس پی گپتا بنام بھارت سرکار مقدمے میں اس تصور کو پوری طرح سے عدالت نے تسلیم کیا۔[1]

مفاد عامہ کے معاملوں کو فروغ دینے والے محرکات[ترمیم]

  • 1977 میں جسٹس بھگوتی نے اپنی رپورٹ میں نمائندہ مقدمات کی وکالت کی تھی۔ انہوں نے "locus standi" (موقف در معاملہ) کو بدلنے کا مطالبہ کیا۔[1]
  • عالمی سطح پرقانون کی دنیا میں لاطینی نعرہ "Ubi Jus Ibi Remedium" زور پکڑ رہا تھا۔ اس کا سادہ سا مطلب یہی ہے کہ جب ایک شخص کے حقوق کی ہو، تب متاثرہ شخص کو اسی کے مساوی حل قانونًا فراہم ہونا چاہیے۔[2]

بھارت کے کچھ مشہور مفاد عامہ کے مقدمے[ترمیم]

  • رتلام بلدیہ بنام وردھی چند مقدمے میں وارڈ نمبر 12 رتلام بلدیہ مدھیہ پردیش کے مکین اور وردھی چند نے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ رتلام کے روبرو مجرمانہ کارروائی کے ضابطے کی دفعہ 133 کے تحت بلدیہ کو عوامی فضلات کی صفائی کی صفائی کے انتظام کی درخواست کی۔ یہ معاملہ آٹھ سال تک زیردوران رہا۔ پھر یہ سپریم کورٹ گیا جہاں سے اربابِ مجاز کو چھ لاکھ روپیے کے اخراجات پر ڈرینیج نظام کی تعمیر کا حکم دیا گیا تھا۔
  • پیپلز یونین فار ڈیموکریٹیک رائٹس بنام بھارت سرکار مقدمہ دہلی میں منعقدہ ایشیاڈ گیمس 1982 سے متعلق تھا۔ اس موقع پر تعمیری کام سے جڑے لوگ بہت ہی کم اجرت پر کام کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے یونین کی جانب سے تحریرکردہ شکایتی خط ہی کو درخواست مانتے ہوئے ارباب مجاز کو اقل ترین اجرت قانون، 1948 (Minimum Wages Act, 1948) کے تحت مزدوری دینے کا حکم دیا۔
  • اوپندرا بخشی بنام اترپردیش مقدمے میں سپریم کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کے لکھے خط ہی کو درخواست مانا۔ یہ لوگ آگرہ کے حفاظتی گھر میں غیر انسانی اور ذلت آمیز صورت حال میں جی رہے تھے جو دستور کی دفعہ 21 کی صریح خلاف ورزی رتھی۔ سپریم کورٹ نے ارباب مجاز کو رہنے کے بہتر انتظامات کرنے کے احکام جاری کیے۔
  • بندھؤا مکتی مورچہ بنام بھارت سرکار مقدمہ جسے بندھؤا مزدوری مقدمہ بھی کہا جاتا ہے، اس طرح زیردوران ہوا کہ سپریم کورٹ نے مورچے کے خط کی بنیاد پر مرکزی اور ہریانہ حکومتوں کوبندھؤا مزدوروں کو چھڑانے اور انہیں مناسب اجرت دینے اور بہتر کام کے حالات فراہم کرنے کے احکام جاری کیے۔
  • اولگا ٹیلیس بنام بمبئی بلدیہ مقدمہ جسے سڑک کے کنارے کے مکینوں کا مقدمہ بھی کہا جاتا ہے،اس میں بمبئی بلدیہ قانون 1988 کی کچھ دفعات پر اعتراضات جتائے گئے تھے۔ اس سے بلدیہ جھوپڑیوں اور عام مقامات پر بسے لوگوں کو ہٹا سکتی تھی۔ استغاثہ میں روزگار سے محرومی ایک اہم فکر بتائی گئی جو دستور کی دفعہ 21 کے تحت آتا ہے۔ عدالت نے کاروباری اور غیر کاروباری علاقوں کی نشان دہی اور اول الذکر کے لیے لائسنسوں کی اجرائی کا حکم دیا۔
  • ایم سی مہتا اور دیگر بنام شری رام فوڈ اینڈ فرٹیلائزرز انڈسٹریز و دیگر کے معاملے میں درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی کہ حکومت کو حکم دے کہ وہ ضروری اقدامات اٹھائے صنعتوں سے خارج زہریلے مادوں سے بچا جا سکے۔ ان لوگوں نے صنعتی سہولت کو شہر کے کسی باہر کے مقام پر منتقل ہونے کی بھی درخواست کی۔ عدالت نے ان دونوں باتوں کو تسلیم کیا اور شری رام فوڈ کو درخواست گزار کے عدالتی اخراجات کے لیے دس ہزار روپیے دینے کے لیے کہا۔
  • ایم سی مہتا ہی نے گنگا ندی آلودگی کا مقدمہ داخل کرتے ہوئے اس آبی ذخیرے کی تطہیر کے لیے پہل کی۔
  • مدن لال شرما بنام اترپردیش ریاست مقدمے میں درخواست گزار نے عدالت کو ایک ٹیلی گرام بھیجا کہ اس کے بیٹے کو پولیس حراست میں قتل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اس ٹیلی گرام کو درخواست کے طور پر تسلیم کیا اور بھارت کے مرکزی تحقیقاتی بیورو کو اس معاملے کی جانچ کرنے کا حکم دیا۔
  • سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ بنام بھارت سرکار مقدمے میں ججوں کے تقرر اور ان کے تبادلوں کے تفصیلی احکام جاری ہوئے
  • کمل ناتھ بنام بھارت سرکار مقدمے میں سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر کی جانب سے سیاسی اثرورسوخ کے غلط استعمال کی مذمت کی گئی تھی۔ اس وقت کے مرکزی وزیر نے 1990 میں کلو منالی میں ایک تفریحی کلب بنانے کی کوشش کی تھی۔ عدالت نے عوامی اعتماد کے نقطہ نظر کی بھی اس فیصلے میں بنیاد رکھی تھی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ”Public Interest Litigation: A Tool Address Basic Human Needs”, Shivam Joshi, Journal of IPEM (Noida), Volume 8, No.1, Jan-July 2014, ISSN 0974-8903 pp 42-46.
  2. Ubi Jus Ibi Remedium Law and Legal Definition | USLegal, Inc